Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 989

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهٗ فَوَجَدْتُهٗ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتّٰى إِذَا قَضٰى صَلَاتَهٗ قَالَ: «إِنَّ اللهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهٖ مَا يَشَاءُ وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ أَنْ لَا تَتَكَلَّمُوْا فِي الصَّلَاةِ» . فَرَدَّ عَلَی السَّلَامَ

عن عبد الله بن مسعود قال: كنا نسلم علی النبي صلى الله عليه وسلم وهو في الصلاة قبل أن نأتي أرض الحبشة فيرد علينا فلما رجعنا من أرض الحبشة أتيته فوجدته يصلي فسلمت عليه فلم يرد علي حتى إذا قضى صلاته قال: «إن الله يحدث من أمره ما يشاء وإن مما أحدث أن لا تتكلموا في الصلاة» . فرد علی السلام

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم حبشہ جانے سے پہلے حضور صلی الله علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے حالانکہ آپ نماز میں ہوتے تو آپ ہم کو جواب دیتے تھے پھر جب ہم حبشہ سے لوٹے تو میں آپ کی خدمت میں آیا آپ کو نماز پڑھتے پایا میں نے آپ کو سلام کیا تو مجھے آپ نے جواب نہ دیا حتی کہ جب اپنی نماز پوری کی تو فرمایا الله اپنے احکام میں جو چاہے نئے حکم دے اب جو نیا حکم بھیجا اس میں یہ ہے کہ نماز میں کلام نہ کرو پھر آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا ۱؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ سلام کا جواب استحبابًا تھا تاکہ حضرت ابن مسعود کا دل خوش ہوجائے ورنہ اگر کوئی نمازی کو،تلاوت قرآن کرنے والے کو یا قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کرے تو ان پر جواب دینا واجب نہیں کیونکہ ان حالتوں میں سلام کرنا سنت نہیں، مسنون سلام کا جواب واجب ہے نہ کہ ممنوع سلام کا،لیکن اگر فراغت کے بعد جواب دے دیا جائے تو بہتر ہے(لمعات)اس سے بہت سے مسائل مستنبط ہوسکتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 989