Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1011

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي الظُّهْرَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاٰخُذُ قَبْضَةً مِنَ الْحَصٰى لِتَبْرُدَ كَفِّيْ أَضَعُهَا لِجَبْهَتِي أَسْجُدُ عَلَيْهَا لِشِدَّةِ الْحَرِّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحْوَهٗ

وعن جابر قال: كنت أصلي الظهر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخذ قبضة من الحصى لتبرد كفي أضعها لجبهتي أسجد عليها لشدة الحر. رواه أبو داود وروى النسائي نحوه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ظہر پڑھتا تھا تو کنکریوں کی ایک مٹھی لے لیتا تھا ۱؎تاکہ وہ میرے ہاتھ میں ٹھنڈی ہوجائیں انہیں اپنی پیشانی کی جگہ رکھ لیتا تاکہ ان پر سجدہ کروں سخت گرمی کی وجہ سے ۲؎(ابوداؤد)نسائی نے اس کی مثل۔

شرح حدیث

۱∞؎نماز سے پہلے کچھ بجری ٹھنڈی کرکے سجدہ گاہ میں رکھ لیتا تھا نہ کہ نماز کے اندر،لہذا یہ حدیث بالکل واضح ہے۔
۲
؎یعنی فرش سخت گرم ہوتا تھا جس پر سجدہ کرنا مشکل ہوتا اس لیے یہ عمل کرتا لہذا اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم گرمیوں میں ظہر دوپہری میں پڑھتے تھے اور نہ یہ حدیث اس کے خلاف ہے کہ ظہر ٹھنڈی کرو،فرش بہت دیر تک گرم رہتا ہے لہذا یہ حدیث حنفیوں کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1011