Main Icon

باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 747

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ السَّائِب بْنِ خَلَّادٍ -وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: إِنْ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَنْظُرُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لِقَومِهٖ حِيْنَ فَرَغَ: "لَا يُصَلِّيْ لَكُمْ". فَأَرَادَ بَعْدَ ذٰلِك أَنْ يُصَلِّيَ لَهُمْ فَمَنَعُوهُ فَأَخْبرُوهُ بِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَذَكَرَ ذٰلِكَ لِرَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: نَعَمْ، وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: "إِنَّكَ قَدْ آذَيْتَ اللّٰهَ وَرَسُولَهٗ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن السائب بن خلاد -وهو رجل من أصحاب النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: إن رجلا أم قوما فبصق في القبلة ورسول الله -صلى الله عليه وسلم- ينظر، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لقومه حين فرغ: "لا يصلي لكم". فأراد بعد ذلك أن يصلي لهم فمنعوه فأخبروه بقول رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فذكر ذلك لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال: نعم، وحسبت أنه قال: "إنك قد آذيت الله ورسوله". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سائب ابن خلاد سے وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک ہیں ۱؎فرمایا ایک شخص نے قوم کی امامت کی،قبلے کی طرف تھوک دیا حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فراغت پراس کی قوم سے فرمایا کہ آئیندہ یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے ۲؎اس کے بعد اس نے نماز پڑھانی چاہی لوگوں نے روک دیا اورحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے آگاہ کیا،اس نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا فرمایا ہاں۔مجھے خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تو نے اللہ رسول کو ستایا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ ان کی صحابیت میں اختلا ف ہے،اوریہ کچھ غیرمشہور بھی ہیں،اس لیے مصنف نے یہ تشریح کردی۔آپ کی کنیت ابو سہل ہے،مدنی ہیں،زمانۂ فاروقی میں یمن کے حاکم رہے۔
۲
؎کیونکہ یہ کعبہ کا بے ادب ہے اس لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے خطاب بھی نہ کیا کہ وہ خطاب کے لائق ہی نہ رہا۔جب کہ کعبہ کا بے ادب امامت کے لائق نہیں توحضورصلی اللہ علیہ وسلم کابے ادب اور آپ کی شان میں بکواس کرنے والا امامت کے لائق کیسے ہوسکتاہے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو بلاتحقیق ہرفاسق وبے ادب کو امام بنالیتے ہیں۔خیال رہے کہ یہ امام صحابی تھے،مگراتفاقًا ان سے یہ خطا ہوگئی پھرتوبہ کرلی کیونکہ کوئی صحابی فاسق نہیں،جب اتفاقًا خطا پر امامت سے معزول کردیا گیا تو جان بوجھ کر بے ادبی کرنے والا ضرورمعزول کردیاجائے گا۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ہر نیک و فاسق کے پیچھے نماز پڑھ لو اس موقعہ کے لیے ہے جب وہ امام بن گیا ہو اورہم اسے معزول کرنے پرقادر نہ ہوں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قوم وسلطان امام کو امامت سے علیحدہ کرسکتے ہیں۔
۳
؎کیونکہ تیرا یہ کام میری ایذا کا سبب ہے اورمیری ایذاء رب کی ایذا کا باعث۔اس کا یہی مطلب ہے کیونکہ اس نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ دینے کے واسطے یہ کام نہ کیا تھا،ورنہ یہ عمل کفر اور ارتداد ہوتا اور اسے دوبارہ مسلمان کیا جاتا۔ظاہر یہ ہے کہ اس شخص نے توبہ کرلی ہوگی اور دوبارہ امام بنادیا گیا ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 747