Main Icon

باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3140

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ الرُّبَيِّعِ بْنَتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ حِينَ بُنِيَ عَلَيَّ، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي، فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ لَنَا يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ،وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ، إِذْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، فَقَالَ: "دَعِي هَذِهِ وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولينَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

عن الربيع بنت معوذ بن عفراء قالت: جاء النبي صلى الله عليه وسلم فدخل حين بني علي، فجلس على فراشي كمجلسك مني، فجعلت جويريات لنا يضربن بالدف،ويندبن من قتل من آبائي يوم بدر، إذ قالت إحداهن: وفينا نبي يعلم ما في غد، فقال: "دعي هذه وقولي بالذي كنت تقولين". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ربیع بنت معوذ عفراء سے ۱؎فرماتی ہیں جب میری رخصت کی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور جیسے تم میرے پاس بیٹھے ہو ویسے ہی حضور میرے بستر پر بیٹھ گئے ۲؎تو ہماری بچیاں دف بجانے لگیں اور میرے باپ دادے جو بدر کے دن شہید ہوئے تھے ان کا مرثیہ کہنے لگیں ۳؎کہ جب ان میں سے ایک نے یہ شعر کہا کہ ہم میں وہ نبی ہیں جو کل کی بات جانتے ہیں ۴؎تو حضور نے فرمایا یہ چھوڑو ۵؎وہ ہی کہو جو پہلے کہتی تھیں ۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عفراء معوذ کی والدہ کا نام ہے صحابیہ انصاریہ ہیں،بیعت الرضوان میں شریک ہوئیں بہت دراز عمر پائی بڑے درجہ والی بی بی ہیں ربیع کی دادی ہیں۔
۲
؎یہ خطا ب خالد ابن ذکوان سے ہے جو ربیع سے روایت کررہے ہیں یعنی جیسے تم میرے بستر پر میرے پاس بیٹھے ہو ایسے ہی حضور میرے پاس میرے بستر پر تشریف فرما ہوئے تھے۔ظاہر یہ ہے کہ آپ اس وقت باپردہ ہوں گی اور گھر مہمانوں سے بھرا ہوگا، کیونکہ رخصت کا دن تھا اور اگر بے پردہ بیٹھی ہوں تو یا یہ واقعہ پردہ فرض ہونے سے پہلے کا ہے یا حضور کی خصوصیات سے ہے کہ عورتوں پر آپ سے پردہ نہیں بہرحال حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔(مرقات و لمعات)
۳
؎یہ بچیاں نابالغہ اور غیر مراہقہ تھیں اور صرف دف بجا کر گاتی تھیں جھانج وغیرہ کوئی باجہ نہ تھا اشعار گندے نہ تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ نکاح یا رخصت پر ننھی بچیوں کا ایسا گانا درست ہے
۴
؎یہ شعر نہ تو کسی کافر کا ہے کہ کافر کو حضور کی نعت سے کیا تعلق نہ ان بچیوں کا کہ بچیاں اشعار بنانا نہیں جانتیں یقینًا کسی صحابی کا ہے۔معلوم ہوا کہ صحابہ کرام حضور کے علم غیب کے معتقد تھے،حضور کی ازواج پاک نے پوچھا تھا کہ آپ کے بعد ہم میں سب سے پہلے کون آپ کے پاس پہنچے گی،شہیدوں کی مائیں پوچھتی تھیں کہ میرا بچہ کہاں ہے،کس حال میں ہے ؟ بہرحال صحابہ علم غیب کے معتقد تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شاعر کو مشرک یا کافر نہ فرمایا نہ اس شعر کو برا کہا۔
۵
؎کیوں چھوڑ دو یا اس لیے دف اور کھیل کے دوران نعت شریف نہ چاہیے کہ اس میں نعت کی بے ادبی ہے(اشعہ)یا اس لیے کہ مرثیہ کے دوران نعت نہ پڑھو نعت و مرثیہ ملانا اچھا نہیں،یا اس لیے کہ ہمارے سامنے ہماری تعریف کیوں کرتی ہو یا علم غیب کی نسبت ہماری طرف نہ کرو ا گرچہ ہم کو رب تعالٰی نے علم غیب دیا مگر ہم کو عالم الغیب وغیرہ نہ کہو۔(ازمرقاۃ) دیکھو عیسی علیہ السلام کو خالق نہیں کہتے مگر قرآن کریم میں ہے:"اَنِّیۡۤ اَخْلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ"الایہ۔غرضکہ اس حدیث میں وہابی دلیل نہیں پکڑ سکتے۔
۶
؎معلوم ہوا کہ یہ گیت درست تھے اور ان کا گانا ان بچیوں کے لیے مباح تھا یہ امر اباحت کا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3140