- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1211
باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1211
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَقَوْلُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اَللّٰهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهٖ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
عن ابن عباس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا قام من الليل يتهجد قال: «اللهم لك الحمد أنت قيم السماوات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت نور السماوات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت ملك السماوات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت الحق ووعدك الحق ولقاؤك حق وقولك حق والجنة حق والنار حق والنبيون حق ومحمد حق والساعة حق اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا إله غيرك»(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھنے اٹھتے تو کہتے الہی تیرے لیئے حمدہے تو آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر والوں کا قائم رکھنے والا ہے ۱؎تیرے ہی لیئے حمد ہے تو آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر والوں کا نور ہے ۲؎اور تیری ہی حمد ہے تو آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر والوں کا بادشاہ ہے ۳؎اور تیری ہی حمد ہے تو حق ہے ۴؎تیرا وعدہ حق ہے،تجھ سے ملنا حق ہے اور تیری بات حق ہے ۵؎جنت حق ہے آگ حق ہے،نبی حق ہیں،جناب محمد حق ہیں۶؎قیامت حق ہے،اے الله تیرے لیئے میں اسلام لایا تجھ پر ایمان لایا ۷؎اور تجھ پر میں نے بھروسہ کیا اور تیری طرف میں نے رجوع کیا ۸؎تیرے بھروسے پر میں کفار سے لڑتا ہوں اور تجھ سے فیصلہ چاہتا ہوں ۹؎میرے اگلے پچھلے چھپے کھلے بخش دے اور وہ بخش جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے بڑھانے والا ہے ۱۰؎اور تو ہی پیچھے ہٹانے والا ہے ۱۱؎تو ہی معبود ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۱۲؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یہ دعائیں نماز تہجد شروع کرنے سے پہلے ہیں وضو مسواک کے بعد یا ان سے بھی پہلے۔قیم قیوممبالغہ کے صیغے ہیں یعنی آسمان و زمین اور ان کی مخلوق،جن و انس و فرشتوں وغیرہ کو قائم رکھتا ہے کہ ان سب کی بقا تیرے کرم سے ہے یعنی ان کا موجب بھی تو،باقی رکھنے والا بھی تو،اب ورب میں یہ فرق ہے۔
۲؎یعنی ان کو عدم کی تاریکی سے وجود کا نور دینے والا تو،یا چاند و سورج اور تاروں کے ذریعے انہیں ظاہری نور دینے والا بھی تو ہے اور انبیاء اولیاء اور علماء کے ذریعہ باطنی نور دینے والابھی تو ہے یہاں نور بمعنی منور ہے،رب فرماتا ہے:"اَللّٰہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ"۔
۳؎حقیقی و دائمی بادشاہی ہے تیری عطا سے عارضی و چند روزہ بادشاہ تیرے بعض بندے ہیں چنانچہ دنیا میں صدہا بادشاہ گزرے جن کے نام و نشان نہ رہے۔خیال رہے کہ الله تعالٰی نے ہمارے حضور صلی الله علیہ وسلم کو ساری خلق کا دائمی سلطان بنایا مگر یہ سلطنت عارضی و عطائی ہے رب تعالٰی کی حقیقی و ذاتی۔
۴؎یعنی تو ثابت ہے دائم ہے تیرے لیئے فنا نہیں کہ حق کے ایک معنے یہ بھی ہیں یعنی زائل وفانی کا مقابل دوسرے معنے ہیں باطل و غلط کا مقابل یہاں پہلے معنے مراد ہیں۔
۵؎یہاں حق باطل کے مقابل ہے یعنی تیرا وعدہ اور وعید سچے ہیں اور ہم سب کا تیری بارگاہ میں حاضر ہو کر حساب دینا برحق ہے،تیرے سارے فرمان سچے ہیں تیرے کلام میں جھوٹ کا احتمال نہیں۔خیال رہے کہ صادق وہ کلام ہے جو واقعہ کے مطابق ہو اور حق وہ کلام کہ واقعہ اس کے مطابق ہو،بعض علماء نے فرمایا کہ یہاںلقاسے مراد دیدار الٰہی ہے۔
۶؎اگرچہ نبیوں میں حضور صلی الله علیہ وسلم بھی داخل ہیں مگر چونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم سب سے افضل ہیں،نیز حضور صلی الله علیہ وسلم کی حقانیت پر سارے نبیوں کی حقانیت موقوف ہیں کیونکہ ان سب نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی تشریف آوری اور حقانیت کی بشارتیں دی تھیں،نیز حضور صلی الله علیہ وسلم نے دنیا بھر سے ان سب کی حقانیت کا اقرار کرالیا اس لیئے خصوصیت سے حضور صلی الله علیہ وسلم کا علیحدہ ذکر ہوا۔خیال رہے کہ نبیوں اور حضور صلی الله علیہ وسلم کے حق ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ان کی ذات ان کی صفات اور سارے حالات حتی کہ ان کی خطائیں و لغزشیں بھی حق ہیں کہ اس پر ہزار ہا حق مرتب ہوتے ہیں۔
۷؎یعنی ظاہر و باطن میں تیرا مطیع ہوں اور تیرے سارے احکام کو حق سمجھتا ہوں،ایمان و سلام کا فرق کتاب الایمان کے شروع میں بیان ہوچکا۔
۸؎صوفیا فرماتے ہیں کہ گناہوں سے باز آجانا توبہ ہے اور غفلت سے باز آکر بیدار ہوجانا انابت،شریعت والوں کا تو کل یہ ہے کہ اسباب پر عمل اور "مُسَبِّبَ الْاَسْبَابْ"پر نظرطریقت و الوں کا توکل یہ ہے اسباب کی آڑ کو پھاڑ دینا اور یار تک پہنچ جانا۔
۹؎یعنی تیرے لیئے میرا جہاد ہے اور جہاد میں تیری مدد پر نظر ہے میرا اور کفار کا فیصلہ تو فرما کر میرا سچ اور ان کا جھوٹ ظاہر فرمادے۔
۱۰؎نہایت جامع استغفار ہے جس میں ہر قسم کی غلطیوں گناہوں کا ذکر آگیا،یہ سب کچھ ہماری تعلیم کے لیئے ہے ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم تک گناہوں کی رسائی نہیں وہ گناہ کرنیکے لیئے پید ا نہیں ہوئے بلکہ گنہگاروں کی دستگیری کرنے کے لیئے تشریف لائے۔
۱۱؎تو نے اپنے فضل و کرم سے مجھے درجہ میں سب سے آگے رکھا اور زمانہ میں سب نبیوں سے پیچھے یا آخرت میں تو نے مجھے سب سے آگے رکھا اور دنیاوی ظہور میں سب سے پیچھے یا تو نے میری امت کو ساری امتوں سے درجوں میں آگے بڑھادیا اور دنیوی ظہور میں سے پیچھے رکھا اس کی تفسیر وہ حدیث ہے "نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ"۔(از مرقات)اس جملہ کی اور بہت تفسیریں ہیں۔
۱۲؎اس کے پہلے جملہ میں غیر سے الوہیت کی نفی ضمنًا ہے دوسرے میں صراحتًا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1211