Main Icon

باب :مسافر کا روزہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2019

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: أَصُومُ فِي السَّفَرِ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ، فَقَالَ: "إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأفْطِرْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن عائشة قالت: إن حمزة بن عمرو الأسلمي قال للنبي -صلی اللہ عليه وسلم-: أصوم في السفر وكان كثير الصيام، فقال: "إن شئت فصم، وإن شئت فأفطر". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت حمزہ ابن عمر اسلمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا میں سفر میں روزہ رکھوں وہ بہت روزے رکھتے تھے ۱؎تو حضور نے فرمایا اگر چاہو روزہ رکھو اگر چاہو افطار کرو ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ آپ صائم الدھر یعنی ہمیشہ کے روزہ دار تھے چاہتے تھے کہ سفر میں بھی کبھی روزہ نہ چھوڑیں تب یہ سوال کیا سفر میں روزہ رکھنا گناہ تو نہیں شاید آپ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن چکے تھے کہ سفر میں روزہ اچھا نہیں اس لیے یہ سوال کیا۔
۲
؎اس جواب سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ اگرچہ مسافر کو روزہ رکھنے نہ رکھنے کا اختیار ہے مگر عام حالات میں روزہ رکھ لینا بہتر تاکہ عام مسلمانوں کی موافقت بھی ہوجائے اور رمضان کے بعد قضاء گراں بھی نہ پڑے کیونکہ سرکار نے روزہ رکھنے کا ذکر پہلے فرمایا۔خیال رہے کہ اگرچہ مسافر کو روزہ نہ رکھنے کا اختیار ہے مگر ماہ رمضان کی بے حرمتی کرنے کا اختیار نہیں لہذا بازاروں میں علانیہ نہ کھائے پیئے،نہ سگریٹ پیتا پھرے بلکہ چھپ کر کچھ کھائے پیئے،حیض و نفاس والی عورتوں کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ چھپ کر کھائیں پئیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2019