تربیت کرنے کے چند راہنمااُصول(چوتھی اور آخری قسط)تربیت کرنے کے چند راہنمااُصول(چوتھی اور آخری قسط) دلوں کی حالتیں (تیسری اور آخری قسط)دلوں کی حالتیں (تیسری اور آخری قسط) مہمان نوازیمہمان نوازی حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں تین اہم معلوماتحضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں تین اہم معلومات نماز میں چیکٹ کے بٹن کھلے ہون تو؟نماز میں چیکٹ کے بٹن کھلے ہون تو؟ کیا مرچوں سے نظر اتارنا اِسراف ہے؟کیا مرچوں سے نظر اتارنا اِسراف ہے؟ گھریلوبجٹ کیوں نہیں بناتے؟گھریلوبجٹ کیوں نہیں بناتے؟ مومن کی شان قسط (پانچویں اور آخری قسط)مومن کی شان قسط (پانچویں اور آخری قسط) اُمّتیوں کے اعمال پیش ہوتے ہیںاُمّتیوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں ترقی!مگر کیسےترقی!مگر کیسے نشے کی حرمتنشے کی حرمت کیا علماء نے دین کو مشکل بنایا ہے؟(تیسری اور آخری قسط)کیا علماء نے دین کو مشکل بنایا ہے؟(تیسری اور آخری قسط) خوشیاں بانٹئےخوشیاں بانٹئے عربی زبان کی خاص باتیں (قسط :1)عربی زبان کی خاص باتیں (قسط :1) حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا ذریعۂ معاش اور ان کی سخاوتحضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا ذریعۂ معاش اور ان کی سخاوت اجیر کا آگے کسی اور سے اُجرت پر کام کروانا کیسا؟اجیر کا آگے کسی اور سے اُجرت پر کام کروانا کیسا؟ حضرتِ صدیق اکبر  رضی اللہ عنہ  کے 15 بے مثال فضائلحضرتِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے 15 بے مثال فضائل جمادی الاولیٰ اسلامی سال کا چھٹا مہینا ہےجمادی الاولیٰ اسلامی سال کا چھٹا مہینا ہے غصّہ مت کروغصّہ مت کرو ہمیشہ سچ بولیںہمیشہ سچ بولیں امّی جان کی پریشانی دور کردیامّی جان کی پریشانی دور کردی کالُوکالُو بچّے اور امتحانات کی تیاریبچّے اور امتحانات کی تیاری ساس کی خدمتساس کی خدمت حضرت فاطمہ بنت قیس  رضی اللہ عنہاحضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا عدت میں عورت کا اپنے میکے جانا کیسا؟عدت میں عورت کا اپنے میکے جانا کیسا؟ قالین کے داغ دھبّے صاف کرنے کا طریقہقالین کے داغ دھبّے صاف کرنے کا طریقہ فرائیڈ فشفرائیڈ فش ان سے تمنا نظر کی ہےان سے تمنا نظر کی ہے نمونیا کے اسباب اور احتیاطیںنمونیا کے اسباب اور احتیاطیں دعوت اسلامی کے شعبہ جات کی مدنی خبریںدعوت اسلامی کے شعبہ جات کی مدنی خبریں ہر عبادت سے اعلی عبادت نمازہر عبادت سے اعلی عبادت نماز

اہم نوٹ



امامِ اہلِ سنّت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:صرف دُرود و سلام ہی نہیں بلکہ اُمّت کے تمام اَقوال و اَفعال و اَعمال روزانہ دو و قت سرکارِ عرش وقار،حُضور  سَیِّدُ الْاَبْرَار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم ( کی خدمت) میں عرض (یعنی پیش) کئے جاتے ہیں۔ احادیثِ کثیرہ میں تصریح ہے کہ مطُلقاً اعمالِ  حَسَنَہ و سَیّئَہ (یعنی ہر طرح کے اچھے اور بُرے عمل) سب حُضورِ اَقدس  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں اور یونہی تمام انبیائے کرام علیہم الصَّلٰوۃ وَالسَّلام اور والدین و اَعِزّاء و اَقارِب سب پر عَرضِ اعمال (یعنی اعمال کی پیشی) ہوتی ہے۔ فقیر نے اپنے رِسالہ سَلْطَنَۃُ الْمُصْطَفٰی  فِیْ مَلَکُوْتِ کُلِّ الْوَرٰیمیں وہ سب حدیثیں جمع کیں، یہاں اسی قدر بس (یعنی کافی) ہے کہ امامِ اَجَل عبدُاﷲ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ حضرت سعید بن مُسَیَّب رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی: لَيْسَ مِنْ يَوْمٍ  اِلَّا وَتُعْرَضُ عَلَى النَّبِى صلَّى الله عليه وسلَّم


تربیت کرنے والے کے لئے جن باتوں کا لِحاظ رکھنا ضَروری ہے ان میں سے ایک انتہائی اہم چیز قول و فعل کا ایک ہونا بھی ہے۔ اپنی ذات کو عملی نَمونہ(Practical Model) بنا کر پیش کرنے سے زیرِ تربیت افراد کا ذہن بنانے میں بہت آسانی رہتی ہے جبکہ قول و فعل میں پایا جانے والا تَضاد (Difference) ان کے دِلوں کی تشویش کا باعث بن سکتا ہے کہ فلاں کام یہ خود تو کرتا نہیں اور ہمیں کرنے کا کہتا رہتا ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ لوگ اس کی بات پر توجہ نہیں کرتےاور عمل کرنے کی طرف راغب نہیں ہوتے۔تربیت کرنے والے کا خود اپنا کِردار (Character) مثالی ہونا چاہئے، اس کا لوگوں پر بڑا گہرا اَثر (Impact) پڑتا ہے۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زبانی تربیت جہاں صَحابۂ کرام رضی اللہ عنہم  کی فِکْر و عمل کو جِلا بخش رہی تھی وہیں آپ کی عملی زندگی (Practical Life)نے بھی صَحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بے حد متأثر کیا،


جن خوش نصیبوں  نے اىمان کے ساتھ سرکارِ عالی وقار  صلَّی اللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم  کى صحبت پائى، چاہے یہ صحبت اىک لمحے کے لئے ہی ہو اور پھر اِىمان پر خاتمہ ہوا انہیں صحابی کہا جاتا ہے۔ یوں توتمام ہی صحابۂ کرام  رضیَ اللہُ عنہم  عادل، متقی ،پرہیز گار، اپنے پیارے آقا  صلَّی اللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم  پر جان نچھاور کرنے والے اور رضائے الٰہی کی خوش خبری پانےکے ساتھ ساتھ بے شمارفضائل  و کمالات رکھتے ہیں لیکن ان مقدس  حضرات کی طویل فہرست میں ایک تعداد ان  صحابہ رضیَ اللہُ عنہم  کی ہے جوایسے فضائل و کمالات رکھتے ہیں جن میں کوئی دوسرا شریک نہیں اور ان میں  سرِ فہرست وہ عظیم ہستی ہیں  کہ جب  حضرت سیّدنا محمد بن حنفیہ رحمۃُ اللہِ علیہ نے اپنے والدِ ماجد حضرت سیّدنا علیُّ المرتضیٰ   رضیَ اللہُ عنہ سے  پوچھا: رسولُ اللہ صلَّی اللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم  کے بعد (اس اُمّت کے) لوگوں میں سب سے بہترین شخص کون ہیں؟


استاذ صاحب نے مارکر ٹیبل پر رکھا اور بولنا شروع کیا: آج ہم نے کتابِ زندگی کا بڑا اہم سبق(Lesson) سیکھا ہے کہ کس طرح دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر ان سے آگے نکلا جاسکتا ہے، ان کو ڈی گریڈ کئے بغیر زیادہ عزت کمائی جاسکتی ہے؟دَراَصْل! دوسروں سے آگے بڑھنے کی خواہش انسان کی نفسیات میں شامل ہے چاہے وہ کسی بھی شعبےاور طَبَقے سے تعلق رکھتا ہو! وہ اسٹوڈنٹ ہو، تاجر ہو، ملازم ہو، کھلاڑی ہو، ڈاکٹر ہو، وکیل ہو، پروفیسر ہو، رائٹر ہو یا کوئی اور! لیکن اگر وہ اپنی ترقی کے لئے اپنا قد بڑھانے کے بجائے دوسروں کی ٹانگیں کاٹ کرانہیں چھوٹا بنانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ نیگیٹو اپروچ ہے، جبکہ پازیٹو اپروچ یہ ہے کہ اپنی مہارت،خصوصیت اور کارکردگی کو بہتر کیا جائے،اس طرح آپ کسی کی قدر کم کئے بغیر فتح  کی منزل (وکٹری اسٹینڈ)  تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن افسوس!یہ ہمارا معاشرتی اَلْمِیہ (Social Disaster)ہے کہ جیتنے کے لئے پہلا طریقہ زیادہ استعمال


ماہنامہ جمادی الاخریٰ کی ویڈیوز لائبریری



ماہنامہ جمادی الاخریٰ کی بُک لائبریری



ماہنامہ جمادی الاخریٰ کی تصویر لائبریری



ماہنامہ جمادی الاخریٰ کے آرکائیو مطلوبہ الفاظ