Main Icon

باب:تصویروں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4489

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي طَلْحَة قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَصَاوِيرُ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي طلحة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا تصاوير» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوطلحہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس گھر میں فرشتے نہیں آتے جس میں کتاہو نہ اس گھر میں جس میں تصویریں ہوں ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام سہل ابن زید ہے،انصاری ہیں،حضرت انس کے سوتیلے والد مگر اپنی کنیت میں مشہور ہیں،آپ کا مزار بصرہ میں ہے، فقیر نے زیارت کی ہے۔
۲
؎ملائکہ سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں،حافظین کاتبین اور عذاب کے فرشتے تو ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں۔کتے سے مراد غیرضروری کتا ہے اور تصاویر سے مراد جاندار کی تصویریں ہیں جو شوقیہ بلاضرورت ہوں اور احترام سے رکھی جاویں یہ قیدیں ضروری یاد رہیں لہذا نوٹ روپیہ پیسہ کی تصاویر جو ضروری ہیں اور فرش و بستر پر تصاویر جو پاؤں سے روندی جاویں جائزہے ان کی وجہ سے فرشتے آنے سے نہیں روکتے،بچوں کی گڑیاں ان سے کھیلنا بچوں کے لیے جائز ہے مگر اس کی تجارت ممنوع ہے مذہب امام مالک،بعض نے فرمایا کہ گڑیا سازی کی احادیث منسوخ ہیں مگر صحیح یہ ہے کہ غیرمنسوخ ہیں۔(مرقات)اور بچیوں کا گڑیاں بنانا ان سے کھیلنا درست ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4489