Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1000

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَلِجَوْفِهٖ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ يَعْنِي: يَبْكِي وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَفِي صَدْرِهٖ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الرَّحَا مِنَ الْبُكَاءِ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَرَوَى النَّسَائِيُّ الرِّوَايَةَ الْأُولٰى وَأَبُو دَاوُدَ الثَّانِيَة

وعن مطرف بن عبد الله بن الشخير عن أبيه قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلي ولجوفه أزيز كأزيز المرجل يعني: يبكي وفي رواية قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي وفي صدره أزيز كأزيز الرحا من البكاء. رواه أحمد وروى النسائي الرواية الأولى وأبو داود الثانية

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مطرف ابن عبد الله ابن شخیر سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کے پیٹ میں ہانڈی کی سی کھولن تھی یعنی رو رہے تھے ۲؎اور ایک روایت میں ہے فرماتے ہیں میں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا حالانکہ آپ کے سینے میں رونے سے چکی کی سی گڑگڑاہٹ تھی۔(احمد)اور نسائی نے پہلی روایت اور ابوداؤد نے دوسری روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎مطرف تابعی ہیں اور ان کے والد عبد الله ابن شخیر صحابی ان کا پورا نام یہ ہے مطرف ابن عبد الله ابن عامر ابن صعصعہ شخیر۔
۲
؎حضور انور صلی الله علیہ وسلم کا یہ رونا خوف خدایا عشق الٰہی میں تھا یا اپنی امت کی شفاعت میں جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ حضور علیہ السلام تہجد پڑھ رہے تھے اور آیتاِنْ تُعَذِّبُہَمْالخ بار بار پڑھتے تھے اور روتے تھے یہ رونا رب تعالٰی کو بہت پیارا ہے،اب بھی جو نمازی حضور صلی الله علیہ وسلم کے عشق یا خدا کے خوف سے نماز میں روئے تو نماز بڑی مقبول ہوتی ہے خصوصًا نماز تہجد،ہاں دنیوی تکلیف سے نماز میں رونا منع ہے اور اگر اس میں تین حرف ادا ہوگئے تو نماز فاسد ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1000