- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1815
باب :صدقہ فطر کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1815
زکوۃ کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيْرٍ عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّكَرِ وَالأُنْثٰى وَالصَّغِيْرِ وَالْكَبِيْرِ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدّٰى قَبْلَ خُرُوْجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عن ابن عمر قال: فرض رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- زكاة الفطر صاعا من تمر، أو صاعا من شعير على العبد والحر والذكر والأنثى والصغير والكبير من المسلمين، وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة. متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع چھوہارے یا ایک صاع ۱؎ جو ہر غلام،آزاد،مرد،عورت چھوٹے اور بڑے مسلمان پر ۲؎ مقرر فرمایا ۳؎ اور حکم دیا کہ لوگوں کے عید گاہ جانے سے پہلے ادا کردیا جائے ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎صاع عرب شریف کا مشہور پیمانہ ہے(ٹوپا)جس سے دانے ماپ کر فروخت ہوتے ہیں جیسے ہمارے ہاں ہر علاقہ کا سیر مختلف ہے، ایسے ہی عراق،حجاز اور یمن کے صاع بھی مختلف ہیں،فطرہ میں حجازی صاع جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مروج تھا معتبر ہے۔تحقیق یہ ہے کہ وہ صاع تین سو اکیاون ۳۵۱ روپیہ بھر ہے یعنی ہمارے پاکستانی اسی۸۰ روپیہ کے سیر کے چار سیر،ڈیڑھ پاؤ ایک تولہ لہذا اگر فطرہ میں جَو دےتو ایک شخص کی طرف سے اتنے دے اور اگر گیہوں دے تو آدھا صاع یعنی دو سیر تین چھٹانک چھ ماشہ۔اس کی تحقیق فتاوٰی رضویہ شریف میں ملاحظہ کریں۔
۲؎خیال رہے کہ صدقہ فطر ایک اعتبار سے بدنی عبادت ہے کہ ایک بدنی عبادت روزے کی تکمیل کے لیے ہے اسی لیے غلام پربھی واجب ہوا جیسے نماز روزہ اور دوسرے لحاظ سے مالی عبادت ہے کہ وہ مال سے ادا ہوتا ہے اس لیے غلام کا فطرہ اس کے مولیٰ پر واجب ہوا نہ کہ خود غلام پر،تیسری حیثیت سے یہ مالی ٹیکس کی حیثیت رکھنا ہے جیسے پیداوار کا خراج اس لیے یہ نابالغ بچے پر بھی واجب ہوا مگر بچے کا فطرہ باپ دے گا،ہاں اگر بچہ خود غنی ہو تو اس کے اپنے مال سے دیا جائے گا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب بچے پر روزہ،نماز،زکوۃ فرض نہیں تو فطرہ کیوں واجب ہوا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وجوب فطرہ کا سبب بدنی علم ہے نہ کہ مال،مسلم مال تو وجوب فطرہ کی شرط ہے کیونکہ اسے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بندہ کی طرف نسبت دی۔
۳؎اس حدیث سے امام شافعی رضی اللہ عنہ نے دو مسئلے ثابت فرمائے ہیں:ایک یہ کہ فطرہ فرض ہے کیونکہ یہاں لفظفَرَضَ رَسُوْلُ اللهِہے۔دوسرے یہ کہ ہر امیروغریب پر فرض ہے جس کے پاس ایک دن کے کھانے سے بچا ہوا ہو کیونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں غنی کی قید نہ لگائی۔امام اعظم ابوحنیفہ پہلے مسئلہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہاں فَرَضْلغوی معنے میں ہے یعنی مقرر فرمائی،رب تعالٰی فرماتاہے:"قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیۡہِمْ فِیۡۤ اَزْوٰجِہِمْ"۔اور اگر شرعی فرض ہی مراد ہو یعنی لازم کردینا تب بھی حدیث ظنی ہے اور فرضیت کے لیے دلیل قطعی چاہیئے،لہذا اس فرض سے وجوب ثابت ہوگا نہ کہ فرضیت اور دوسرے مسئلہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس اطلاق سے تو یہ حدیث تمہارے بھی خلاف ہےکیونکہ یہاں ایک دن کی روٹی ہے زائد ملکیت کا بھی ذکر نہیں چاہیے کہ ہر آزاد و غلام پر فطرہ واجب ہو حتی کہ فقیر بے نوا بے دست و پا بھیک مانگ کر فطرہ دے،پھر لطف یہ ہے کہ جب ہر فقیر پر فطرہ دینا فرض ہوا تو فطرہ لے گا کون، امام اعظم کی دلیل وہ حدیث ہے جو امام احمد نے اپنی مسند میں اور امام بخاری نے تعلیقًا بخاری شریف میں نقل فرمائی کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"لَا صَدَقَةَ إِلاَّ عَنْ ظَهْرِ غِنًى" صدقہ تو نگری سے واجب ہوتا ہے اب تو نگری کی کوئی حد ہونا چاہیے وہ نصاب کی ملکیت ہے۔
۴؎یہ حکم استحبابی ہے۔بہتر یہ ہے کہ فطرہ عید کے دن نکالے اور عید گاہ جانے سے پہلے دے،اگر نماز عید کے بعد دیا تب بھی جائز ہے اور اگر عید سے ایک دو دن پہلے دے دیا جب بھی درست ہے۔چنانچہ بخاری شریف میں حضرت ابن عمر کی ایک دراز روایت نقل کی جس کے آخر میں ہے"وَكَانُوْا يُعْطُوْنَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ"یعنی صحابہ عید سے ایک دو دن پہلے فطرہ دے دیتے تھے مگر عید کے دن نماز سے پہلے دینا بہتر ہے تاکہ فقراء بھی عید منالیں۔(ازمرقات وغیرہ)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1815