Main Icon

باب:غلہ روکنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2892

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ مَعْمَرٍقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ احْتَكَرَ فَهُوَ خَاطِئٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰه عَنْهُ «كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ» فِي بَابِ الْفَيْءِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالٰى

عن معمرقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من احتكر فهو خاطئ» . رواه مسلم وسنذكر حديث عمر رضي الله عنه «كانت أموال بني النضير» في باب الفيء إن شاء الله تعالى

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معمر سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو غلہ روکے وہ خطا کار ہے ۲؎(مسلم)اور ہم حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی حدیث کہ بنی نضیر کے مال کا الخان شاءاللّٰهتعالٰی باب الفیمیں ذکر کریں گے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ معمر ابن عبداللّٰهصحابی ہیں،قرشی عدوی ہیں،قدیم الاسلام ہیں،پہلے حبشہ کی جانب ہجرت کی،پھر وہاں سے مدینہ طیبہ کی طرف، وہیں عمر گزاری،ان کے علاوہ بہت سے تابعین تبع تابعین کا نام معمر ہے جن میں معمر ابن راشد بہت مشہور ہیں۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں معمر صحابی مراد ہیں اور حدیث متصل ہے اور ہوسکتا ہے کہ معمر تابعی مراد ہوں اور حدیث مرسل ہو۔(اشعہ)
۲
؎یعنی گنہگار۔امام مالک رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ مطلقًا مال کا ذخیرہ کرنا ناجائز ہے،مال غذا کی قسم کا ہو یا اور۔باقی جمہور ائمہ کے ہاں صرف غذاؤں کا روکنا منع ہے وہ بھی صرف تنگی کے زمانہ میں،اگر اس کے روکنے سے بازار پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور چیز عمومًا مل ہی رہی ہے تو بلاکراہت جائز ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2892