- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1772
باب:زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1772
زکوۃ کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: «إِنَّكَ تَأْتِيْ قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَادْعُهُمْ إِلٰى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذٰلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللّٰهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوْا لِذٰلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللّٰهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلٰى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوْا لِذٰلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُوْمِ، فَإِنَّهٗ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللّٰهِ حِجَابٌ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
عن ابن عباس أن رسول الله صلی اللہ عليه وسلم بعث معاذا إلى اليمن، فقال: «إنك تأتي قوما أهل كتاب فادعهم إلى شهادة أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله، فإن هم أطاعوا لذلك فأعلمهم أن الله قد فرض عليهم خمس صلوات في اليوم والليلة، فإن هم أطاعوا لذلك فأعلمهم أن الله قد فرض عليهم صدقة، تؤخذ من أغنيائهم فترد على فقرائهم، فإن هم أطاعوا لذلك فإياك وكرائم أموالهم، واتق دعوة المظلوم، فإنه ليس بينها وبين الله حجاب». (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن کی طرف روانہ کیا ۱؎ تو فرمایا کہ تم اہلِ کتاب قوم کے پاس جارہے ہو ۲؎ تو انہیں اس گواہی کی دعوت دینا کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور یقینًا محمد الله کے رسول ہیں ۳؎ اگر وہ اس میں فرماں برداری کریں تو انہیں بتانا کہ الله نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض فرمائیں ۴؎ پھر اگر وہ یہ بھی مان جائیں تو انہیں سکھانا کہ الله نے ا ن پر زکوۃ فرض کی ہے ۵؎ جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور انہی کے فقیروں پر لوٹائی جائے گی ۶؎ پھر اگر یہ بھی مان لیں تو ا ن کے بہترین مالوں سے بچنا ۷؎ اورستم رسیدہ کی بد دعا سے ڈرنا کہ اس کے اور رب کے درمیان کوئی آڑ نہیں ۸؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن کا گورنر بناکربھیجا اور خود بنفس نفیس انہیں ثنیۃ الوداع تک پہنچانے گئے حضرت معاذ بحکم سرکار سواری پر تھے اورحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم پیدل،ان سے جدا ہوتے وقت فرمایا کہ اب تم میری قبر پر آؤ گے اور مجھے نہ پاؤ گے جس پر حضرت معاذ بہت روئے۔خیال رہے کہ حضرت معاذ یمن پر جہاد کرنے نہیں جارہے تھے وہ تو پہلے ہی قبضہ میں آچکا تھا بلکہ وہاں کے حاکم بن کر۔
۲؎اگرچہ یمن میں اہل کتاب بھی تھے اور مشرکین بھی مگرچونکہ اہل کتاب مشرکین سے بہتر ہیں اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر فرمایا۔
۳؎یعنی صرف مشرکین کو"لَا اِلٰہَ اِلَّا الله"کی دعوت دو اور تمام کفار کو"مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ الله"کی کیونکہ مشرکین توحید کے منکر ہیں اور باقی موحد،کفار و اہل کتاب توحید کے تو قائل ہیں مگر رسالت مصطفوی کے منکر۔علامہ شامی فرماتے ہیں کہ ہر کافر کو مسلمان بناتے وقت وہ ہی چیز پڑھائی جائے جس کا وہ منکر ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفار شرعی احکام کے مکلف نہیں اور یہ کہ کفار کو اسلام لانے پر مجبور نہ کیا جائے گا"لَاۤ اِکْرَاہَ فِی الدِّیۡنِ"اور یہ کہ تبلیغ نرمی و خوش اخلاقی سے چاہیئے اور یہ کہ ذمی کفار کو تبلیغ اسلام کرنا سنت ہے اور یہ کہ حکام اور آفیسران صرف ملکی انتظام ہی نہ کریں بلکہ دینی تبلیغ بھی کریں حاکم مبلغ بھی ہونا چاہیئے اور یہ کہ آفیسران و حکام خودبھی شرعی احکام سے واقف ہونے چاہئیں ورنہ وہ تبلیغ نہیں کرسکتے۔
۴؎یعنی جب وہ مسلمان ہوجائیں تو انہیں نماز کے احکام سناؤ سکھاؤ،چونکہ اسلام میں سارے احکام سے پہلے نماز کا حکم آیا،نیز یہ عبادت بدنی ہے،نیز یہ ہرمسلمان پر فرض ہے اسی لیے کلمہ پڑھانے کے بعد ہی اس کا ذکر فرمایا۔خیال رہے کہ یہاں نماز جنازہ،عیدین،وتر وغیرہ کا ذکر نہ فرمایاصرف پانچ نمازوں کا فرمایا یا تو اس وقت ان کا حکم نہ ہوا تھا یا وہ تمام چیزیں پانچ نمازوں کے تابع فرمادی گئیں یا یہاں تمام احکام شرعیہ کا ذکر نہیں ہے خاص خاص کا ہے اسی لیے روزے کا ذکر نہیں زکوۃ کاہے حالانکہ روزہ زکوۃ سے پہلے فرض ہوچکا تھا۔لہذا اس حدیث کی بنا پر یہ نہیں کہاجاسکتا کہ نماز عید یا وتر واجب نہیں اور نہ یہ حدیث حنفیوں کے خلاف ہے۔
۵؎یہاںاِنْبمعنیاِذَاہے یعنی جب وہ نماز کے احکام سیکھ لیں تو زکوۃ کے احکام سکھاؤ،آہستگی سے تبلیغ کرو کہ انہیں سکھانا مقصود ہے نہ صرف بتادینا۔حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر وہ مسلمان ہونے کے بعد نماز کو فرض مان لیں تب تو زکوۃ سکھانا اور اگر نماز کی فرضیت سے انکارکردیں تو زکوۃ نہ سکھاناکیونکہ مسلمان کا نماز سے انکار کرنا ارتداد ہے اورکسی کو مرتد ہوجانے کی اجازت نہیں لہذا حدیث پر کوئی بھی اعتراض نہیں اور زکوۃ کے لیے نماز شرط ہے۔
۶؎یعنی ہم ٹیکس کی طرح تم سے زکوۃ وصول کرکے مدینہ منورہ نہ لے جائیں گے اور خود نہ کھائیں گے تاکہ تم سمجھو کہ اسلام کی اشاعت کھانے کمانے کے لیے ہے بلکہ تمہارے مالداروں سے زکوۃ لے کر تمہارے ہی فقراء کو دے دی جائے گی۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:(۱)ایک یہ کہ کافر کو زکوۃ نہیں دے سکتے۔(۲)دوسرے یہ کہ بلاسخت مجبوری ایک جگہ کی تمام زکوۃ دوسری جگہ منتقل نہ کی جائے۔(۳)تیسرے یہ کہ مالدار صاحب نصاب زکوۃ نہیں لے سکتا جیساکہ لفظفُقَرَاءاورضَمِیْرُھُمْسے معلوم ہوا۔ ضرورۃً زکوۃ کو منتقل کرنا بالکل جائز ہے جیسے کہ غنی کے اہل قرابت فقیر دوسرے شہر میں رہتے ہوں یا دوسری جگہ سخت فقر و تنگدستی ہویا دوسری جگہ صدقہ کا ثواب زیادہ ہو لہذا اپنی کچھ زکوۃ مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ بھجوانا جیسا کہ آج کل رواج ہے بالکل جائز ہے۔خیال رہے کہ یہاںاَغْنِیَاءسے مراد بالغ عاقل مالدار مراد ہیں کیونکہ نماز کی طرح زکوۃ بھی بچے اور دیوانے پر فرض نہیں،یہ بھی خیال رہے کہ باطنی مال یعنی سونے چاندی وغیرہ کی زکوۃ خود غنی ہی ادا کرے گا اور ظاہری مال جانور پیداوار کی زکوۃ حاکم اسلام وصول کرکے اپنے انتظام سے خرچ کرے گا،یہاںتُؤخَذُمیں دونوں صورتیں داخل ہیں۔
۷؎یعنی زکوۃ میں ان کے بہترین مال نہ وصول کرو بلکہ درمیانی مال لو ہاں اگر خود مالک ہی بہترین مال اپنی خوشی سے دے تو ان کی مرضی ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ"۔اس جملہ سے اشارۃً معلوم ہوا کہ ہلاک شدہ مال کی زکوۃ نہ لی جائے گی کیونکہاَمْوَالُھُمْارشاد ہوا۔
۸؎یعنی اے معاذ!تم حاکم بن کر یمن جارہے ہو وہاں کسی پرظلم نہ کرنا،نہ بدنی ظلم،نہ مالی نہ زبانی کیونکہ اللہ تعالٰی مظلوم کی بہت جلد سنتا ہے۔اس میں درحقیقت تاقیامت حکام کو عدل کی تعلیم ہے ورنہ صحابہ کرام ظلم نہیں کرتے،حضرت سلیمان علیہ السلام کی چیونٹی نے کہا تھا"لَایَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیۡمٰنُ وَجُنُوۡدُہٗ وَهُمْ لَا یَشْعُرُوۡنَ"کہیں تم اے چیونٹیو حضرت سلیمان اور ان کے لشکر سے کچلی نہ جاؤ اور انہیں خبربھی نہ ہو۔چیونٹی کا عقیدہ تھا کہ پیغمبر کے صحابہ چیونٹی پربھی ظلم نہیں کرتے لہذا اس حدیث سے صحابہ کا ظالم ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1772