Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5812

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:قِيلَ:يَا رَسُولَ اللّٰهِ ادْعُ عَلَى المُشْرِكِينَ. قَالَ: إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة قال:قيل:يا رسول الله ادع على المشركين. قال: إني لم أبعث لعانا وإنما بعثت رحمة . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں عرض کیا یارسول اللہ مشرکین پر بددعا کیجئے فرمایا میں بددعا کرنے والا نہ بھیجا گیا میں تو رحمت ہی بھیجا گیا ہوں ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت خاصہ تو مسلمانوں پر ہی ہے اور رحمت عامہ کفار پر بھی ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے دنیا میں کفار پر عذاب آنا بند ہوا،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ کفار کو دعوت اسلام دی یعنی رحمت ایزدی سے قریب کرنے کی کوشش فرمائی۔لعنت کے معنی ہیں رحمت سے دوری کی دعا کرنا،جو رحمت سے قریب کرنے کے لیے بھیجا گیا ہو وہ رحمت سے دور کیسے کرسکتا ہے،فرمایا گیا"وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ"اس لیے جب حضور انور نے قبیلہ رعل اور ذکوان کے لیے فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی تو آیت کریمہ نازل ہوئی"لَیۡسَ لَكَ مِنَ الۡاَمْرِ شَیۡءٌ"اے محبوب یہ بات آپ کے لیے مناسب نہیں یہ تو جلال والے پیغمبروں حضرت نوح اور موسیٰ علیہما السلام کے ہی لائق تھی جن مشرکین پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی وہ بحکم الٰہی کی جیسے فرمایااللھم علیك بالقریشپھر وہ سب بدر میں مارے گئے۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5812