اہم نوٹ



شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے یکم(1st) ذوالحجۃ الحرام1430ھ کو المدینۃ العلمیہ کے شعبہ اصلاحی کتب کے ذمّہ دار اسلامی بھائی کے نام مکتوب دیا، جس میں یہ بھی تھا:”انفرادی کوشِش“ کتاب، جستہ جستہ دیکھنے کی سعادت ملی، مَاشَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ 25حکایات کے علاوہ(1)اکثر مواد بہت بہترین ہے۔ تَقبَّلَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ۔(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ قبول فرمائے)


عرب شریف کے مشہور شہر ’’مَدْیَن‘‘ کے قریب ایک جنگل تھا جس میں درخت اور جھاڑیاں کثرت سے تھیں، اُس جنگل میں رہنے والوں کو ’’اَصْحَابِِ اَیْکَہْ‘‘ یعنی ’’جنگل والے“ کہا جاتا تھا۔ اَصْحَابِِ اَیْکَہْ کی بُرائیاں٭ناپ تول میں کمی کرتے ٭لوگوں کو اُن کی چیزیں پوری پوری واپس کرنے کی بجائےکم کر کے دیتے ٭ڈاکے ڈالتے اور لُوٹ مار کرتے ٭کھیتیاں تباہ کردیتے وغیرہ۔([1])


[1]۔۔۔ صراط الجنان،ج7،ص153ملخصاً


مشہور صوفی بُزرگ حضرتِ سیّدُناشیخ ابومحمد مُصْلِحُ الدِّین سَعدی شیرازی علیہ رحمۃ اللہ الکافی بہت بڑےشاعراورادیب تھے۔ آپ کی ولادت ایران کےشہرشیراز میں 589 ہجریکو ہوئی۔سعدی کہنے کی وجہ سعدی آپ کا تَخَلُّص ہے۔ آپ کے والد عبداللہ بادشاہ”سعدزنگی“کے ملازم تھے۔ والد کے انتقال پر سعد زنگی نےآپرحمۃ اللہ تعالی علیہ کی پرورش اور تعلیم و تربیَت کا ذمّہ لیا۔بادشاہ کےنام کی نسبت سےآپ نے اپنا تَخَلُّص سعدی تجویز کیا۔


جنّتُ البقیع مدینۂ منورہ کا قدیم، مشہورومبارک قبرِستان ہے،مسجد نَبَوی کے جوارِ رحمت میں جُنوب مشرِقی جانب واقع یہ قبرستان لاکھوں مسلمانوں کی زیارت گاہ ہے، عاشقانِ رسول یہاں مزاراتِ صحابہ و اولیاءپر حاضِری دے کر فاتِحہ کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔جنت البقیع کابطورِ قبرستان انتخاب رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کسی ایسی جگہ کی تلاش میں تھے جہاں اپنے اصحاب کی تدفین فرمائیں،


حَشْر ونَشْر کسے کہتے ہیں؟ ’’نَشْر‘‘ کا معنیٰ ہے موت کے بعد مخلوق کوزندہ  کرنا  جبکہ’’ حَشْر‘‘ کا معنیٰ ہے انہیں  میدانِ حساب اور پھر جنّت و دوزخ  کی طرف لے جانا۔(المسامرۃ بشرح المسایرۃ، ص250) انکار کرنے والے کا حکم حشر ونشر  کا عقیدہ ضروریاتِ دین میں سے ہے۔اس بات پر اُمّت  کا اجماع ہے کہ حشر و نشر کا انکا رکرنے والا کافر ہے۔(المعتقد المنتقد مع  المعتمد، ص327 ملخصاً)


نیک اولاد جنت میں ماں باپ کے ساتھ رہے گی

سوال:جنّت میں ماں باپ اپنی اولاد کو پہچانیں گے یا نہیں؟

جواب:بالکل پہچانیں گے، اللہ کریم قراٰنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:( وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ )ترجمۂ کنزالایمان:اور جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملا دی۔ (پ 27، الطّور: 21)خزائنُ العرفان میں ہے:جنّت میں اگرچہ باپ دادا کے دَرَجے بُلند ہوں تو بھی ان کی خوشی کے لئے ان کی اولاد ان کے ساتھ ملا دی جائے گی۔


آج سےتقریباً 882سال پہلے کی بات ہے،سلطان نورالدّین محمودزنگی علیہ رحمۃ اللہ القَوی  معمول کے مطابق رات کے نوافل و وظائف سے فارغ ہوئے اور سوگئے، آنکھیں کیا بند ہوئیں مقدّر جاگ اُٹھا، جانِ کائنات، شاہِ موجودات صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم خواب میں تشریف لائے اور  نیلی آنکھوں والے  دو آدمی دکھا کر فرمایا:مجھے ان سے بچاؤ! آپ گھبرا کر اُٹھے، وضو کیا،نوافل اداکئے اور پھر سوگئے، تین بار ایساہی ہوا،


اسلام کا نظریۂ حیات نہایت خوبصورت، وسیع، جامع اور اعلیٰ ہے کہ ہم بندے ہیں اور ہمیں خدا کی بندگی کے تقاضے پورے کرکے دنیا کی زندگی بامقصد گزارنی ہے اور آخرت کی نجات، دائمی مسرتیں اور معبودِ حقیقی کا قرب پانا ہے۔ دوسری طرف خدا کے منکروں اور دہریوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے سامنے زندگی کا کوئی حقیقی مقصد نہیں، اس لئے وہ صرف مال کمانے، شہوت پورا کرنے اور لذاتِ دنیا میں اضافہ کرنے کے سوا کسی اور چیز کے بارے میں سوچتے ہی نہیں


ماہنامہ شوال المکرم کی ویڈیوز لائبریری



ماہنامہ شوال المکرم کی بُک لائبریری