Main Icon

باب:مہر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3202

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنِّي وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ طَوِيلًا، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ فِيهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ: "هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا؟ " قَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا قَالَ: "فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ" فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجدْ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ" قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا، فَقَالَ: "قد زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: "انْطَلِقْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَعَلِّمْهَا مِنَ الْقُرْآنِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن سهل بن سعد: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءته امرأة فقالت: يا رسول الله! إني وهبت نفسي لك، فقامت طويلا، فقام رجل فقال: يا رسول الله! زوجنيها إن لم تكن لك فيها حاجة، فقال: "هل عندك من شيء تصدقها؟ " قال: ما عندي إلا إزاري هذا قال: "فالتمس ولو خاتما من حديد" فالتمس فلم يجد شيئا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "هل معك من القرآن شيء" قال: نعم سورة كذا وسورة كذا، فقال: "قد زوجتكها بما معك من القرآن"وفي رواية: قال: "انطلق فقد زوجتكها فعلمها من القرآن". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ۱؎سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک عورت آئی ۲؎بولی یا رسول امیں نے اپنی جان آپ کو ہبہ کی ۳؎پھر بہت دیر کھڑی رہی ۴؎تو ایک آدمی اٹھ کر بولا یا رسول ااس کا نکاح مجھ سے کر دیجئے اگر حضور کو اس کی ضرورت نہ ہو ۵؎تو حضور نے فرمایا کیا تیرے پاس کچھ ہے جو تو اسے مہر دے ۶؎بولا میرے پاس اس تہبند کے سوا کچھ نہیں فرمایا تلاش تو کر اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو۷؎اس نے ڈھونڈا مگر کچھ نہ پایا ۸؎تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تیرے ساتھ کچھ قرآن بھی ہے ۹؎بولا ہاں فلاں فلاں سورۃ چنانچہ حضور نے فرمایا کہ میں نے اس کا نکاح تجھ سے کردیا اس قرآن کی وجہ سے جو تجھے یاد ہے ۱۰؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا جاؤ میں نے تمہارا نکاح اس سے کردیا لہذا اسے قرآن سکھاؤ ۱۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام پہلے حزن تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سہل رکھا،آپ کی کنیت ابوالعباس ہے، انصاری ہیں، ساعدی ہیں، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر پندرہ سال تھی ۹۱ھ؁ ∞ میں آپ کی وفات ہے مدینہ منورہ میں آخری صحابی آپ ہی رہ گئے تھے۔(اکمال)
۲
؎یہ بی بی صاحبہ یا تو میمونہ بنت حارث تھیں یا زینب بنت خزیمہ یا ام شریک بنت جابر یا خولہ بنت حکیم تھیں وااعلم۔(مرقات)
۳
؎یعنی آپ مجھے بغیر مہر اپنی زوجیت میں قبول فرمالیں،یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیات سے ہے۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ امْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنۡ وَّہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ"اور فرماتاہے:"خَالِصَۃً لَّکَ مِنۡ دُوۡنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔اس سے معلوم ہوا لفظ ہبہ سے نکاح درست ہے کہ یہ کلمہ ان بی بی صاحبہ کی طرف سے نکاح کا ایجاب تھا نکاح کا تکملہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے قبول پر موقوف تھا۔
۴
؎مگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ اس سے نکاح کرنا منظور نہ تھا اور انکار فرمایا نہیں تاکہ ان بی بی کو شرمندگی نہ ہو۔
۵
؎یا اس طرح مجھ سے نکاح فرمادیں کہ اسے اس نکاح پر راضی کردیں یا حضورسلطان المسلمینہیں اور جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہوتا ہے لہذا حدیث پہ یہ اعتراض نہیں کہ ان بی بی صاحبہ نے حضور کو دوسرے سے نکاح کردینے کا وکیل نہ بنایا تھا۔
۶
؎یہاں مہر سے مراد مہر معجل ہے جو نکاح کے وقت دیا جاتا ہے جسے آج کل چڑھاوا کہا جاتا ہے ورنہ فی الحال مطالبہ نہ ہوتا کیونکہ مہر کا مطالبہ خاص نکاح کے وقت نہیں ہوتا۔
۷
؎لوہے کی انگوٹھی سے مراد معمولی حقیر چیز ہے نہ کہ خاص لوہے کی انگوٹھی کیونکہ لوہے کی انگوٹھی مرد و عورت دونوں کے لیے حرام ہے لہذا اس حدیث سے یہ ثابث نہیں ہوتا کہ صحابہ کرام لوہے کے چھلے،انگوٹھیاں پہنتے تھے۔
۸
؎اﷲ اکبر!یہ ہے حضرات صحابہ کرام کی مالی حالت کہ سارے گھر میں صرف ارسول کا نام ہے۔سامان کچھ بھی نہیں برتن بھانڈا بھی نہیں اس حالت میں انہوں نے دنیا میں اسلام پھیلایا۔
۹
؎یعنی کیا تجھے قرآن مجید کی کچھ سورتیں یاد ہیں یہ سوال اگلے مضمون کی تمہید کے لیے ہے ورنہ ہر مسلمان کو قرآن مجید کی کچھ آیات و سورتیں ضرور یاد ہوتی ہیں کہ نماز میں تلاوت قرآن فرض ہے اور مسلمان ہر موقعہ پربسم اﷲ،اعوذ،انا اﷲ،سبحان اﷲ،لاحولوغیرہ پڑھا ہی کرتے ہیں۔
۱۰
؎جمہور علماء کے نزدیکبما معكمیںبسببیہ ہے نہ کہ عوض یا مقابلہ کی چونکہ تجھے قرآن مجید کی سورتیں یاد ہیں اس لیے میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا کیونکہ عالم غیر عالم سے افضل ہے۔بعض لوگوں نے کہا کہ تعلیم قرآن یا دیگر خدمات کو مہر نکاح بناسکتے ہیں اور یہبعوض کی ہے وہ اس جملہ کے معنی یہ کرتے ہیں کہ ان آیات قرآنیہ کی تعلیم کے عوض میں نے تیرا نکاح اس سے کردیااور حضرت شعیب علیہ السلام کے واقعہ سے دلیل پکڑتے ہیں کہ آپ نے اپنی بیٹی صفورا کا نکاح موسیٰ علیہ السلام سے آٹھ دس سال خدمت کے عوض کیا کہ فرمایا:"اِنِّیۡۤ اُرِیۡدُ اَنْ اُنۡکِحَكَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ هٰتَيْنِ عَلٰۤی اَنۡ تَاۡجُرَنِیۡ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ"مگر یہ قول درست نہیں کیونکہ قرآن کریم فرماتاہے:"اَنۡ تَبْتَغُوۡا بِاَمْوٰلِکُمۡ"۔معلوم ہوا کہ نکاح مال کے عوض ہونا چاہیے اور قرآن کریم کی تعلیم مال نہیں۔شریعت شعیب علیہ السلام کے احکام دوسرے تھے بلکہ حق یہ ہے حضرت شعیب علیہ السلام نے دس سال کی خدمت کو شرط نکاح قرار دیا تھا نہ کہ مہر نکاح اسی لیے علی فرمایا ب نہ فرمایا نیز فرمایا"عَلٰۤی اَنۡ تَاۡجُرَنِیۡ"میری خدمت کرو اور مہر عورت کی ملک ہوتا ہے نہ کہ سسر کی اور موسی علیہ السلام کو اتنے دن اپنی خدمت میں رکھنا کلیم الہٰی کے لائق بنانا تھا کیونکہ آپ فرعون کے پاس اب تک رہے کسی شیخ کی صحبت کی ضرورت تھی۔
اگر کوئی شعیب آئے میسر شبانی سے کلیمی دو قدم ہے
۱۱
؎خیال رہے کہ اس حدیث کی بنا پر بعض لوگوں نے سمجھا ہے کہ مہر کی کوئی مقدار مقررنہیں مگر یہ غلط ہے یہ حدیث اس کی تائید نہیں کرتی کیونکہ کسی امام کے نزدیک قرآن مہر نہیں بن سکتا،سب کے ہاں مہر مال ہونا چاہیے ہاں مال کی ادنیٰ مقدار میں اختلاف ہے اور یہاں قرآن پر نکاح کیا گیا۔معلوم ہوا کہ مہر نکاح کا یہاں ذکر نہیں، امام اعظم کے ہاں مہر کی کم از کم مقدار دس درہم کیونکہ دارقطنی نے حضرت جابر سے مرفوعًا روایت کیا کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عورت کا نکاح ولی کریں،کفو میں کریں،دس درہم سے کم پر ہاتھ نہ کاٹے جائیں اور دس درہم سے کم مہر نہیں،دار قطنی و بیہقی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت کی کہ دس درہم سے کم مہر نہیں لہذا دس درہم سے کم کی روایات میں چڑھاوا مراد ہے۔(مرقات و اشعہ وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3202