Main Icon

باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4029

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ: "مَنْ يَنْظُرُ لَنَا مَا صَنَعَ أَبُوْ جَهْلٍ؟ " فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ فَوَجَدَهٗ قَدْ ضَرَبَهٗ ابْنَا عَفْرَاءَ حتّٰى بَرَدَ قَالَ: فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهٖ، فَقَالَ: أَنْتَ أَبُوْ جَهْلٍ فَقَالَ: وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوْهُ. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: فَلَوْ غَيْرُ أَكَّارٍ قَتَلنِي. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر: "من ينظر لنا ما صنع أبو جهل؟ " فانطلق ابن مسعود فوجده قد ضربه ابنا عفراء حتى برد قال: فأخذ بلحيته، فقال: أنت أبو جهل فقال: وهل فوق رجل قتلتموه. وفي رواية: قال: فلو غير أكار قتلني. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے دن ۱؎کہ کون دیکھ کر ہم کو بتادے گا کہ ابوجہل کو کیا ہوا ۲؎تو ابن مسعود چلے اسے پایا کہ عفرا کے بیٹوں نے اسے مار دیا ہے حتی کہ ٹھنڈا ہوگیا ہے۳؎آپ نے اس کی داڑھی پکڑکر فرمایا۴؎کہ کیا تو ہی ابوجہل ہے وہ بولا کہ کیا تم نے مجھ سے اوپر والے کو بھی قتل کیا ہے ۵؎ایک روایت ہے کہ بولا کاش مجھے کسان کے علاوہ کوئی اور قتل کرتا۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ ارشاد عالی غزوہ بدر ختم ہوچکنے اور سکون حاصل ہوجانے کے بعد ہوا،دوران جنگ میں اس طرف توجہ ہی نہیں ہوتی یعنی کوئی شخص کفار کی نعشوں میں زخمیوں میں ابوجہل کو تلاش کرے کہ وہ جی رہا ہے یا مرگیا ہے مردوں میں پڑا ہے یا زخمیوں میں۔
۲
؎اگرصنعمعروف ہے تو ترجمہ وہ ہی ہے جو ہم نے عرض کیا اور اگرصنعمجہول ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ ابوجہل کے ساتھ کیا کیا گیا۔رب نے اس سے کیا معاملہ فرمایا اسے موت دے دی یا ابھی نہیں اور موت دے دی ہے تو کس حالت میں۔
۳
؎یہاں ٹھنڈا ہوجانے سے مراد اگر مرجانا ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ ٹھنڈا ہوجانے کے قریب ہوگیا ہے اور اگر مراد جسم کا خون نکل کر حرارت عزیزی ختم ہوجانا ہے تو مطلب بالکل ظاہر ہے یعنی اس کا جسم ٹھنڈا ہوچکا ہے اور وہ قریب الموت ہے کتے کی طرح سسک رہا ہے۔خیال رہے کہ ابوجہل کو تمام کفار مکہ اس حالت میں چھوڑکر بھاگ چکے تھے۔
۴
؎معلوم ہوا کہ اس زمانہ میں مشرکین بھی ایک مشت داڑھی رکھتے تھے،یہ بھی معلوم ہوا کہ کافر کی داڑھی کی کوئی عزت و حرمت نہیں اسے پکڑنا کھینچنا جائز ہے،مسلمان کی داڑھی بڑی حرمت کی چیز ہے کہ سنت رسولہے۔صلی اللہ علیہ وسلم
۵
؎یعنی آج کے مقتولین میں سب سے بڑی عزت و عظمت والا میں ہی ہوں کہ تمام کفار مکہ بلکہ کفار عرب کا سردار ہوں۔
۶
؎یعنی مجھے اس ذلت کا غم ہے جو اس قتل میں مجھے پہنچی کہ مجھے مدینہ کے انصار کے دو بچوں نے قتل کیا۔ اہل مدینہ عمومًا کھیتی و باغبانی کیا کرتے تھے اس لیے اس نے انہیں اکاریعنی کسان کہا مجھے کوئی بڑی عزت والا قتل کرتا۔معلوم ہوا کہ ابوجہل بمقابلہ فرعون زیادہ متکبر تھا کہ فرعون ڈوبتے وقت بول اٹھا"اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوۡۤا إِسْرَائِيلَ"مگریہ مردود اب اس حالت میں بھی شیخی ہی بھگار رہا ہے اگر اس حالت میں کلمہ پڑھ لیتا تو شاید کچھ فائدہ اٹھالیتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4029