Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6265

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: كَانَ عَطَاءُ الْبَدْرِيِّينَ خَمْسَةُ آلَافٍ. وَقَالَ عُمَرُ: لَأُفَضِّلَنَّهُمْ عَلٰى مَنْ بَعدَهم. رَوَاهُ البُخَارِيُّ- النَّبِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ الْهَاشِمِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عُثْمَانَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ الْقُرَشِيُّ.عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْعَدَوِيُّ. عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ الْقُرَشِيُّ خَلَّفَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى ابْنَتِهٖ رُقَيَّةَ وَضَرَبَ لَهٗ بِسَهْمِهٖ.عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْهَاشِمِيُّ.- إِيَاسُ بْنُ بُكَيْرٍ. بِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ مَوْلٰى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ. حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْهَاشِمِيُّ.حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ حَلِيفٌ لِقُرَيْشٍ. أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ الْقُرَشِيُّ. حَارِثَةُ بْنُ الرُّبَيعِّ الأَنْصَارِيُّ، قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ، وَهُوَ حَارِثَةُ بْنُ سُرَاقَةَ كَانَ فِي النَّظَّارَةِ. خُبَيْبُ بْنُ عَدِيِّ الأَنْصَارِيُّ. خُنَيْسُ بْنُ حُذَافَةَ السَّهْمِيُّ. رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ الأَنْصَارِيُّ. رِفَاعَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَبُو لُبَابَةَ الأَنْصَارِيُّ. الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ الْقُرَشِيُّ.- زَيْدُ بْنُ سَهْلٍ أَبُو طَلْحَةَ الأَنْصَارِيُّ. أَبُو زَيْدٍ الأَنْصَارِيُّ. سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ الزُّهْرِيُّ. سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ الْقُرَشِيُّ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ الْقُرَشِيُّ. سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ الأَنْصَارِيُّ. ظُهَيْرُ بْنُ رَافِعٍ الأَنْصَارِيُّ. وَأَخُوهُ. عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ الْهُذَلِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ. عُبَيْدةُ بْنُ الْحَارِثِ الْقُرَشِيُّ. عبادةُ بْنُ الصَّامِتِ الأَنْصَارِيُّ. عَمْرُو بْنُ عَوْفٍ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ. عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الأَنْصَارِيُّ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ الْعَنَزِيُّ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيُّ.عُوَيْمُ بْنُ سَاعِدَةَ الأَنْصَارِيُّ. عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ. قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ الأَنْصَارِيُّ. مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ. مُعَوِّذُ بْنُ عَفْرَاءَ وَأَخُوهُ مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ أَبُو أُسَيْدٍ الأَنْصَارِيُّ مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ المُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ.مُرَارَةُ بْنُ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيُّ مَعْنُ بْنُ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيُّ.مِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍو الْكِنْدِيُّ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ.- هِلَالُ بْنُ أُميَّة الأَنْصَارِيّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ.

وعن قيس بن أبي حازم قال: كان عطاء البدريين خمسة آلاف. وقال عمر: لأفضلنهم على من بعدهم. رواه البخاري- النبي محمد بن عبد الله الهاشمي صلى الله عليه وسلم. عبد الله بن عثمان أبو بكر الصديق القرشي.عمر بن الخطاب العدوي. عثمان بن عفان القرشي خلفه النبي صلى الله عليه وسلم على ابنته رقية وضرب له بسهمه.علي بن أبي طالب الهاشمي.- إياس بن بكير. بلال بن رباح مولى أبي بكر الصديق. حمزة بن عبد المطلب الهاشمي.حاطب بن أبي بلتعة حليف لقريش. أبو حذيفة بن عتبة بن ربيعة القرشي. حارثة بن الربيع الأنصاري، قتل يوم بدر، وهو حارثة بن سراقة كان في النظارة. خبيب بن عدي الأنصاري. خنيس بن حذافة السهمي. رفاعة بن رافع الأنصاري. رفاعة بن عبد المنذر أبو لبابة الأنصاري. الزبير بن العوام القرشي.- زيد بن سهل أبو طلحة الأنصاري. أبو زيد الأنصاري. سعد بن مالك الزهري. سعد بن خولة القرشي سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل القرشي. سهل بن حنيف الأنصاري. ظهير بن رافع الأنصاري. وأخوه. عبد الله بن مسعود الهذلي عبد الرحمن بن عوف الزهري. عبيدة بن الحارث القرشي. عبادة بن الصامت الأنصاري. عمرو بن عوف حليف بني عامر بن لؤي. عقبة بن عمرو الأنصاري عامر بن ربيعة العنزي عاصم بن ثابت الأنصاري.عويم بن ساعدة الأنصاري. عتبان بن مالك الأنصاري. قدامة بن مظعون قتادة بن النعمان الأنصاري. معاذ بن عمرو بن الجموح. معوذ بن عفراء وأخوه مالك بن ربيعة أبو أسيد الأنصاري مسطح بن أثاثة بن عباد بن المطلب بن عبد مناف.مرارة بن الربيع الأنصاري معن بن عدي الأنصاري.مقداد بن عمرو الكندي حليف بني زهرة.- هلال بن أمية الأنصاري رضي الله عنهم أجمعين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قیس ابن ابی حازم سے فرماتے ہیں کہ بدر والوں کا عطیہ پانچ پانچ ہزار تھا حضرت عمر نے فرمایا کہ میں ان کو بعد والوں پر فضیلت دوں گا ۱ ∞ ؎(بخاری)ان بدر والوں کے نام جو بخاری کی جامع میں بیان کیے گئے ۲؎نبی محمد ابن عبدالله ہاشمی صلی الله علیہ وسلم ۳؎عبدالله ابن عثمان یعنی ابوبکر صدیق قرشی ۴؎عمر ابن خطاب عدوی۵؎عثمان ابن عفان قرشی جنہیں نبی صلی الله علیہ و سلم نے اپنی دختر رقیہ کی تیمار داری کے لیے پیچھے چھوڑا اور ان کے لیے حصہ الگ رکھا۶؎علی ابن ابی طالب ہاشمی۷؎ایاس ابن بکیر ۸؎بلال ابن رباح یعنی ابوبکر صدیق کے غلام۹؎حمزہ ابن عبدالمطلب ہاشمی ۱۰؎حاطب ابن ابی بلتعہ جو قریش کے حلیف تھے ۱۱ ∞ ؎ابو حذیفہ ابن عقبہ ابن ربیعہ قرشی ۱۲؎حارثہ ابن ربیع انصاری جو بدر کے دن شہید ہوئے ۱۳؎اور وہ حارثہ ابن سراقہ ہیں جو اوپی میں مقرر تھے ۱۴؎خبیب۱۵؎ابن عدی انصاری،خنیس ابن حذافہ سہمی۱۶؎رفاعہ ابن رافع انصاری۱۷؎رفاعہ ابن عبدالمنذر ابو لبابہ انصاری ۱۸؎زبیر ابن عوام قرشی۱۹؎زید ابن سہل یعنی ابوطلحہ انصاری۲۰؎ابو زید انصاری۲۱∞؎سعد ابن مالک زہری ۲۲؎سعد ابن خولہ قرشی۲۳؎سعید ابن زید ابن عمرو ابن نفیل قرشی۲۴؎سہل ابن حنیف انصاری۲۵؎ظہیر ابن رافع انصاری ۲۶؎اور انکے بھائی ۲۷؎عبدالله ابن مسعود ہذلی ۲۸؎عبدالرحمن ابن عوف زہری ۲۹؎عبیدہ ابن حارث قرشی۳۰؎عبادہ ابن صامت انصاری ۳۱ ∞؎عمرو ابن عوف جو بنی عامر ابن لوی کے حلیف تھے۳۲؎عقبہ ابن عمرو انصاری۳۳؎عامر ابن ربیعہ عنزی۳۴؎عاصم ابن ثابت انصاری۳۵؎عویمر ابن ساعدہ انصاری۳۶؎عتبان ابن مالک انصاری ۳۷؎قدامہ ابن مظعون ۳۸؎قتادہ ابن نعمان انصاری۳۹؎معاذ ابن عمرو ابن جموح ۴۰؎معوذ ابن عفراء ۴۱ ∞ ؎اور ان کے بھائی مالک ابن ربیعہ ابو اسید انصاری۴۲؎مسطح ابن اثاثہ ابن عباد ابن عبدالمطلب ابن عبدمناف۴۳؎مرارہ ابن ربیع انصاری ۴۴؎معن بن عدی انصاری۴۵؎مقداد ابن عمرو کندی جو بنی زہرہ کے حلیف ہیں ۴۶؎ہلال ابن امیہ انصاری ۴۷؎الله تعالٰی ان سب سے راضی رہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضرت عمر رضی الله عنہ نے بیت المال سے جو وظیفے مقرر فرمائے تو فی انصاری پانچ پانچ ہزار درہم سالانہ تھے دوسروں کے وظیفے اس سے کم تھے اور حضرت عمر نے اس زیادتی کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ یہ حضرات درجات میں دوسروں سے افضل ہیں۔
۲
؎اصحاب بدر تین سو تیرہ ہیں وہاں کفار ایک ہزار تھے،امام بخاری نے یہاں ۴۴ حضرات کے نام ذکر کیے ہیں کچھ حضرات کے نام متفرق مقامات پر ذکر کیے اس بخاری میں ان کا تذکرہ مختلف حیثیتوں سے کیا کچھ نام بالکل ذکر نہ کیے،یہ نام یکجا اس لیے ذکر کیے کہ ان ناموں کی برکت سے دعائیں قبول ہوتی ہیں اگر اصحاب بدر کے نام پڑھ کر دعائیں کی جائیں توان شاءاللهقبول ہوں۔ (اشعہ)یہ نام حروف تہجی کی ترتیب سے بیان ہوئے ہیں سواء حضور صلی الله علیہ و سلم اور خلفاء راشدین کے۔
۳
؎سب سے پہلے حضور انور صلی الله علیہ و سلم کا ذکر شریف کیا برکت کے لیے اور یہ بتانے کے لیے کہ حضور انور اس وقت شانہ بہ شانہ سپاہیوں کے ساتھ تھے موجودہ زمانہ کی طرح نہ تھے کہ لڑتے ہیں سپاہی دور دور رہتے ہیں بڑے لوگ۔
۴
؎آپ کا نام شریف عبدالله ہے،لقب عتیق،خطاب صدیق،قرشی ہیں،تیم ابن مرہ کے خاندان سے ہیں،اسلام سے پہلے آپ کا نام عبد رب الکعبہ تھا حضور انور نے عبدالله رکھا۔(اشعہ)آپ کے والد بھی مؤمن صحابی ہیں،ان کا نام عثمان ہے،کنیت ابو قحافہ،حضرت صدیق بدر کے دن حضور صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ سایہ کی طرح رہے،بدر کی رات عریش میں آپ کی حفاظت میں رات بھر تلوار لیے عریش کے اردگرد گھومتے رہے جدھر سے آہٹ پاتے ادھر ہی پہنچ جاتے تھے۔(مرقات) عریش وہ ہی جگہ ہے جہاں آج مسجد عریش ہے یہاں حضرات صحابہ نے حضور انور صلی الله علیہ و سلم کے لیے ایک چھپر سا بچھا دیا تھا جہاں الله کے محبوب نے رات بھر دعائیں مانگیں تھیں اس فقیر نے یہاں ایک رات گزاری ہے۔
۵
؎آپ عدی ابن کعب کی اولاد سے ہیں،آپ کے خاندان کا نام عدوی ہے،یہ قریش کا مشہور خاندان ہے،آپ کا نام عمر لقب فاروق اعظم ہے،آپ دراز قد خوبصورت تھے،آپ کی پیش گوئی توریت میں بھی ہے،قدرتی طور پر آپ کی ہیبت دلوں میں تھی، آپ کی خلافت ساڑھے دس سال ہوئی،تریسٹھ سال عمر شریف ہوئی آپ کے حالات شروع مرآت میں بیان ہوچکے۔
۶
؎آپ کے حالات مذکور ہوچکے ہیں۔آپ حکمًا بدر میں شریک ہوئے یعنی مدینہ منورہ میں آپ کا گھر آپ کے لیے بدر کا میدان بنادیا گیا آپ کا لقب ذوالنورین ہے کیونکہ آپ کے نکاح میں حضور کی دو صاحبزادیاں تھیں رقیہ و کلثوم۔
۷
؎آپ کے فضائل و کمالات ذروں اور تاروں کی طرح بے شمار ہیں،آپ کی کنیت ابو تراب ہے،لقب اسد الله الغالب،پیر کے دن حضور صلی الله علیہ و سلم پر وحی آئی منگل کو آپ ایمان لائے سات سال کی عمر میں،پست قد،سرخ رنگ،بڑی آنکھیں،گھنی داڑھی، وسیع العلم،نہایت بہادر دلیر،زاہد و سخی تھے،آپ کی خلافت پانچ سال ہے،۱۷ رمضان شریف شب جمعہ کو کوفہ میں ابن ملجم مرادی کے ہاتھوں زخمی ہوئے،۲۱ رمضان میں شہید ہوئے،عمر شریف تریسٹھ سال۔
۸
؎آپ لیثی ہیں،بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے،دارارقم میں ایمان لائے، ۳۴ھ؁ ∞میں وفات ہوئی۔
۹
؎آپ حضور کے مؤذن خاص ہیں،آپ پہلے امیہ ابن خلف کے غلام تھے آپ کو وہ سخت ایذائیں دیتا تھا،فتح مکہ کے دن کعبہ کی چھت پر پہلے آپ ہی نے اذان دی،دمشق میں ۳۰ھ؁ ∞میں وفات پائی۔(اشعہ)اس فقیر نے قبر انور کی زیارت کی ہے۔الحمد لله !۱۰؎آپ کی کنیت ابو عمارہ ہے حضور کے چچا اور رضاعی بھائی بدر میں شریک احد میں شہید ہوئے،حضور سے چار سال عمر میں زیادہ تھے،آپ کی والدہ کا نام ہالہ بنت وہب ہے یعنی حضرت آمنہ کی بہن،فرشتوں کو دیکھا گیا کہ آپ کی میت کو غسل دے رہے ہیں اور حنظلہ کو بھی۔(اشعہ)
۱ ۱∞؎
آپ کے حالات کچھ بیان ہوچکے ہیں۔آپ کی کنیت ابو عبدالله ہے،بدروخندق وغیرہ غزوات میں شریک ہوئے، ۳۰؁ ∞میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،عمر پینسٹھ سال ہوئی،آپ کا اہلِ مکہ کو خط لکھنا وہ پکڑا جانا پہلے مذکور ہوچکا ہے۔
۱۲
؎آپ کے نام میں اختلاف ہے۔مشہور یہ ہے کہ آپ کا نام ہشام ابن عتبہ ابن ربیعہ ابن عبدالشمس ہے،فضلاء صحابہ میں سے ہیں،صاحب ہجرتین ہیں،غزوہ یمامہ میں شہید ہوئے،تریپن۵۳ سال عمر ہوئی۔(اشعہ)
۱۳
؎ربیع حارثہ کی ماں کا نام شریف ہے،والد کا نام سراقہ ہے،آپ انصار کے پہلے شہید ہیں۔
۱۴
؎آج کل کی زبان میں نظارہ کا ترجمہ اوپی ہے جو جنگ میں کسی اونچی جگہ بیٹھ کر دشمن کی نگرانی کرتا ہے اور اپنی فوج کو مطلع کرتا ہے۔
۱۵
؎آپ اوسی ہیں،بدر میں شریک ہوئے،غزوہ رجیع ۳ھ؁ ∞ میں کفار کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے،انہوں نے آپ کو مکہ معظمہ لاکر بنو حارث کے ہاتھ فروخت کردیا،آپ نے بدر کے دن بنو حارث کے سردار کو قتل کیا تھا اس کی اولاد نے آپ کو خریدا اور سولی دی، آپ پہلے سولی یافتہ ہیں آپ کی سولی کا واقعہ بہت مشہور ہے،آپ نے سولی کے وقت عرض کی کہ خدایا کوئی نہیں جو میرا سلام میرے حبیب تک پہنچادے تو ہی پہنچادے چنانچہ حضرت جبریل نے آپ کا سلام حضور تک پہنچایا۔ (اشعہ) آپ کے متعلق یہ شعر ہیں
لے سجناں میں توڑ نباہی جان دتی راہ تیرے حشر دہاڑے شرماں تلیوں رکھ لیں پردے میرے
مردے ویلے یار نہ ڈٹھا ایہہ افسوس ودہیرا چنگا سجناں کدوں کرینگا فیر میرے دل پھیرا
۱۶
؎آپ بی بی حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما کے پہلے خاوند ہیں،غزوہ بدر میں شریک ہوئے احد میں زخمی ہوئے،مدینہ منورہ آکر اس زخم سے وفات پائی،پہلے حبشہ کے مہاجر تھے پھر مدینہ منورہ کے مہاجر ہوئے،ان کی وفات کے بعد بی بی حفصہ حضور انور کے نکاح میں آئیں۔(مرقات،اشعہ)
۱۷
؎دونوں باپ بیٹے صحابی انصاری ہیں،بدر اور تمام غزوات میں شامل رہے،جنگ جمل میں حضرت علی کے ساتھ تھے،امیر معاویہ کی شرو ع سلطنت میں فوت ہوئے۔
۱۸
؎ابولبابہ انہیں رفاعہ کی کنیت ہے،آپ انصاری ہیں،بیعت عقبہ میں شریک ہوئے۔قوی یہ ہے کہ آپ کو بدر کے موقعہ پر مدینہ منورہ میں حفاظت کے لیے رکھا گیا مگر غنیمت سے حصہ دیا گیا،حضرت علی کی خلافت میں وفات ہوئی،ایک موقعہ پر اپنے کو ستون سے باندھ دیا تھا اب تک اس ستون کا نام ستون ابولبابہ یا ستون توبہ ہے مسجد نبوی شریف میں ہے۔(اشعہ،مرقات)
۱۹
؎آپ حضور کے پھوپھی زاد بھائی ہیں صدیق اکبر کے داماد یعنی صفیہ کے بیٹے اسماء کے خاوند،جنگ جمل میں حضرت عائشہ کے ساتھ شہید ہوئے،وادی سباع میں دفن ہوئے،پھر وہاں سے آپ کی میت بصرہ پہنچائی گئی ان کی قبر مشہور ہے۔ آپ کو ابن جرموز نے جو حضرت علی کا سپاہی تھا شہید کیا پھر حضرت علی کو اس نے اس قتل کی بشارت دی آپ نے فرمایا تو دوزخی ہے میں نے حضور کو فرماتے سنا کہ زبیر کا قاتل دوزخی ہوگا۔(اشعہ)
۲۰
؎آپ حضرت انس کے سوتیلے والد ام سلیم کے خاوند ہیں،زید ابن سہل آپ کا نام ہے،ابو طلحہ کنیت،بارہا آپ کے حالات بیان ہوچکے ہیں۔بیعت عقبہ اور بدر وغیرہ میں شامل ہوئے،بڑے امیروسخی تھے ۳ ۱؁ ∞ اکتیس میں وفات ہوئی،ستتر سال عمر ہوئی۔ (مرقات)
۲ ۱∞؎
آپ قرآن کے جامع اور قرآن کے حافظ صحابی ہیں آپ کے نام میں اختلاف ہے یا سعد ابن عمر ہے یا قیس ابن سکن۔
۲۲
؎آپ ہی کو سعد ابن وقاص کہا جاتا ہے،عشرہ مبشرہ سے ہیں،حضرت ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر اسلام لائے،حضور نے آپ سے فرمایا تھا اے سعد تیر مار تجھ پر میرے ماں باپ فدا،مقام عقیق میں وفات پائی،مدینہ منور ہ میں دفن ہوئے ۵۵؁ ∞پچپن ہجری امیر معاویہ کی سلطنت میں وفات ہوئی،ستر سال سے زیادہ عمر ہوئی،بہت ممالک اسلامیہ کے فاتح آپ ہی ہیں۔
۲۳
؎آپ یمنی ہیں،حجۃ الوداع میں مکہ مظمہ میں وفات پائی۔(اشعہ)
۲۴
؎آپ حضرت عمر کے بہنوئی ہیں،آپ ہی کے ذریعہ حضرت عمر ایمان لائے،مقام عقیق میں وفات پائی ۵۰؁ ∞پچاس میں،عمر شریف سترسال سے زیادہ ہوئی،عشرہ مبشرہ میں سے ہیں،آپ کے والد زید ابن عمر نے حضور سے ملاقات کی ہے مگر ظہور نبوت سے پہلے انہوں نے زمانہ جاہلیت میں بتوں کے نام کے ذبیحہ نہ کھائے انہیں موحد جاہلیت کہا جاتا ہے۔
۲۵
؎آپ اوسی ہیں،بدر وغیرہ تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،حضرت علی نے آپ کو مدینہ منورہ کا حاکم بنایا پھر فارس کا، کوفہ میں ۸۳؁ ∞میں وفات پائی،حضرت علی نے آپ کی نماز پڑھائی۔
۲۶
؎آپ اوسی ہیں،بیعت عقبہ ثانیہ اور بدر وغیرہ میں حاضر ہوئے۔
۲۷
؎ان کے بھائی کا نام مظہر ابن رافع ہے۔
۲۸
؎آپ کے فضائل بے شمار ہیں پہلے ذکر ہوچکے۔آپ خلافت فاروقی اور شروع خلافت عثمانی میں کوفہ کے افسر مال رہے، پھر مدینہ منورہ میں رہے، ۳۲؁ ∞میں وفات ہوئی،جنت البقیع میں دفن ہوئے،ساٹھ سال سے زیادہ عمر ہوئی۔
۲۹
؎آپ بھی عشرہ مبشرہ سے ہیں،زہرہ ابن کلاب کی اولاد سے ہیں،واقعہ فیل سے دس سال بعد ولادت ہوئی،ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے ہاتھ پر ایمان لائے،اولًا حبشہ کی طرف ہجرت کی،احد میں بیس سے زیادہ زخم کھائے،آپ کے پیچھے حضور نے فجر کی ایک رکعت پڑھی ہے،غزوہ تبوک میں حاضر نہ ہوئے اس کے کفارہ میں چار ہزار درہم خیرات کیے پھر چالیس ہزار دینار پھر پانچ سو گھوڑے پانچ سو اونٹ غازیوں کو دیئے،حضور کی وفات کے بعد ازواج پاک کی بہت ہی خدمت کی، آپ کی چار بیویاں تھیں انہیں دس ہزار دینار میراث ملی،خلافت عثمان میں وفات ہوئی۔(اشعہ)
۳۰
؎آپ کی کنیت ابوالحارث ہے،قدیم الاسلام ہیں بدر کے دن ولید ابن عتبہ کو آپ نے للکار کر مقابلہ میں بلایا اور دونوں ایک دوسرے کے وار سے فوت ہوئے۔(۱شعہ)
۳ ۱∞؎
آپ مشہور صحابی ہیں،انصار کے نقیب تھے،دونوں بیعت عقبہ میں شریک ہوئے،آپ حضور صلی الله علیہ و سلم کے زمانہ میں جامعین قرآن میں سے ہیں،بیت المقدس میں وفات پائی بیاسی سال عمر ہوئی۔
۳۲
؎آپ قدیم الاسلام ہیں،آپ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی"تَوَلَّوۡا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمْعِ"مدینہ منورہ میں رہے، امیر معاویہ کے آخری زمانہ میں وفات ہوئی۔
۳۳
؎آپ کی کنیت ابو مسعود انصاری ہیں،بدری ہیں،مشہور صحابی ہیں،بعض نے فرمایا کہ آپ کا گھر بدر میں تھا غزوہ بدر میں شریک نہ ہوئے لہذا لفظ بدری سے امام بخاری کو دھوکا ہواوالله اعلم!۴ ۱؁ ∞اکتالیس میں وفات ہوئی۔(مرقات و اشعہ)
۳۴
؎آپ قبیلہ بنی عنزہ سے ہیں،عنزہ آپ کے خاندان کے مؤرث اعلٰی کا نام ہے،صاحب ہجرتین ہیں،بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے، ۳۲؁ ∞بتیس میں وفات پائی۔
۳۵
؎آپ کی کنیت ابوسلیمان ہے،انصاری ہیں،بدر میں شریک ہوئے،غزوہ رجیع میں آپ ہی کا واقعہ ہے کہ مشرکین نے جب آپ کا سر کاٹنا چاہا تو الله تعالٰی نے آپ کی لاش کی حفاظت کرنے کے لیے شہد کی مکھیاں اس پر بھیج دیں جس سے مشرکین آپ کی لاش تک نہ پہنچ سکے پھر لاش مبارک کو سیلاب بہا کر لے گیا،آپ کی قبر کہیں نہیں بنی،بنو لحیان نے آپ کو شہید کیا تھا۔(مرقات،اشعہ)
۳۶
؎آپ انصاری اوسی ہیں،بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے،آپ کی وفات بعض کہتے ہیں کہ حضور انور کی حیات شریف میں ہی ہوگئی تھی،بعض کہتے ہیں کہ آپ کے بعد ۶۶؁ ∞چھیاسٹھ سال عمر پائی۔(اشعہ)
۳۷
؎آپ خزرجی اوسی ہیں،بدر میں حاضر ہوئے باوجودیکہ نابینا تھے،آپ ہی کا یہ واقعہ ہے کہ آپ نے عرض کیا تھا کہ میں اپنی معذوری کی وجہ سے مسجد مقدس میں حاضر نہیں ہوسکتا ہوں حضور میرے گھر تشریف لا کر ایک گوشہ میں دو رکعت ادا فرمالیں تاکہ میں وہاں نماز پڑھا کرو ں وہ جگہ مسجد خانہ بنالوں حضور انور نے قبول فرمایا تھا،آپ کی وفات امیر معاویہ کے زمانہ میں ہوئی رضی الله عنہ۔(اشعہ)
۳۸
؎آپ حضرت عبدالله ابن عمر کے ماموں ہیں،دو ہجرتوں والے ہیں،بدر اور تمام غزوات میں شریک ہوئے،حضرت عمر نے آپ کو بحرین کا حاکم مقرر فرمایا پھر معزول فرما دیا، ۶۸؁ ∞ارسٹھ سال عمر پائی، ۳۶؁ ∞چھتیس میں وفات ہوئی۔(اشعہ)
۳۹
؎آپ حضرت ابوسعید خدری کے اخیافی بھائی ہیں،بیعت عقبہ اور بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے، ۲۳؁ ∞تئیس ہجری میں وفات ہوئی،حضرت عمر نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی۔(مرقات)
۴۰
؎آپ خزرجی انصاری ہیں،بیعت عقبہ اور بدر وغیرہ میں شریک ہوئے،آپ ہی نے معاذ ابن عفراء کے ساتھ مل کر ابو جہل کو قتل کیا،آپ نے ابوجہل کا پاؤں کاٹ کر اسے زمین پر گرایا عکرمہ ابن ابوجہل نے آپ ہی کا ہاتھ کاٹ دیا جو بعد میں حضور نے اپنے لعاب شریف سے جوڑ دیا۔
۴ ۱∞؎
آپ معاذ کے بھائی ہیں،عفراء آپ کی ماں کا نام ہے،جب ابوجہل زمین پر گر گیا تو اس کی گردن آپ نے کاٹی پھر وہ سسک رہا تھا کہ اس خبیث کا سر حضرت عبدالله ابن مسعود نے تن سے جدا کیا۔غرضکہ ابوجہل کے قتل میں تین صحابہ کی جماعت شریک ہوئی الله نے اس عظیم الشان کارخیر میں ایک جماعت کو حصہ دیا،ان کے ایک بھائی عوف ہیں جو بدرمیں شہید ہوئے۔ (مرقات)
۴۲
؎یہ بھی حضرت معاذ و معوذ کے بھائی ہیں ان تینوں کی ماں عفراء بنت عبید ابن ثعلبہ ہیں،بدرواحد اور تمام غزوات میں شامل ہوئے، ۶۰؁ ∞ساٹھ میں وفات پائی،۷۷ ستتر سال عمر ہوئی آخر میں نابینا ہوگئے تھے،سب سے آخری بدری آپ ہی فوت ہوئے،آپ کی وفات سے زمین اہل بدر صحابہ سے خالی ہوگئی۔(اشعہ،مرقات)مالک نام ہے اور ابو اسید کنیت ہے۔
۴۳
؎آپ کا نام عوف ہے،مسطح آپ کا لقب ہے،بدر احد اور تمام غزوات میں شریک ہوئے،ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کی تہمت میں آپ بھی شریک ہوگئے تھے،آپ کو تہمت کی سزا اسی کوڑے لگائے گئے،جب آپ کا وظیفہ حضرت ابوبکر صدیق نے بند فرما دیا تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"وَ لَا یَاۡتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنۡکُمْ وَ السَّعَۃِ اَنۡ یُّؤْتُوۡۤا اُولِی الْقُرْبٰی"تب آپ نے وظیفہ جاری کردیا اسی آیت میں حضرت صدیق کو اولو الفضل یعنی بعد رسول ساری مخلوق سے افضل فرمایا گیا۔ہم نے عرض کیا ہے؎تیرے مداح نبی تیرا ثنا گو الله حق اولو الفضل کہے ا ور پیمبر صدیق
مسطح کی وفات ۳۴ھ
؁ ∞میں ہوئی ۵۶ سال عمر پائی۔(مرقات وغیرہ)
۴۴
؎آپ انصاری عامری ہیں تیسرے وہ ہیں جو غزوہ تبوک سے رہ گئے تھے جن کا بائیکاٹ کیا گیا تھا پھر ان کی توبہ رب نے قبول فرمائی"وَعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیۡنَ خُلِّفُوۡا حَتّٰۤی اِذَا ضَاقَتْ عَلَیۡهِمُ الۡاَرْضُ"وہ تین حضرات حضرت کعب ابن مالک،ہلال ابن امیہ،مرارہ ابن ربیع ہیں اسی آیت کی وجہ سے سورۃ کا نام سورۂ توبہ ہے۔
۴۵
؎آپ بدری صحابی ہیں،تمام غزوات میں شریک ہوئے،خلافت صدیقی میں غزوہ یمامہ میں شریک ہوئے،حضور صلی الله علیہ و سلم نے آپ کو حضرت زید ابن خطاب کا بھائی بنایا یہ دونوں ایک ہی دن میں شہید ہوئے۔
۴۶
؎مقداد کے والد عمرو نے قبیلہ بنی کندہ سے معاہدہ کیا تھا ان کے حلیف تھے اس لیے انہیں کندی کہا جاتا ہے۔حضرت مقداد نے مقام جرف میں وفات پائی یعنی مدینہ منورہ سے تین میل دور وہاں سے آپ کی میت جنت البقیع میں لائی گئی جہاں آپ دفن ہوئے، ۳۳ھ؁ ∞تینتیس میں وفات ہوئی ستر سال عمر پائی۔
۴۷
؎آپ ہی تیسرے وہ صاحب ہیں جو غزوہ تبوک میں حاضر نہ ہوسکے انہوں نے ہی اپنی بیوی کو شریک ابن صحماء سے تہمت لگائی تھی اور لعان کیا تھا۔یہ کل پینتالیس نام ہوئے،ان ناموں کی توسل سے جو دعا مانگی جاوےان شاءاللهقبول ہوگی،بعض عارفین اصحابِ بدر کے نام کے وظیفے پڑھتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6265