Main Icon

باب: رسولوں کے سردار کے فضائل کا بیان،ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5739

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ«بُعِثْتُ مِنْ خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا حَتّٰى كُنْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِي كُنْتُ مِنْهُ» .رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم«بعثت من خير قرون بني آدم قرنا فقرنا حتى كنت من القرن الذي كنت منه» .رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں اولاد آدم میں بہترین گروہ میں بھیجا گیا یکے بعد دیگرے گروہ ۱؎حتی کہ میں اس گروہ سے ظاہر ہوا جس میں سے میں پہلے سے تھا ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عبداللہ تک میرا نور جس قبیلہ وخاندان میں رہا وہ ہمیشہ دنیا بھر میں تمام خاندانوں سے بہتر تھا،اس میں اچھی خصلتیں شرافت نجابت تھی اور جن کے پیٹھوں یا پیٹوں میں یہ نور رہا وہ زنا اور کفرو شرک سے محفوظ رہے،از آدم علیہ السلام تا حضرت عبداللہ حضور انور کا کوئی دادا دادی کافر نہ ہوئے سب موحّد مؤمن رہے حتی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والدین مؤمن تھے،خود جناب خلیل نے فرمایا"رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیۡنَ یَوْمَ یَقُوۡمُ الْحِسَابُ" یہاںولوالدیسے آپ کے باپ تارخ اور والدہ تسلی بنت نمر مراد ہیں اور"وَاغْفِرْ لِاَبِیۡۤ اِنَّہٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیۡنَ"میں اب سے مراد چچا آزر ہے۔والداور اب کا فرق خیال میں رہے۔
۲
؎قرنکے لفظی معنی ہیں ملنا،اصطلاح میں جماعت کو قرن کہتے ہیں،پھر زمانہ،ہم زمانہ لوگ،گروہ سب کو قرن کہتے ہیں،یہاں مراد ہے جماعت یا گروہ اور جماعت سے مراد ہیں حضور کے باپ داداؤں ماں اور ناناؤں کی جماعت یا اس سے مراد ہے صحابہ کرام اہل بیت اطہار کی جماعت یا مراد ہے تا قیامت حضور کی امت یا حضور کا سارا قبیلہ و خاندان،اگر آخری معنی مراد ہیں توخیرسے مراد ہے اعلیٰ و اشرف قوم جس کی دنیا میں بڑی عزت کی جاتی ہو۔حضور کے خاندان میں اگرچہ بعض لوگ کافر تھے جیسے ابو لہب وغیرہ مگر تھے اونچے خاندان والے قریشی ہاشمی کہ ان کی دنیا میں بڑی عزت تھی اور دوسرے احتمالات کی بنا پرخیرکے معنی ہیں مؤمن متقی پرہیزگار کہ حضور انور کے والدین دادا نانا سب کے سب مؤمن موحد پرہیزگار تھے،کفر زنا،بری حرکتوں سے محفوظ تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی"وَمِنۡ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّۃً مُسْلِمٌۃً لَّكَ"اور پھر فرمایا"رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیۡهِمْ رَسُوۡلًا مِّنْهُمْ"خدایا میری اولاد میں ایک جماعت مؤمن رہے میرے مولٰی اس مؤمن جماعت میں آخری رسول بھیج۔کیسے ہوسکتا ہے کہ حضور تو نور ہوں حضور کی نسل پاک آباء و اجداد نار والے ہوں،اللہ تعالٰی نے حضور کا نور نورانی لوگوں میں رکھا۔ (اشعۃ اللمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5739