Main Icon

باب:آزادی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3386

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَن الْغَرِيفِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: أَتَيْنَا وَاثِلَةَ بْنَ الأَسْقَعِ فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا حَدِيثًا لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلَا نُقْصَانٌ، فَغَضِبَ وَقَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَقْرَأُ وَمُصْحَفُهُ مُعَلَّقٌ فِي بَيْتِهِ فَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ، فَقُلْنَا: إِنَّمَا أَرَدْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَوْجَبَ -يَعْنِي النَّارَ- بِالْقَتْلِ فَقَالَ: "أَعْتِقُوا عَنْهُ يُعْتِقِ اللّٰهُ بِكُل عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيُّ.

عن الغريف بن الديلمي قال: أتينا واثلة بن الأسقع فقلنا: حدثنا حديثا ليس فيه زيادة ولا نقصان، فغضب وقال: إن أحدكم ليقرأ ومصحفه معلق في بيته فيزيد وينقص، فقلنا: إنما أردنا حديثا سمعته من النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في صاحب لنا أوجب -يعني النار- بالقتل فقال: "أعتقوا عنه يعتق الله بكل عضو منه عضوا منه من النار". رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت غریف ابن دیلمی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم واثلہ ابن اسقع کے پاس گئے ۲؎ہم نے عرض کیا کہ ہم کو وہ حدیث سنائیے جس میں کمی بیشی نہ ہو تو وہ ناراض ہوگئے اور فرمایا تم میں سے کوئی تلاوت کرتا ہے اور اس کا قرآن اس کے گھر میں لٹکا ہوتا ہے تو کیا وہ کمی بیشی کردیتا ہے ؟۳؎ہم بولے کہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ وہ حدیث سنایئے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی ہو ۴؎تو فرمانے لگے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کے معاملے میں حاضر ہوئے جس نے قتل کرکے اپنے لیے دوزخ واجب کرلی تھی ۵؎تو فرمایا اس کی طرف سے غلام آزاد کرو ااس کے ہر عضو کے عوض اس کا عضو آگ سے آزاد کردے گا ۶؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا لقب غریف ابن عیاش ابن فیروز د یلمی ہے، نام عبداہے، تابعین میں سے ہیں، ثقہ و مقبول الحدیث ہیں۔
۲
؎آپ مشہور صحابی ہیں،واثلہ ابن اسقع لیثی اس وقت ایمان لائے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم غزوہ تبوک کی تیاری کررہے تھے۔ آپ اہل صفہ میں سے ہیں،تین سال حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت کی،بصرہ میں رہے،آخر عمر میں دمشق سے تین میل دور قریہ بلاط میں رہے، پھر بیت المقدس میں انتقال فرمایا،پورے سو سال عمر پائی۔
۳
؎مقصد یہ ہے کہ بالکل غلطی نہ ہونا طاقت انسانی سے باہر ہے،دیکھو باوجود یہ کہ تلاوت قرآن دن رات کی جاتی ہے اور لکھا ہوا قرآن گھر میں رکھا رہتا ہے،دن رات دیکھا جاتا ہے پھر بھی اس میں غلطی ہوجاتی ہے یہ تو حدیث شریف ہے جس کی نہ تلاوت اس قدر اہتمام سے ہو نہ وہ کتابی شکل میں لکھی ہوئی ہمارے پاس موجود ہے پھر بالکل زیادتی کمی نہ ہونا کیسے ہوسکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ روایت حدیث بالمعنی اور حدیث میں ایسی زیادتی کمی جس سے مقصد نہ بدلے درست ہے اس پر صحابی کرام کا عمل ہے۔(مرقات)
۴
؎یعنی ہمارا مقصد یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اس طرح سنایئے کہ اس کے معنے میں قطعی تبدیلی نہ ہو یہ مقصد نہیں کہ الفاظ بھی قطعًا نہ بدلیں آپ ہمارا مقصد سمجھے نہیں۔
۵
؎لفظ یعنیالنار غریفکا ہے،واثلہ رضی اللہ عنہ کی روایت یہ ہےاوجب بالقتلاس کی شرح غریف نے کی،مطلب یہ ہے کہ ہمارے ایک ساتھی نے کسی کو بغیر عمد قتل کرکے سخت جرم کرلیا تھا ان پر قصاص تو تھا نہیں دیت تھی ہم نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ آخرت میں اس قاتل کی جان کیونکر دوزخ سے بچے۔
۶
؎اس سے دو مسئلے معلو م ہوئے: ایک یہ کہ بغیر عمدکے قتل میں قصاص نہیں دیت ہے۔دوسرے یہ کہ دیت سے دنیاوی معافی ہو جاتی ہے آخرت کے وبال سے بچنے کے لیے کوئی نیکی کرنا چاہیے۔ خیال رہے کہ قتل خطاء بھی جرم ہے کیونکہ یہ قتل بے احتیاطی کی سزا دوزخ ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ خطا و نسیان پر تو پکڑ نہیں پھر کفارہ کے لیے غلام کیوں آزاد کرایا گیا کیونکہ خطا پر پکڑ نہیں مگر جس غفلت کی وجہ سے خطاء ہوئی،اس غفلت پر پکڑ ہے،اگر کوئی رات کو دیر سے سوئے جس کی وجہ سے صبح کو آنکھ نہ کھلے اور نماز فجر قضا ہوجائے تو رات کو بلاوجہ زیادہ جاگنے پر پکڑ ہے کہ تم جلد کیوں نہ سو گئے تاکہ جلد آنکھ کھل جاتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3386