Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 689

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ دَعَا فِيْ نَوَاحِيهِ كُلِّهَا، وَلَمْ يُصَلِّ حَتّٰى خَرَجَ مِنْهُ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِيْ قُبُلِ الْكَعْبَةِ وَقَالَ: "هٰذِهِ الْقِبْلَةُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

عن ابن عباس قال: لما دخل النبي صلى الله عليه وسلم البيت دعا في نواحيه كلها، ولم يصل حتى خرج منه، فلما خرج ركع ركعتين في قبل الكعبة وقال: "هذه القبلة". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبے شریف میں داخل ہوئے ۱؎تو اس کے گوشوں میں دعا مانگی اورنماز نہ پڑھی ۲؎حتی کہ وہاں سے تشریف لے آئے جب نکلے تو دو رکعتیں کعبے کے سامنے پڑھیں ۳؎اورفرمایا یہ ہے قبلہ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی فتح مکہ کے دن اولًا کعبہ شریف سے بت نکالے گئے،پھر اسے آبِ زم زم سے دھویا گیا،پھرحضورانور صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے گئے۔خیال رہے کہ کعبہ معظمہ اورمسجد حرام شریف تمام مسجدوں بلکہ عرشِ الٰہی سے بڑھ کرہے۔(مرقاۃ)
۲
؎صحیح یہ ہے کہ حضورانورعلیہ السلام نے اس دن وہاں نماز پڑھی ہے۔حضرت ابن عباس کو اس کی خبر نہیں ہوئی کیونکہ اس وقت آپ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ نہ تھے۔آگے حضرت بلال کی روایت آرہی ہے کہ آپ نے وہاں نمازپڑھی اور وہ اس وقت تک حضور انورعلیہ الصلوۃ والسلام کے ہمراہ تھے ان کی خبردیکھ کر ہے اور ان کی سنی ہوئی،نیز اس روایت میں نمازکی نفی ہے اور وہاں ثبوت اور تعارض کے وقت ترجیح ثبوت کو ہوتی ہے۔
۳
؎کیونکہ کعبہ کو منہ کرکے نہ ادھر پیٹھ کرکے اور نہ کروٹ لے کر۔
۴
؎یعنی تا قیامت کعبہ تمام مسلمانوں کا قبلہ ہوچکا کبھی منسوخ نہ ہوگا۔اس میں لطیف اشارہ اس طرف بھی ہورہا ہے کہ کعبہ کا ہرحصہ قبلہ ہے،سارا کعبہ نمازی کے سامنے ہونا ضروری نہیں،کعبہ کے اندرنمازی بعض حصہ کی طرف پیٹھ کرتا ہے اوربعض کی طرف منہ،مگرنمازہوجاتی ہے۔خیال رہے کہ کعبہ وہاں کی فضاء کا نام ہے جو زمین سے آسمان تک ہے نہ کہ دیواروں کا نام۔دیکھو پہاڑ پریاتہہ خانہ کے اندرنماز پڑھنے کی صورت میں کعبہ کی دیوارنمازی کے سامنے نہ ہوگی مگرنماز درست ہوگی،لہذا یہ حدیث حنفیوں کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 689