Main Icon

باب:شرکت اور وکالت کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2930

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ: أَنَّهٗ كَانَ يَخْرُجُ بِهٖ جَدُّهٗ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ هِشَامٍ إِلٰى السُّوقِ فَيَشْتَرِيَ الطَّعَامَ فَيَلْقَاهُ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ الزُّبَيْرِ فَيَقُولَانِ لَهٗ: أَشْرِكْنَا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَعَا لَكَ بِالبَرَكَةِ فَيُشْرِكُهُمْ فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْمَنْزِلِ وَكَانَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ هِشَامٍ ذَهَبَتْ بِهٖ أُمُّهٗ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ رَأْسَهٗ وَدَعَا لَهٗ بِالْبَرَكَةِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن زهرة بن معبد: أنه كان يخرج به جده عبد الله بن هشام إلى السوق فيشتري الطعام فيلقاه ابن عمر وابن الزبير فيقولان له: أشركنا فإن النبي صلى الله عليه وسلم قد دعا لك بالبركة فيشركهم فربما أصاب الراحلة كما هي فيبعث بها إلى المنزل وكان عبد الله بن هشام ذهبت به أمه إلى النبي صلى الله عليه وسلم فمسح رأسه ودعا له بالبركة. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زہرہ ابن معبد سے کہ ان کو ان کے دادا عبداللّٰهابن ہشام ۱؎بازار لے جاتے تھے غلہ خریدتے تھے ۲؎تو ان سے حضرت ابن عمرو اور ابن زبیر ملتے تھے تو کہتے تھے ہمیں شریک کرلو ۳؎کیونکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے آپ کے لیے برکت کی دعا کی ہے ۴؎تو وہ انہیں شریک کرلیتے تھے بہت دفعہ پورا اونٹ ویسے کا ویسا ہی نفع میں پالیتے تھے ۵؎جسے وہ اپنے گھر بھیج دیتے تھے اور حضرت عبداللّٰهابن ہشام کو ان کی ماں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں لے گئی تھیں حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا اور ان کے لیے دعائے برکت کی تھی ۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت زہرہ تابعین میں سے ہیں،تمام محدثین فرماتے ہیں کہ آپ اولیاء کاملین سے تھے۔امام دارمی فرماتے ہیں کہ آپ اپنے وقت کے ابدال تھے،اپنے دادا عبداللّٰهابن ہشام سے جو صحابی ہیں اور حضرت عبداللّٰهابن عمرو ابن عاص اور عبداللّٰهابن زبیر سے ملاقات رکھتے ہیں ان حضرات سے روایات لیتے ہیں۔(اشعہ)
۲
؎تاکہ انہیں خرید و فروخت آجائے۔معلوم ہوا کہ اولاد کو جیسے عبادات سکھائی جائیں ویسے ہی انہیں معاملات کی تعلیم دی جائے ،تجربہ کرایا جائے کہ معاملات بھی عبادات کی طرح ضروری ہیں ان کے احکام سخت ہیں۔
۳
؎کہ اپنے مال میں ہمارا مال ملالو،اس سے غلہ خریدو،پھر فروخت کرو۔نفع ہمارا تمہارا ہم اگرچہ تجارت جانتے ہیں مگر جو خصوصیت تم کو میسر ہے ہم کو نہیں وہ خصوصیت یہ ہے۔
۴
؎تمہیں ضرور ہر کام میں برکت و نفع ہوگا ہم بھی تمہارے ساتھ نفع میں شریک ہوجائیں گے۔موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے لیے دعاکی تھی کہ"وَاَشْرِکْہُ فِیۡۤ اَمْرِیۡ"خدایا انہیں بھی میرا شریک کار بنادے کہ ہم دونوں نبی ہوں،دونوں دینی خدمات کریں،اجرو ثواب میں شریک رہیں۔
۵
؎اونٹ سے مراد اونٹ کا بوجھ یعنی گندم کی بوریاں ہیں یعنی بسا اوقات ایک اونٹ گندم کا بیوپار کرتے تو پورا اونٹ نفع میں بچ رہتا جیسے ایک صحابی کو حضور انور نے اشرفی دی کہ قربانی کے لیے بکری خرید لاؤ انہوں نے ایک اشرفی کی بکری خریدی اور دو اشرفیوں کے عوض فروخت کردی پھر ایک اشرفی کی دوسری بکری خریدی،پھر بکری اور ایک اشرفی لاکر حضور انور کی بارگاہ میں پیش کی۔حضور انور نے انہیں دعا دی اور اشرفی خیرات کردینے کا حکم دیا،یہ ہے پور امال نفع میں بچ رہنا۔
۶
؎عبداللّٰهابن ہشام کی والدہ کا نام زینب بنت حمید تھا،عبداللّٰهگود میں تھے،حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں جب پیش ہوئے تو پیار میں حضور نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا دے دی،پھر کیا تھا وارے نیارے ہوگئے۔ معلوم ہوا کہ بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرنا دعا کرنا سنت ہے،بہار شریف میں ایک بزرگ گزرے ہیں حضرت مخدوم الملک،ایک بار انہیں ان کی چھوٹی بہن نے سلام کیا تو آپ نے جواب سلام دے کر فرمایا ٹھنڈی رہو،اللّٰهنے یہ دعا ایسی قبول فرمائی کہ ان کی قبر بھی ٹھنڈی کردی۔ہم نے دوپہر کے وقت ان کی قبر پر ہاتھ رکھا دھوپ قبر پر ہے،سخت دھوپ تھی تمام قبریں گرم تھیں مگر یہ قبر ٹھنڈی تھی حالانکہ چونا گچھ کی قبر تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2930