- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- حدیث نمبر 3202
باب:مہر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3202
نکاح کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنِّي وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ طَوِيلًا، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ فِيهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ: "هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا؟ " قَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا قَالَ: "فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ" فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجدْ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ" قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا، فَقَالَ: "قد زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: "انْطَلِقْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَعَلِّمْهَا مِنَ الْقُرْآنِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عن سهل بن سعد: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءته امرأة فقالت: يا رسول الله! إني وهبت نفسي لك، فقامت طويلا، فقام رجل فقال: يا رسول الله! زوجنيها إن لم تكن لك فيها حاجة، فقال: "هل عندك من شيء تصدقها؟ " قال: ما عندي إلا إزاري هذا قال: "فالتمس ولو خاتما من حديد" فالتمس فلم يجد شيئا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "هل معك من القرآن شيء" قال: نعم سورة كذا وسورة كذا، فقال: "قد زوجتكها بما معك من القرآن"وفي رواية: قال: "انطلق فقد زوجتكها فعلمها من القرآن". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ۱؎سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک عورت آئی ۲؎بولی یا رسول اﷲمیں نے اپنی جان آپ کو ہبہ کی ۳؎پھر بہت دیر کھڑی رہی ۴؎تو ایک آدمی اٹھ کر بولا یا رسول اﷲاس کا نکاح مجھ سے کر دیجئے اگر حضور کو اس کی ضرورت نہ ہو ۵؎تو حضور نے فرمایا کیا تیرے پاس کچھ ہے جو تو اسے مہر دے ۶؎بولا میرے پاس اس تہبند کے سوا کچھ نہیں فرمایا تلاش تو کر اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو۷؎اس نے ڈھونڈا مگر کچھ نہ پایا ۸؎تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تیرے ساتھ کچھ قرآن بھی ہے ۹؎بولا ہاں فلاں فلاں سورۃ چنانچہ حضور نے فرمایا کہ میں نے اس کا نکاح تجھ سے کردیا اس قرآن کی وجہ سے جو تجھے یاد ہے ۱۰؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا جاؤ میں نے تمہارا نکاح اس سے کردیا لہذا اسے قرآن سکھاؤ ۱۱؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام پہلے حزن تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سہل رکھا،آپ کی کنیت ابوالعباس ہے، انصاری ہیں، ساعدی ہیں، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر پندرہ سال تھی ۹۱ھ ∞ میں آپ کی وفات ہے مدینہ منورہ میں آخری صحابی آپ ہی رہ گئے تھے۔(اکمال)
۲؎یہ بی بی صاحبہ یا تو میمونہ بنت حارث تھیں یا زینب بنت خزیمہ یا ام شریک بنت جابر یا خولہ بنت حکیم تھیں واﷲاعلم۔(مرقات)
۳؎یعنی آپ مجھے بغیر مہر اپنی زوجیت میں قبول فرمالیں،یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیات سے ہے۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ امْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنۡ وَّہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ"اور فرماتاہے:"خَالِصَۃً لَّکَ مِنۡ دُوۡنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔اس سے معلوم ہوا لفظ ہبہ سے نکاح درست ہے کہ یہ کلمہ ان بی بی صاحبہ کی طرف سے نکاح کا ایجاب تھا نکاح کا تکملہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے قبول پر موقوف تھا۔
۴؎مگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ اس سے نکاح کرنا منظور نہ تھا اور انکار فرمایا نہیں تاکہ ان بی بی کو شرمندگی نہ ہو۔
۵؎یا اس طرح مجھ سے نکاح فرمادیں کہ اسے اس نکاح پر راضی کردیں یا حضورسلطان المسلمینہیں اور جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہوتا ہے لہذا حدیث پہ یہ اعتراض نہیں کہ ان بی بی صاحبہ نے حضور کو دوسرے سے نکاح کردینے کا وکیل نہ بنایا تھا۔
۶؎یہاں مہر سے مراد مہر معجل ہے جو نکاح کے وقت دیا جاتا ہے جسے آج کل چڑھاوا کہا جاتا ہے ورنہ فی الحال مطالبہ نہ ہوتا کیونکہ مہر کا مطالبہ خاص نکاح کے وقت نہیں ہوتا۔
۷؎لوہے کی انگوٹھی سے مراد معمولی حقیر چیز ہے نہ کہ خاص لوہے کی انگوٹھی کیونکہ لوہے کی انگوٹھی مرد و عورت دونوں کے لیے حرام ہے لہذا اس حدیث سے یہ ثابث نہیں ہوتا کہ صحابہ کرام لوہے کے چھلے،انگوٹھیاں پہنتے تھے۔
۸؎اﷲ اکبر!یہ ہے حضرات صحابہ کرام کی مالی حالت کہ سارے گھر میں صرف اﷲرسول کا نام ہے۔سامان کچھ بھی نہیں برتن بھانڈا بھی نہیں اس حالت میں انہوں نے دنیا میں اسلام پھیلایا۔
۹؎یعنی کیا تجھے قرآن مجید کی کچھ سورتیں یاد ہیں یہ سوال اگلے مضمون کی تمہید کے لیے ہے ورنہ ہر مسلمان کو قرآن مجید کی کچھ آیات و سورتیں ضرور یاد ہوتی ہیں کہ نماز میں تلاوت قرآن فرض ہے اور مسلمان ہر موقعہ پربسم اﷲ،اعوذ،انا اﷲ،سبحان اﷲ،لاحولوغیرہ پڑھا ہی کرتے ہیں۔
۱۰؎جمہور علماء کے نزدیکبما معكمیںبسببیہ ہے نہ کہ عوض یا مقابلہ کی چونکہ تجھے قرآن مجید کی سورتیں یاد ہیں اس لیے میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا کیونکہ عالم غیر عالم سے افضل ہے۔بعض لوگوں نے کہا کہ تعلیم قرآن یا دیگر خدمات کو مہر نکاح بناسکتے ہیں اور یہبعوض کی ہے وہ اس جملہ کے معنی یہ کرتے ہیں کہ ان آیات قرآنیہ کی تعلیم کے عوض میں نے تیرا نکاح اس سے کردیااور حضرت شعیب علیہ السلام کے واقعہ سے دلیل پکڑتے ہیں کہ آپ نے اپنی بیٹی صفورا کا نکاح موسیٰ علیہ السلام سے آٹھ دس سال خدمت کے عوض کیا کہ فرمایا:"اِنِّیۡۤ اُرِیۡدُ اَنْ اُنۡکِحَكَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ هٰتَيْنِ عَلٰۤی اَنۡ تَاۡجُرَنِیۡ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ"مگر یہ قول درست نہیں کیونکہ قرآن کریم فرماتاہے:"اَنۡ تَبْتَغُوۡا بِاَمْوٰلِکُمۡ"۔معلوم ہوا کہ نکاح مال کے عوض ہونا چاہیے اور قرآن کریم کی تعلیم مال نہیں۔شریعت شعیب علیہ السلام کے احکام دوسرے تھے بلکہ حق یہ ہے حضرت شعیب علیہ السلام نے دس سال کی خدمت کو شرط نکاح قرار دیا تھا نہ کہ مہر نکاح اسی لیے علی فرمایا ب نہ فرمایا نیز فرمایا"عَلٰۤی اَنۡ تَاۡجُرَنِیۡ"میری خدمت کرو اور مہر عورت کی ملک ہوتا ہے نہ کہ سسر کی اور موسی علیہ السلام کو اتنے دن اپنی خدمت میں رکھنا کلیم الہٰی کے لائق بنانا تھا کیونکہ آپ فرعون کے پاس اب تک رہے کسی شیخ کی صحبت کی ضرورت تھی۔
اگر کوئی شعیب آئے میسر شبانی سے کلیمی دو قدم ہے
۱۱؎خیال رہے کہ اس حدیث کی بنا پر بعض لوگوں نے سمجھا ہے کہ مہر کی کوئی مقدار مقررنہیں مگر یہ غلط ہے یہ حدیث اس کی تائید نہیں کرتی کیونکہ کسی امام کے نزدیک قرآن مہر نہیں بن سکتا،سب کے ہاں مہر مال ہونا چاہیے ہاں مال کی ادنیٰ مقدار میں اختلاف ہے اور یہاں قرآن پر نکاح کیا گیا۔معلوم ہوا کہ مہر نکاح کا یہاں ذکر نہیں، امام اعظم کے ہاں مہر کی کم از کم مقدار دس درہم کیونکہ دارقطنی نے حضرت جابر سے مرفوعًا روایت کیا کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عورت کا نکاح ولی کریں،کفو میں کریں،دس درہم سے کم پر ہاتھ نہ کاٹے جائیں اور دس درہم سے کم مہر نہیں،دار قطنی و بیہقی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت کی کہ دس درہم سے کم مہر نہیں لہذا دس درہم سے کم کی روایات میں چڑھاوا مراد ہے۔(مرقات و اشعہ وغیرہ)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3202