Main Icon

باب:چوری میں ہاتھ کاٹنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3590

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تُقْطَعُ يَدُ سَارِقٍ إِلَّا بِرُبع دِينَارٍ فَصَاعِدًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا تقطع يد سارق إلا بربع دينار فصاعدا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ چور کے ہاتھ ۱؎چہارم دینار سے کم میں نہ کاٹے جائیں پھر زیادہ میں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاںسارقسے مراد جنس ہے خواہ مرد ہو یا عورت لہذا چوئٹے اور چوئٹی کی سزا ایک ہی ہے خواہ چور مؤمن ہویا کافر۔
۲
؎شوافع کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں دینار بارہ درہم کا ہوتا تھا لہذا چوتھائی دینار تین درہم ہوا لہذا جن احادیث میں تین درہم کا ذکر ہے وہ اس حدیث کی شرح ہیں۔خیال رہے کہ اس پر تو تمام اماموں کا اتفاق ہے کہ چوری کی سزا ہاتھ کٹنا ہے مگر اس میں اختلاف ہے کہ کتنے مال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے۔امام شافعی رحمۃ اعلیہ کے نزدیک تین درہم کا مال چرانے پر ہاتھ کٹے گا ان کی دلیل یہ حدیث ہے ،ہمارے امام اعظم کے نزدیک پورے دینار کی قیمت کامال چرانے پر ہاتھ کٹے گاامام اعظم قدس سرہ کی دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت عبداابن مسعود سے مرفوعًا اور موقوفًا دونوں طرح مروی ہے کہلایقطع الا فی دینارٍیعنی چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا مگر ایک دینار میں،امام اعظم کے ہاں دینار دس درہم کا ہے لہذا دس درہم کی قیمت کے مال کی چوری پر چور کا ہاتھ کٹے گا،خواجہ حسن بصری اور داؤد اور فرقہ خارجیہ اور امام شافعی کی نواسی کا قول ہے کہ مطلقًا چوری پر ہاتھ کٹے گا خواہ ایک پیسہ کی چوری کرے،وہ کہتے ہیں کہ آیت"السَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا"مطلق ہے،باقی آئمہ فرماتے ہیں کہ چوری کے لیے نصاب مقرر ہے اور آیت کریمہ"السَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ" مطلق نہیں بلکہ مجمل ہے کیونکہ چور اور چوری اور ہاتھ کی تفصیل نہیں کہ کس چور کا کس چوری پرکون سا ہاتھ کٹے گا داہنا کہ بایاں اور کہاں سے کٹے گا کلائی سے یا کہنی سے یا کندھے سے،احادیث نے ان اجمالات کی تفصیل فرمائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3590