Main Icon

باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2707

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدْ أُحْصِرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَقَ رَأَسَهٗ وَجَامَعَ نِسَاءَهٗ وَنَحَرَ هَدْيَهٗ حَتّٰى اعْتَمَرَ عَامًا قَابِلًا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن ابن عباس قال: قد أحصر رسول الله صلى الله عليه وسلم فحلق رأسه وجامع نساءه ونحر هديه حتى اعتمر عاما قابلا. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم روک دیئے گئے تھے تو آپ نے سر شریف منڈادیا تھا اور اپنی بیویوں سے صحبت فرمائی اپنی ہدی قربان کر دی حتی کہ اگلے سال عمرہ کیا ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ۶ھ میں حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے عمرہ کا احرام باندھا،حدیبیہ کے میدان میں کفار مکہ نے آپ کو عمرہ سے روک دیا تب آپ اس میدان میں حلال ہو گئے اور وہاں ہی قربانی احصار دے دی،سال آئندہ ۷ھ میں آپ نے اس فوت شدہ عمرہ کی قضا کی۔اس قضا سے معلوم ہوا کہ نفلی عبادت شروع کردینے سے واجب ہوجاتی ہےکہ اس کی قضا ہوتی ہے،شوافع کہتے ہیں کہ یہ دوسرا عمرہ نفلی تھا اس لیے سب نے ادا نہ کیا،سال حدیبیہ میں حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ چودہ۱۴ سو صحابہ تھے قضا میں سات سو بھی نہ تھے،اگر قضا واجب ہوتی تو سب کرتے،ہم کہتے ہیں کہ سب نے قضا کی بعض نے حضو ر انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ بعض نے بعد میں۔ (مرقات)اگر یہ دوسرا عمرہ نفلی ہوتا تو اسے عمرہ قضا نہ کہا جاتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2707