Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1254

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنٰى مَثْنٰى فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلّٰى رَكْعَةً وَاحِدَة ًتُوْتِرُ لَهٗ مَا قَدْ صَلّٰى »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «صلاة الليل مثنى مثنى فإذا خشي أحدكم الصبح صلى ركعة واحدة توتر له ما قد صلى »(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ رات کی نماز دو دور رکعتیں ہیں ۱؎پھر جب تم میں سے کوئی صبح کا خوف کرے۲؎تو ایک رکعت اور پڑھ لے جو اس کی پڑھی ہوئی نماز کو طاق بنادے گی۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بہتر یہ ہے کہ نماز تہجد دو۲دو۲ رکعتیں پڑھے،چار چار یا زیادہ کی نیت نہ باندھے یہ حدیث صاحبین اور امام شافعی کی دلیل ہے کہ رات کے نوافل دو دو کرکے پڑھنا افضل ہے۔
۲
؎یعنی تہجد پڑھنے والے وتر تہجد کے بعد پڑھیں مگر صبح صادق سے پہلے پہلے پڑھ لیں۔اس حدیث میں اشارۃً ارشاد ہوا کہ تہجد کی نماز دراز پڑھے حتی کہ صبح کے وقت ختم کرے۔
۳
؎اس کے معنے یہ ہیں کہ ایک رکعت دو رکعتوں کے ساتھ پڑھے یہ ایک رکعت تمام نماز کو طاق بنادے گی یہ مطلب نہیں کہ علیحدہ ایک رکعت پڑھے ورنہ یہ حدیث تین رکعت والی احادیث کے خلاف ہوگی جو آگے آرہی ہیں اور احادیث میں سخت تعارض ہوگا لہذا یہ حدیث ا حناف کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1254