اہم نوٹ



پیارے طلبۂ کرام! عِلم کی مثال ایک درخت جیسی ہے،مضبوط درخت کی طرح مضبوط علم کے لئے اس کے بیج یعنی مَتن پر عُبور ہونا ضَروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اَسلاف مَتن پر خصوصی توجہ دیتے تھے لیکن! آج ہماری توجّہ متون سے ہٹ گئی ہے، شاید اسی وجہ سے آج کل علوم کی بنیادی باتیں مستحضر نہیں رہتیں۔ کچھ سوال پیشِ خدمت ہیں غور فرمائیے گا کہ کیا کسی کتاب کا سہارا لئے بغیران کے جوابات فوراً دے سکتے ہیں؟1:مال کسے کہتے ہیں؟ 2:مکروہِ تحریمی کیا ہوتا ہے؟ 3:قیاس کی تعریف، 4:انواعِ تشبیہ کون کونسی ہیں؟ 5:حدیثِ حسن کی تعریف، 6:موانعِ تنوین کون کونسے ہیں؟


لوگوں کو خدا کی نافرمانی سے بچنے کا ذہن دینا ، سمجھانا اور کوشش کرنا کوئی مداخلت نہیں بلکہ نیکی کا کام ہے۔ شیطان کو اس سے زیادہ کوئی چیز پسند نہ ہوگی کہ لوگ دوسروں کو برائی سے روکنا چھوڑ دیں کیونکہ شیطان برائی کا حکم دیتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ برائی کی دعوت دینا تو جاری رہے جبکہ برائی سے روکنا بند ہوجائے۔ آزادی، روشن خیالی وغیرہ کے نام پر گناہ کے کاموں سے روکنے کے خلاف یہ سوچ واقعتاً پوری دنیا میں پھیلتی جارہی ہے۔ سب سے پہلے يہ ذہنیت غیر مسلموں میں آئی اور انہوں نے دین کو یہ کہہ کر گھروں میں محدود کردیا کہ دین انسان کا ذاتی معاملہ ہے


 جمہور (یعنی اکثر) عُلَما کے نزدیک سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر پانچوں نمازوں کے علاوہ نمازِ تہجد بھی فرض تھی۔ صَدْرُ الاَفاضِل  مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نمازِ تہجد سَیّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر فرض تھی، جَمہُور کا یہی قول ہے۔حضور کی اُمّت کے لئے یہ نماز سنت ہے۔ ( خزائن العرفان، بنیٓ اسرآءیل،تحت الآیۃ:79)


ضلع ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں عید کی چھٹیوں میں کھلونا پستول اور بندوق کے چَھرّوں سے زخمی ہونے والے32بچوں کو اسپتال لایا گیا جن میں سے 12 بچوں کی آنکھیں بری طرح زخمی تھیں، ان میں سے چھ بچوں کی آپریشن کے بعد بینائی ضائع جبکہ باقی کی بینائی بُری طرح متاثر ہوگئی تھی۔ (23جون 2018 )٭21 جون 2015 کو فیصل آباد میں 2 طالبِ علم پارک میں کھڑے کھلونا پستول کے ساتھ سیلفی بنارہے تھے پولیس نے ڈاکو سمجھ کران پر فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک طالب علم شدید زخمی ہوگیا اور اَسپتال میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ (سیلفی کے 30 عبرتناک واقعات، ص11) 


جو قربانی کے دنوں میں عقیقہ کرنا چاہے، اسے ساتھ میں عید کی قربانی بھی کرنی ہوگی، ورنہ عقیقہ ادا نہیں ہوگا“ درست نہیں ہے، کیونکہ عقیقہ اور عید کی قربانی، دو مستقل جدا چیزیں ہیں، عقیقہ سنّتِ مستحبّہ ہے، اگر کوئی شخص باوجودِ قدرت عقیقہ نہیں کرتا تو وہ گناہ گار یا مستحق عِتاب نہیں، جبکہ قربانی شرائط متحقق ہونے کی صورت میں واجب اور اس کا بلاعذر ترک ناجائز و گناہ ہے لہٰذا یہ دوجدا چیزیں ہیں، ان میں سے ایک کی ادائیگی دوسرے پر ہرگز موقوف نہیں۔ ہاں دو قربانیاں کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مثلاً کسی پر شرعاً عید کی قربانی واجب ہے، 


رات میں جاگ کر عبادت کرنا بڑی سعادت اور خوش بختی کی بات ہے لیکن دن بھر کی مصروفیات کی وجہ سے چند ہی لوگ قیامُ اللیل (رات کے قیام) کی عظیم عبادت سے استفادہ کرتے ہیں۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے احادیثِ مبارکہ میں کئی ایسے اعمال کا ذکر فرمایا کہ جن کے کرنے سے انسان رات کے قیام کی فضیلت


ماہنامہ ذوالحجۃالحرام کی ویڈیوز لائبریری



ماہنامہ ذوالحجۃالحرام کی بُک لائبریری