Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 998

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْحَظُ فِي الصَّلَاةِ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يَلْوِي عُنُقَهٗ خَلْفَ ظَهْرِهٖ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يلحظ في الصلاة يمينا وشمالا ولا يلوي عنقه خلف ظهره. رواه الترمذي والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نماز میں دائیں بائیں کنکھیوں سے دیکھتے تھے اور اپنی گردن پیٹھ کے پیچھے نہ موڑتے تھے ۱؎(ترمذی،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث گزشتہ ان احادیث کی شرح ہے جن میں التفات سے منع کیا گیا اس نے بتایا کہ وہاں مراد سر پھیر کر دیکھنا تھا بغیر سر پھیر ے دیکھنا جائز اگر چہ خلاف مستحب ہے حضور علیہ السلام کا یہ فعل شریف بیان جواز کے لیے ہے حضور علیہ السلام کو بعض مکروہ فعلوں پر مستحب کا ثواب ملتا ہے کیونکہ آ پ کی یہ عملی تبلیغ ہے۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 998