Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3985

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا، ذٰلِكَ بِأَنَّ اللّٰهَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "فلم تحل الغنائم لأحد من قبلنا، ذلك بأن الله رأى ضعفنا وعجزنا فطيبها لنا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ہم سے پہلے کسی کے لیے غنیمتیں حلال نہ ہوئیں ۱؎یہ اس لیے ہے کہنے ہماری کمزوری ہماری عاجزی دیکھی تو اس نے ہمارے لیے یہ حلال فرمادیں۲؎

شرح حدیث

۱∞؎مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں ہےلم تحلبغیر ف کے اس صورت میں یہ کلام مستقل ہے اور اگرفلم تحلف سے ہو تو یہ کلام کسی گذشتہ کلام پر مرتب ہے،یہ پورا کلام شریف اسی باب کی تیسری فصل میں آئے گا۔یعنی غنیمت کا مال ہم سے پہلے کسی نبی کی امت کے لیے حلال نہ کیا۔وہ لوگ جب جہا دمیں کفار سے مال چھینتے تھے تو یہ سارا مال جمع کرکے کسی جگہ رکھتے تھے،آسمان سے غیبی آگ بغیر دھوئیں والی آتی تھی اسے جلا جاتی تھی،یہ آگ کا جلا ڈالنا اس کی علامت ہوتی تھی کہ یہ جہاد مقبول ہے اور غنیمت میں خیانت نہیں ہوئی،اگر آگ نہ جلاتی تو وہ لوگ سمجھ جاتے کہ یا تو جہاد مردود ہوگیا یا اس غنیمت میں کچھ خیانت ہوئی ہے یہ ہی حال ان کی قربانیوں کا تھا،ہمارے لیے غنیمت اور قربانی دونوں چیزیں حلال فرمادی گئیں۔(از مرقات ولمعات مع اضافہ)
۲
؎یعنی ان گذشتہ قوموں کے لحاظ سے ہم لوگ جسمًا کمزور بھی ہیں اور مال میں کم بھی اور تاقیامت بہت کمزور و غریب لوگ جہاد کیا کریں گے۔ان وجوہ سے ہمارے لیے غنیمت حلال کردی کہ جہاد میں ثواب بھی حاصل کریں اور مال بھی یہ رعایت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے صدقہ میں ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جہاد گزشتہ دینوں میں بھی تھے۔ہم نے اپنی تفسیر نعیمی میں ثابت کیا ہے کہ جہاد حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام کے زمانہ سے شروع ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3985