اہم نوٹ



پیارے بچّو! عید خوشی کا دن ہے اور اس دن بچّے اور بڑے اچّھے کپڑے پہنتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس نئے کپڑے لینے کے لئے پیسے نہیں ہوتے لیکن بچّے نئے کپڑے لینے کے لئے ضد کرتے ہیں۔ آئیے امیر اہلِ سنّت حضرت مولانا الیاس قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے پوچھتے ہیں کہ کیاعید کے دن نئے کپڑے ہی پہننا ضروری ہیں؟


اگر آپ بارگاہِ رِسالت میں مقرّب ہونا چاہتے ہیں تو پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت ، سنّتوں پر خوب عمل اور دُرود شریف کی کثرت کیجئے اِنْ شَآءَ اللہ اس کی برکت سے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا قُرب مل جائے گا۔                                         (مدنی مذاکرہ ، 2 محرم الحرام 1441ھ)


اِمامت کی فضیلت و عظمت اس سے بڑھ کر کیا بیان کی جائے کہ یہ وہ مَنْصَب ہے جسے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اَجمعین نے نبھایا اور اس کے لئے بہترین اَفراد کو منتخب کیا۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے : روزِ قِیامت تین شخص کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے (ان میں سے) ایک وہ شخص جو قوم کا اِمام رہا اوروہ (یعنی قوم کے لوگ) اس  سے راضی تھے۔


علمائے کرام و مُحَدِّثِین عُظّام نے اس حدیثِ پاک کے تحت کئی ایسے اُمور کو بیان کیا ہے جن کو اپنے اور دوسرے مسلمان بھائی کیلئے یَکساں خیال کرنا چاہئے۔ چنانچہ حکیمُ الْاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : خیال رہے کہ یہاں خَیْر مراد ہے ہر مسلمان کے لئے دنیا و آخرت کی خیر چاہو جو اپنے لئے چاہتے ہو۔


ماہنامہ شوال المکرم کی ویڈیوز لائبریری



ماہنامہ شوال المکرم کی بُک لائبریری



ماہنامہ شوال المکرم کے آرکائیو مطلوبہ الفاظ