Main Icon

باب:نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3080

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ؛ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ" مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج؛ فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم؛ فإنه له وجاء" متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے اے جوانو کی جماعت ۱؎تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھے وہ ضرور نکاح کرے ۲؎کیونکہ نکاح نگاہ نیچی کرنے والا ہے اور شرمگاہ کا محافظ ۳؎اور جو طاقت نہ رکھے وہ روزے لازم کرے کہ یہ روزے اس کی حفاظت ہیں ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎معشر عشیرۃسے بنا بمعنی کنبہ،قبیلہ،گروہ یہاں تیسرے معنی میں ہے یعنی گروۂ شباب،شاب بمعنی جوان کی جمع ہے،فاعل کی جمع بروزن فعال آتی ہے۔ بلوغ سے لے کر تیس سال کی عمر جوانی کی ہے، شوافع کے نزدیک چالیس سال تک جوانی ہے،انسانی عمر کی حدود اور ان کے نام ہماری تصنیف حاشیۃ القرآن میں دیکھئے ۔جوانوں سے اسی لیے خطاب فرمایا کہ اگلا مضمون ان ہی کے لائق ہے۔
۲
؎باء،بات،باھت،باہان چاروں لفظ کے ایک ہی معنی ہیں گھر یا منزل،پھر صحبت یا نکاح پر بھی یہ لفظ بولا جانے لگا اس کے لیے گھر کی ضرورت ہوتی ہے،اسی سے ہےباءٌیبوءلوٹنے کے معنی میں یہاں مضاف پوشیدہ ہے یعنی جو نکاح کے مصارف کی طاقت رکھے یہ امر نسبت کے لیے ہے۔یعنی جس میں نکاح کے مصارف برداشت کرنے کی طاقت ہو وہ نکاح کرے،یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ نوافل سے نکاح افضل ہے،شوافع کے ہاں نوافل میں مشغول رہنا نکاح سے افضل ہے۔
۳
؎یعنی بیوی والا آدمی پاک دامن و نیک ہوتا ہے نہ تو غیر عورتوں کو تکتا ہے،نہ اس کا دل بدکاری کی طرف مائل ہوتا ہے،غرضیکہ نکاح آدمی کے لیے حفاظتی قلعہ ہے۔۴؎وِجَاءٌکے معنے ہیں خصیے کوٹ دینا جس سے نامرد ہوجائے یعنی روزہ انسان کی شہوت کو اس طرح مار دیتا ہے جیسے خصی کردینا، کیونکہ بھوک سے نفس ضعیف ہوتا ہے اور شہوت قوت نفس سے زیادہ ہوتی ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ نفس کو توڑنے کے لیے بھوک سے زیادہ کوئی چیز نہیں اسی لیے قریبًا ہر دین میں روزہ کا حکم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3080