Main Icon

باب:آزادی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3382

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً أَعْتَقَ اللّٰهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "من أعتق رقبة مسلمة أعتق الله بكل عضو منه عضوا من النار حتى فرجه بفرجه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےفرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو مسلمان گردن کو آزاد کرے ۱؎تو اتعالٰی اس کے ہر عضو کے عوض اس کا عضو آگ سے آزاد فرمائے گا ۲؎حتی کہ شرمگاہ کے بدلہ شرمگاہ ۳؎(مسلم،بخاری)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎مسلمان کی قید لگانے سے معلوم ہوا کہ مسلمان غلام کا آزاد کرنا بہتر ہے اس کا ثواب زیادہ پھر بمقابلہ فاسق غلام کے متقی پرہیز گار غلام کا آزاد کرنا افضل۔حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو آزاد فرما کر دین و دنیا میں وہ مرتبہ پایا کہسبحان اﷲ!سورۂ واللیل شریف اسی آزادی کے فضائل بیان فرمارہی ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ابوبکر نے بلال کو آزاد فرماکر مجھ پر احسان کیا،امام مالک فرماتے ہیں کہ سستے مسلمان غلام کو آزاد کرنے سے قیمتی کافر غلام کا آزاد کرنا افضل ہے،یہ حدیث ان کے خلاف ہے غرضکہ جس قدر آزاد ہونے والا غلام افضل ہوگا اسی قدر آزاد کرنے والے کا درجہ اعلیٰ اسی لیے اولاد اسماعیل کے غلام کو آزاد کرنے کے بڑے فضائل ہیں،یہاں اس پر مرقات میں بہت اچھی بحث فرمائی۔
۲
؎یعنی اس کا ہر عضو آزاد کرنے والے کے اعضاء کا فدیہ بن جائے گا جیسے قربانی یا عقیقہ کے جانور کے اعضاء دینے والے کے اعضاء کا فدیہ بن جاتے ہیں اسی لیے عقیقہ پر پڑھا جاتاہےولہا بدنہ لحملھا بلحمہ شعرھا بشعرہبہرحال غلام آزاد کرنا بہترین عمل ہے جب کہ رضائے الٰہی کے لیے ہو۔
۳
؎شرمگاہ کا ذکر خصوصیت سے اس لیے فرمایا کہ یہ تمام اعضاء سے خبیث عضو ہے کہ ناپاکی کا محل ہے زیادہ گناہ اسی سے ہوتے ہیں جب کہ یہ عضو بھی دوزخ سے آزاد ہوگیا تو باقی اعضاء بدرجہ اولیٰ آزاد ہوں گے۔ اس حدیث کی بنا پر بعض حضرات کہتے ہیں کہ خصی یا ذکر کٹے غلام کو آزاد کرنا بہتر نہیں اور بہتر یہ ہے کہ مرد تو مرد کو آزاد کرے اور عورت عورت کو جیسا کہ ابوداؤد ابن حبان کی بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے۔یہ حدیث مختلف عبارتوں سے بہت اسنادوں سے بہت محدثین نے نقل فرمائی۔
۴
؎یہ حدیث تمام کتب صحاح میں اور جامع صغیر طبرانی وغیرہ میں مختلف صحابہ سے موقوفًا و مرفوعًا منقول ہے،اس کی تفصیل یہاں مرقات میں ملاحظہ کیجئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3382