Main Icon

باب :صدقہ فطر کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1815

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيْرٍ عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّكَرِ وَالأُنْثٰى وَالصَّغِيْرِ وَالْكَبِيْرِ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدّٰى قَبْلَ خُرُوْجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن ابن عمر قال: فرض رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- زكاة الفطر صاعا من تمر، أو صاعا من شعير على العبد والحر والذكر والأنثى والصغير والكبير من المسلمين، وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع چھوہارے یا ایک صاع ۱؎ جو ہر غلام،آزاد،مرد،عورت چھوٹے اور بڑے مسلمان پر ۲؎ مقرر فرمایا ۳؎ اور حکم دیا کہ لوگوں کے عید گاہ جانے سے پہلے ادا کردیا جائے ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎صاع عرب شریف کا مشہور پیمانہ ہے(ٹوپا)جس سے دانے ماپ کر فروخت ہوتے ہیں جیسے ہمارے ہاں ہر علاقہ کا سیر مختلف ہے، ایسے ہی عراق،حجاز اور یمن کے صاع بھی مختلف ہیں،فطرہ میں حجازی صاع جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مروج تھا معتبر ہے۔تحقیق یہ ہے کہ وہ صاع تین سو اکیاون ۳۵۱ روپیہ بھر ہے یعنی ہمارے پاکستانی اسی۸۰ روپیہ کے سیر کے چار سیر،ڈیڑھ پاؤ ایک تولہ لہذا اگر فطرہ میں جَو دےتو ایک شخص کی طرف سے اتنے دے اور اگر گیہوں دے تو آدھا صاع یعنی دو سیر تین چھٹانک چھ ماشہ۔اس کی تحقیق فتاوٰی رضویہ شریف میں ملاحظہ کریں۔
۲
؎خیال رہے کہ صدقہ فطر ایک اعتبار سے بدنی عبادت ہے کہ ایک بدنی عبادت روزے کی تکمیل کے لیے ہے اسی لیے غلام پربھی واجب ہوا جیسے نماز روزہ اور دوسرے لحاظ سے مالی عبادت ہے کہ وہ مال سے ادا ہوتا ہے اس لیے غلام کا فطرہ اس کے مولیٰ پر واجب ہوا نہ کہ خود غلام پر،تیسری حیثیت سے یہ مالی ٹیکس کی حیثیت رکھنا ہے جیسے پیداوار کا خراج اس لیے یہ نابالغ بچے پر بھی واجب ہوا مگر بچے کا فطرہ باپ دے گا،ہاں اگر بچہ خود غنی ہو تو اس کے اپنے مال سے دیا جائے گا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب بچے پر روزہ،نماز،زکوۃ فرض نہیں تو فطرہ کیوں واجب ہوا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وجوب فطرہ کا سبب بدنی علم ہے نہ کہ مال،مسلم مال تو وجوب فطرہ کی شرط ہے کیونکہ اسے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بندہ کی طرف نسبت دی۔
۳
؎اس حدیث سے امام شافعی رضی اللہ عنہ نے دو مسئلے ثابت فرمائے ہیں:ایک یہ کہ فطرہ فرض ہے کیونکہ یہاں لفظفَرَضَ رَسُوْلُ اللهِہے۔دوسرے یہ کہ ہر امیروغریب پر فرض ہے جس کے پاس ایک دن کے کھانے سے بچا ہوا ہو کیونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں غنی کی قید نہ لگائی۔امام اعظم ابوحنیفہ پہلے مسئلہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہاں فَرَضْلغوی معنے میں ہے یعنی مقرر فرمائی،رب تعالٰی فرماتاہے:"قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیۡہِمْ فِیۡۤ اَزْوٰجِہِمْ"۔اور اگر شرعی فرض ہی مراد ہو یعنی لازم کردینا تب بھی حدیث ظنی ہے اور فرضیت کے لیے دلیل قطعی چاہیئے،لہذا اس فرض سے وجوب ثابت ہوگا نہ کہ فرضیت اور دوسرے مسئلہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس اطلاق سے تو یہ حدیث تمہارے بھی خلاف ہےکیونکہ یہاں ایک دن کی روٹی ہے زائد ملکیت کا بھی ذکر نہیں چاہیے کہ ہر آزاد و غلام پر فطرہ واجب ہو حتی کہ فقیر بے نوا بے دست و پا بھیک مانگ کر فطرہ دے،پھر لطف یہ ہے کہ جب ہر فقیر پر فطرہ دینا فرض ہوا تو فطرہ لے گا کون، امام اعظم کی دلیل وہ حدیث ہے جو امام احمد نے اپنی مسند میں اور امام بخاری نے تعلیقًا بخاری شریف میں نقل فرمائی کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"لَا صَدَقَةَ إِلاَّ عَنْ ظَهْرِ غِنًى" صدقہ تو نگری سے واجب ہوتا ہے اب تو نگری کی کوئی حد ہونا چاہیے وہ نصاب کی ملکیت ہے۔
۴
؎یہ حکم استحبابی ہے۔بہتر یہ ہے کہ فطرہ عید کے دن نکالے اور عید گاہ جانے سے پہلے دے،اگر نماز عید کے بعد دیا تب بھی جائز ہے اور اگر عید سے ایک دو دن پہلے دے دیا جب بھی درست ہے۔چنانچہ بخاری شریف میں حضرت ابن عمر کی ایک دراز روایت نقل کی جس کے آخر میں ہے"وَكَانُوْا يُعْطُوْنَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ"یعنی صحابہ عید سے ایک دو دن پہلے فطرہ دے دیتے تھے مگر عید کے دن نماز سے پہلے دینا بہتر ہے تاکہ فقراء بھی عید منالیں۔(ازمرقات وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1815