Main Icon

باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5811

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا لَعَّانًا وَلَا سَبَّابًا كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ: «مَا لَهٗ تَرِبَ جَبِينُهٗ؟» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعنه قال: لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم فاحشا ولا لعانا ولا سبابا كان يقول عند المعتبة: «ما له ترب جبينه؟» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تھے فحش گو اور نہ لعنت کرنے والے نہ گالی دینے والے ۱؎غصہ عتاب میں فرماتے تھے اسے کیا ہوا اس کی پیشانی میں مٹی لگ جاوے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور کی عادت کریمہ فحش باتیں کرنے کی کسی پر لعنت پھٹکار کرنے کی نہ تھی،ساری عمر شریف میں ایک بار بھی کسی کو گالی نہ دی،کسی خادم بیوی کو لعنت کے لفظ سے یاد نہ فرمایا۔خیال رہے کہسباباورلعانمبالغے کے صیغے ہیں مگر یہاں اصل لعنت اور گالی کی نفی ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ
۲
؎کیسا پیارا کلمہ ہے۔اس کلمے کے دو معنے ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ وہ شخص خواہ ناک رگڑ دے مگر کامیاب نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ اسے سجدے سجود کی توفیق دے جس سے اس کی پیشانی سجدہ میں لگا کرے،سجدے سے دل میں نرمی پیدا ہوتی ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ ع غصہ میں بھی وہ کہتے ہیں کہ تیرا برا نہ ہو

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5811