Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5801

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَسِنِينَ فَمَا قَالَ لِي:أُفٍّ وَلَا: لِمَ صَنَعْتَ؟ وَلَا: أَلَّا صَنَعْتَ؟(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أنس قال: خدمت النبي صلى الله عليه وسلم عشرسنين فما قال لي:أف ولا: لم صنعت؟ ولا: ألا صنعت؟(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی ۱؎کبھی مجھ سے تف نہ فرمایا اور نہ یہ کہ تم نے یہ کیوں کیا اور نہ یہ کہ کیوں نہ کیا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضور انور کے مدینہ طیبہ میں تشریف لانے پر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی عمر آٹھ سال تھی،ان کے والدین اس وقت حضور انور کی خدمت میں انہیں لائے اور بولے کہ ہم نے انہیں آپ کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔وفات شریف ۱۰؁∞ ہجری میں ہوئی،وفات شریف تک حضور انور کی خدمت میں رہے بعد وفات مدینہ سے باہر آگئے،مقام موصل میں آپ کامزار ہے۔
۲
؎یعنی میں کم عمر بھی تھا اور کم سمجھ بھی،مجھ سے قصور بھی ہوتے تھے اور کبھی کچھ نقصان بھی ہوجاتا تھا جیسے کوئی چیز ٹوٹ جانا وغیرہ مگر اس سراپا رحم و کرم نے مجھے کبھی جھڑکا نہیں اور ملامت کے طریقہ پر یہ نہ فرمایا کہ تم نے یہ کیوں کردیا یہ کیوں چھوڑ دیا۔افکا ترجمہ اردو میں ہے افوہ یہ سرزنش اور ملامت کے وقت بولا جاتا ہے یہاں دنیاوی کاموں میں اف نہ فرمانا مراد ہے شرعی غلطی پر پکڑ کرنا تو اصلاح ہے۔(مرقات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5801