نجات کی رات
اللہ پاک کے پیارے اور آخِری نبی حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُوْمُوْا نَهَارَهَا جب ماہِ شعبان کی پندرھویں رات آئے تو اس میں عِبادت کرواور دن میں روزہ رکھو۔ (ابن ماجہ،2/160، حدیث:1388)
پیارے بچّو! اللہ تعالیٰ نے سال بھر میں کچھ خاص راتیں ایسی بنائی ہیں جن میں بہت زیادہ بَرَکتیں اور رَحمتیں ہوتی ہیں۔ یہ راتیں عام راتوں کی طرح نہیں ہیں بلکہ ان میں عبادت کرنے کا ثواب بہت زیادہ ملتا ہے۔جیسے ہمارے اسکول میں کچھ خاص ایونٹ ہوتے ہیں جن میں خوشیاں منائی جاتی ہیں، تحائف، انعامات وغیرہ کی تقسیم کاری ہوتی ہے،بالکل ویسے ہی اللہ پاک نے بھی کچھ خاص راتیں رکھی ہیں جن میں وہ اپنے بندوں پر خُصوصی رَحمت و کَرم فرماتا ہے۔
جیسے ماہِ رمضان میں ایک رات شبِ قدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ماہِ شعبانُ المعظّم کی پندرھویں رات شبِ براءَت ہے، جس میں بخشش و مغفرت کے پروانے ملتے ہیں، اسی طرح ماہِ رجبُ المرجّب کی ستائیسویں رات کو شبِ معراج کہتے ہیں، اس رات میں نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم آسمانوں پر تشریف لے گئے اور اللہ پاک کا دیدار کیا اور جنّت کی سیر کی اور دوزخ کو بھی دیکھا۔
اس طرح کی بڑی راتوں کے بہت سارے دینی و دنیاوی فوائد ہیں: مثلاً ان راتوں میں دُعائیں قبول ہوتی ہیں، اللہ پاک اپنے بندوں کی غلطیاں معاف فرما دیتا ہے،حلال رِزْق کی دُعا کرنے کا بہترین وقت ملتا ہے ۔ایک نیکی کا ثواب کئی گُنا ملتا ہے۔ عبادت کی بَرَکت سے اللہ پاک خوش ہوتا ہے ،گُناہوں سے بچنے کی توفیق ملتی ہے۔
شبِ براءَت کا مطلب ہے ”نَجات کی رات“، یعنی اس رات بہت سارے بندوں کو جہنّم سے نَجات ملتی ہے،کن کن کو جہنّم سے آزادی ملی ہے؟ اس کا علم اللہ پاک کے پاس ہے، اللہ ہی جانتا ہے، بس ہمیں حکم ہے کہ اس رات کی قدر کریں اور خوب عبادت کر کے اللہ پاک کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔
اچّھے بچّو! شبِ براءت اللہ پاک کی طرف سے ایک خاص تحفہ ہے۔ یہ رات غفلت میں نہ گزاریں، اپنی عمر اور صلاحیّت کے مطابق کچھ نہ کچھ عبادت ضَرور کریں۔ تھوڑا عمل کریں لیکن دل سے کریں اور پھر ہمیشہ کرتے رہنے کا ارادہ بھی کریں۔
شب براءَت میں بچّوں کی ایکٹیویٹی:
اس مقدّس رات میں بھی عشا کی نَماز باجماعت اَدا کریں اور بچّیاں گھر میں اپنی امّی کے ساتھ نماز پڑھیں،اس رات کی برکتیں پانے کے لیے زیادہ نہیں تو کم از کم دو رَکعت نفل ہی پڑھیں،جتنی ہو سکے تلاوت قراٰنِ پاک کریں، اللہ سے اپنی ضرورتیں مانگیں، اپنے اور دوستوں کے اچّھے نمبر آنے کی دعا کریں، اپنی غلطیوں پر معافی مانگیں،نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر کثرت سے دُرُود پڑھیں۔ہو سکے تو دن میں روزہ رکھیں جیسا کہ شروع میں لکھی حدیثِ پاک میں اس کی ترغیب دی گئی ہے تو یوں حدیثِ مبارکہ پر بھی عمل ہوگا۔
اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر، سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی

Comments