اہم نوٹ



حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی امّت کے مختصر عمل پر بہت زیادہ اجر و ثواب دیا جائے گا)یا (یہ بھی معنیٰ ہوسکتے ہیں کہ) اگلی اُمّتوں پر جو اعمالِ شاقّہ طویلہ(یعنی طویل اور مشکل اعمال لازم)تھے اُن سے(یعنی حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی امّت سے) اٹھا لئے، پچاس (50)نمازوں کی پانچ رہیں اور حساب ِکرم میں پوری پچاس( یعنی ثواب پچاس کا ہی ملے گا)۔ زکوٰۃ میں چہارم مال کا چالیسواں(40) حصّہ رہا اور کتابِِ فضل میں وہی رُبع کا رُبع ( یعنی 25فیصد کی بجائے اڑھائی فیصد زکوٰۃ فرض ہوئی جبکہ 25فیصد خیرات کرنے کی ہی فضیلت ملے گی)،وَعَلٰی هٰذَا القِيَاس،


امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ کے اندازِ تحریر کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ عقیدے کی وضاحت نہایت عقیدت سے کرتے ہیں،آنے والی سُطُور میں دیکھئے کہ صَحابَۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کا مقام و مرتبہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ شانِ اہلِ بیتِ اطہار کس خوب صورت انداز میں بیان فرمائی ہے، چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:ان (مقرب ترین فرشتوں اور مرسلین ملائکہ یعنی جبرائیل و میکائیل و اسرافیل و عزرائیل علیہمُ السَّلام اور عرشِ مُعلّٰی کو اُٹھانے والے فرشتوں) کے بعد اَصحابِ سیِّدالمرسَلین (رسولوں کے سردار کے صحابہ) صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم اجمعین ہیں اور اُنہیں میں حضرت بَتُول، جگر پارۂ رسول، خاتونِ جہاں، بانویٔ جِناں، سیدۃُ النِّسَاء فا طِمہ زَہرا (شامل) اور اس دو جہاں کی آقا زادی کے دونوں شہزادے، عرش کی آنکھ کے دونوں تارے، چرخِ سِیادت کے مَہ پارے، باغِ تَطْہِیر کے پیارے پھول،


پیارے  اسلامی بھائیو!ایک بار پھر ماہِ رضا یعنی صفر ُالمظفر ہمارے درمیان جلوہ فرما ہے۔ امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے وِصال کو101سال ہورہے ہیں لیکن آج تک آپ کی دینی خدمات کا ڈنکا بج رہا ہے۔امامِ اہلِ سنّت ایک ایسی ہَمہ جہت شخصیت کے مالک تھے کہ جب کوئی آپ کی شخصیت سے متعلق لکھنا چاہے تو وہ یقیناًسوچنے پرمجبورہوتا ہوگا کہ کس پہلو سے متعلق لکھوں


مُقرَّبین کے عظمتِ الٰہی کے سبب خوفِ خدا کی کیفیت کیلئے یہ روایات بھی ملاحظہ ہوں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ درخت پر پرندے کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اے پرندے! تیرے لئے کتنی بھلائی ہے کہ تو پھل کھاتا اور درخت پر بیٹھتا ہے۔ کاش! میں بھی ایک پھل ہوتا جسے پرندے کھا لیتے۔ (الزھد لابن مبارک، ص81، رقم:240) اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ  عنہ نے ایک مرتبہ زمین سے ایک تنکا اٹھا کر فرمایا:کاش! میں ایک تنکا ہوتا۔ کاش! میں کچھ بھی نہ ہوتا۔ کاش! میں پیدا نہ ہوا ہوتا۔ کاش! میں بھولا بسرا ہوتا۔(الزھد لابن مبارک، ص79، رقم:234)


بَرْزَخ  میں پیش آنے والے معاملات میں سے ایک ضَغطَۃُ الْقَبر یعنی قَبْر کا دبانا بھی ہے، حضرت سیّدنا سعید بن مسَیَّب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اُمُّ المؤمنین  حضرت سیّدتُنا عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا : اے عائشہ! منکَرنکیر(سوالاتِ قَبْر کرنے والے فرشتوں) کی آواز مؤمنوں کے کانوں کوایسی محسوس ہوگی جیسا کہ آنکھوں میں اِثمد سُرمہ اور مؤمنین کو قَبْر کا دَبانا ایسا ہوگا جیسے کہ شفیق ماں سے جب بچّہ دردِ سر کی شکایت کرتا ہے تو ماں نَرْمی سے اس کا سَر دَباتی ہے، لیکن عائشہ! خرابی ہے اللہ  پاک کی ذات میں شک کرنے والوں کیلئے انہیں قبر میں یُوں دَبایا جائے گا جیسے چَٹان کسی انڈے کو دَبائے۔ (بشری الکئیب، ص 58) حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نیک کاروں کوبھی تنگیِ قَبْر ہوتی ہے مگر وہ خدا کی رحمت ہے جیسے ماں پیار سے بچّے کو گود میں دَباتی ہے جس سے بچّہ گھبراتاہے۔ (مراٰۃ المناجیح،ج 2،ص458)


قِیامت کے دن جب نَفسا نفسی کا عالَم ہوگا اورگرمی کی  شِدّت سے لوگوں کی زبانیں سُوکھ کر کانٹا بَن چکی ہوں گی ایسے وقت میں وہ لوگ خوش نصیب ہوں گے جنہیں اللہ پاک اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حوضِ کوثر سے سیراب کرے گا۔روایات میں ایسی نیکیوں کا بیان موجود ہے جن کی برکت سے جامِ کوثر نصیب ہوگا، ان میں سے 


ماہنامہ صفر المظفر کی ویڈیوز لائبریری



ماہنامہ صفر المظفر کی بُک لائبریری



ماہنامہ صفر المظفر کی تصویر لائبریری



ماہنامہ صفر المظفر کے آرکائیو مطلوبہ الفاظ