Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 978

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَن مُعَاوِيَةَ ابْن الْحَكَمِ قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ . فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ . فَقُلْتُ: وَا ثُكْلَ أُمِّيَاهُ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلیٰ أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لَكِنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا صَلّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهٗ وَلَا بَعْدَهٗ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ فَوَاللهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي قَالَ: «إِنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ» أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَقَدْ جَاءَنا اللهُ بِالْإِسْلَامِ وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ. قَالَ: «فَلَا تَأْتِهِمْ » . قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ. قَالَ: «ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهٗ فِي صُدُورِهِمْ فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ» . قَالَ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ. قَالَ: «كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهٗ فَذَاكَ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَوْلُهُ: لَكِنِّي سَكَتُّ هٰكَذَا وَجَدتُّ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ وَكِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَصُحِّحَ فِي «جَامِعِ الْأُصُولِ» بِلَفْظَةِ كَذَا فَوْقَ: لَكِنِّي

عن معاوية ابن الحكم قال: بينا أنا أصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ عطس رجل من القوم فقلت: يرحمك الله . فرماني القوم بأبصارهم . فقلت: وا ثكل أمياه ما شأنكم تنظرون إلي فجعلوا يضربون بأيديهم علی أفخاذهم فلما رأيتهم يصمتونني لكني سكت فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فبأبي هو وأمي ما رأيت معلما قبله ولا بعده أحسن تعليما منه فوالله ما كهرني ولا ضربني ولا شتمني قال: «إن هذه الصلاة لا يصلح فيها شيء من كلام الناس إنما هو التسبيح والتكبير وقراءة القرآن» أو كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم . قلت: يا رسول الله إني حديث عهد بجاهلية وقد جاءنا الله بالإسلام وإن منا رجالا يأتون الكهان. قال: «فلا تأتهم » . قلت: ومنا رجال يتطيرون. قال: «ذاك شيء يجدونه في صدورهم فلا يصدنهم» . قال قلت ومنا رجال يخطون. قال: «كان نبي من الأنبياء يخط فمن وافق خطه فذاك». رواه مسلم قوله: لكني سكت هكذا وجدت في صحيح مسلم وكتاب الحميدي وصحح في «جامع الأصول» بلفظة كذا فوق: لكني

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاویہ ابن حکم سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ قوم میں سے ایک شخص چھینکا میں نے کہ الله تم پر رحم کرے ۲؎مجھے لوگوں نے تیز نگاہوں سے دیکھا تو میں نے کہا ہائے میری ماں کا رونا ۳؎تمہیں کیا ہوا کہ مجھے دیکھتے ہو ۴؎تو وہ رانوں پر ہاتھ مارنے لگے ۵؎جب میں نے دیکھا کہ مجھے خاموش کررہے ہیں تو میں بھی خاموش ہوگیا ۶؎جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو میرے ماں باپ ان پر نثار میں نے ایسا اچھا سکھانے والا معلم نہ آپ سے پہلے دیکھا نہ بعد میں۔خدا کی قسم نہ مجھے ڈانٹا نہ مارا نہ برا کہا ۷؎فرمایا کہ ان نمازوں میں انسانی کلام مناسب نہیں یہ صرف تسبیح،تکبیر اور تلاوت قرآن ہے ۸؎یا جیسا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ۹؎میں نے عرض کیا یارسول الله میرا زمانہ جاہلیت سے قریب ہے الله نے ہمیں اسلام دیا اور ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں فرمایا تم وہاں نہ جاؤ ۱۰؎میں نے کہا کہ ہم میں سے بعض پرندے اڑاتے ہیں فرمایا یہ ایسی بات ہے جسے وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں انہیں یہ کاموں سے نہ روکے ۱۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہم میں سے بعض لکیریں کھینچتے ہیں فرمایا ایک پیغمبر خط کھینچتے تھے جس کا خط ان کے موافق ہوگا تو درست ہے ۱۲؎(مسلم)ان کا قولسکتمیں نہیں،صحیح مسلم میں یوں ہی پایا اور کتاب حمیدی میں ہے کہ جامع اصول میںلٰکنیکے اوپر لفظکذاسے صحیح کہا ۱۳؎۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،قبیلہ بنی سلیم سے ہیں،اہل مدینہ میں آپ کا شمار ہے۔مرقاۃ نے فرمایا کہ آپ سے صرف یہی حدیث مروی ہے،؁۱۷ھ∞میں وفات پائی۔
۲
؎یعنی چھینکنے والا کو جواب دینے کی نیت سے میں نے یہ کہا اگرچہ یہ جواب دیا جاتا ہے جب چھینکنے والا کہےالحمدللّٰہ،یہاں چھینکنے والے نےالحمدللّٰہنہیں کہا،مگر انہوں نے یہ کہا۔
۳
؎عرب میں یہ لفظ تعجب پر بولا جاتا ہے اس کے معنے یہ ہیں کہ میں مرگیا اور میری ماں مجھے رو رہی ہے یعنی میں نے ایسا کون سا کام کیا جو اس کے رونے کا سبب ہوا۔
۴
؎اولًا اسلام میں بحالت نماز کلام سلام بھی کیا جاتا تھا اور امام کے پیچھے قرأت بھیوَقُوۡمُوۡا لِلہِ قٰنِتِیۡنَ"سے کلام و سلام بند ہوا اور"وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ"الخ سے امام کے پیچھے قرأت ممنوع ہوئی، نماز میں کلام بند ہوچکی تھی انہیں یہ خبر نہ تھی اس لیے انہوں نے یہ گفتگو کی۔
۵
؎یعنی صحابہ نے انہیں کلام سے روکنے کے لیے اپنا ایک ہاتھ ایک ایک بار ران پر مارا،اگر دونوں ہاتھ مارتے یا ایک مسلسل تین بار مارتے تو ان کی اپنی نماز جاتی رہتی کیونکہ عمل کثیر نماز فاسد کردیتا ہے عمل قلیل بھی اگر مسلسل تین بار کیا جائے تو کثیر بن جاتا ہے اور نماز فاسد کردیتا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں ضرورۃً کنکھیوں سے دائیں بائیں دیکھنا اور عمل قلیل بھی جائزہے۔
۶
؎یعنی مجھے غصہ تو بہت آیا اور میں نے چاہا کہ کچھ اور کہوں لیکن ان بزرگوں کا ادب و احترام کرتے ہوئے میں خاموش رہا۔
۷
؎فَوَ اللهالخلَمَّاکا جواب ہے اور اس سے پچھلا جملہ معترضہ تھاکھراورقھرہم معنے ہیں۔چنانچہ ایک قرأت میں ہے "فَاَمَّا الْیَتِیۡمَ فَلَا تَقْہَرْ"یعنی سرکار نے اس غلطی کی وجہ سے مجھ پر کسی قسم کی سختی نہ فرمائی نہایت نرمی سے مسئلہ بتادیا۔
۸
؎یعنی تمہارا "یَرْحَمُكَ الله" کہنا انسانی کلام ہے اس سے نماز جاتی رہتی ہے آئندہ نہ کہنا نماز میں صرف یہ مذکور چیزیں۔فقہا فرماتے کہ اگر نمازی جواب کی نیت سے قرآن شریف کی آیت ہی پڑھ دے تو وہ کلام انسانی ہوگا اور نماز فاسد کردے گا جیسے خوشی کی خبر پراَلْحَمْدُلِلّٰہاورغم کی خبر پراِنَّا لِلّٰہالخ۔
۹
؎یعنی مجھے حضور صلی الله علیہ وسلم کے الفاظ شریفہ میں شک ہے یہی تھے یا اور البتہ مضمون یہی تھا۔خیال رہے کہ حضور علیہ السلام نے انہیں نماز لوٹانے کا حکم نہ دیا،اس لیے کہ انہیں اس آیت کے نزول کی خبر نہ تھی اور ابھی یہ قانون مشتہر نہ ہوا تھا،قانون کی شہرت سے پہلے اس کے احکام مرتب نہیں ہوتے۔اب اگر کوئی نمازی بے خبری سے یہ کرے گا تو نماز دہرانا واجب ہوگا کیونکہ یہ قانون مشہور ہوچکا بے خبری عذر نہیں۔لہذا یہ حدیث سواد اعظم کے خلاف نہیں۔امام شافعی و ابویوسف اس حدیث کی بنا پر فرماتے ہیں کہ نماز میں چھینک کا جواب دینا حرام ہے لیکن اس سے نماز فاسد نہ ہوگی۔
۱۰
؎حضور علیہ السلام کو مہربان دیکھ کر دینی مسائل پوچھنے شروع کردیئے۔کاہن وہ لوگ ہیں جنہیں شیاطین سے تعلق ہوتا ہے علم غیب کا دعویٰ کرتے ہیں اور آئندہ کی جھوٹی سچی خبریں دیتے ہیں جیسے آج کل پنڈت اور جوگی۔عراف وہ کہلاتے ہیں جو چھپی چیزیں چوری کے مال کا پتہ بتاتے ہیں،کاہنوں سے غیبی چیزیں پوچھنا گناہ کبیرہ بلکہ قریب کفر ہے اس کی بحثان شاء الله باب الکہانتمیں ہوگی۔
۱۱
؎کفار عرب میں فال کے بہت طریقے تھے :ان میں سے ایک پرندے اڑانا تھا کہ اگر کسی کام کو چلے اور راستہ میں کوئی چڑیا بیٹھی ملی اسے اڑایا،اگر دائیں طرف اڑی تو سمجھے کامیابی ہے اگر سیدھی اڑھے تو سمجھے کامیابی میں دیر ہے اور اگر بائیں طرف اڑی تو ناکامی کا یقین کرکے واپس لوٹ آئے۔حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ یہ ان کے نفسیاتی وسوسے ہیں رب پر توکل چاہیے اور ایسے وہمیات کی بنا پر کام چھوڑنا نہیں چاہیے۔فال کی بحثانشاءالله باب الفالمیں آئے گی۔
۱۲
؎لکیریں کھینچنے سے مراد رمل ہے جس میں خطوط کے ذریعہ غیبی بات معلوم کی جاتی ہے جیسے علم جفر میں عددوں سے،علم رمل حضرت دانیال کا معجزہ تھا اور علم جفر حضرت ادریس علیہ السلام کا جس کو ان بزرگوں کے خطوط یا اعداد سے مناسبت ہوگی،اس کا درست ہوگا ورنہ غلط۔بعض علماء نے اس حدیث سے دلیل پکڑی کہ عمل رمل اور جفر جائز ہے لیکن بغیر کمال اس پر اعتماد نہیں کرسکتے۔
۱۳
؎یعنی میں نےلٰکِنِّیْ سَکَتُّکو صحیح مسلم میں پایا اور جامع اصول میںلٰکِنِّیْپر لفظکَذَالکھا ہے جو اس کی صحت کی علامت ہے کیونکہ وہ صحیح پر لفظکَذَالکھ دیا کرتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 978