موت کے بعد کی فکر


موت کے بعد کی فکر

ایک مسلمان کے لیے جن چیزوں پر ایمان رکھنا ضَروری ہے اُن میں سے ایک ”مرنے کے بعد حساب و کتاب اور جَزا و سَزا کے لیے دوبارہ اُٹھایا جانا“ بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ دینِ اسلام کی روشن تعلیمات نے جہاں دیگر ضَروریاتِ دین کے بارے میں راہ نمائی فرمائی ہے وہاں فکرِ آخِرت کو بھی نہایت واضح طور پر بیان کیا ہے۔ قراٰنِ پاک کی بہت سی آیاتِ مبارَکہ میں فکرِ آخرت کی ترغیب دلائی گئی ہے۔

فکرِ آخِرت پر آیاتِ مبارکہ:

اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے:

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ(۱۱۵)

ترجَمۂ کنز العرفان: تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟([1])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیتِ کریمہ کے تحت صدرُالْاَ فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی  رحمۃُ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: ”اور (کیا تمہیں) آخِرت میں جزا کے لئے اُٹھنا نہیں؟ بلکہ تمہیں عبادت کے لئے پیدا کیا کہ تم پر عبادت لازم کریں اور آخِرت میں تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ تو تمہیں تمہارے اعمال کی جَزا دیں۔“([2])

اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے:

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ(۳۶)

ترجَمۂ کنز العرفان: کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ اسے آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔([3])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر صراطُ الجنان میں ہے: کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ اسے یوں آزاد چھوڑ دیا جائے گا کہ نہ اسے کسی چیز کا حکم دیا جائے اور نہ اسے کسی چیز سے منع کیا جائے، نہ وہ مرنے کے بعد اُٹھایا جائے، نہ اس سے اعمال کا حساب لیا جائے اور نہ اُسے آخِرت میں جزا دی جائے۔ ایسا نہیں ہو گا بلکہ اسے دنیا میں اَمر و نہی کا پابند کیا جائے گا، مرنے کے بعد اُٹھایا جائے گا،اس سے اعمال کا حساب لیا جائے گا اور آخِرت میں اسے اس کے اعمال کی جَزا بھی دی جائے گی۔

ہمیں آزاد نہیں چھوڑا گیا:

اس سے معلوم ہوا کہ ہمیں بِالکل آزاد نہیں چھوڑا گیا کہ جیسے چاہیں زندگی گزاریں،جیسے چاہیں اعمال کریں اور اپنی مرضی کے مطابق جس طرح اور جہاں چاہیں رہیں بلکہ ہمیں دنیا کی زندَگی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی طرف سے کچھ چیزوں کا پابند کیا گیاہے اور کچھ چیزوں سے منع کیاگیاہے اور زندگی گُزارنے کے لئے ہمیں ایک دائرۂ کار عطا کیا گیا ہے جس میں رہ کر ہمیں اپنی زندَگی کے اَیّام پورے کرنے ہیں اور ہمارے سامنے یہ بھی واضح کر دیاگیا ہے کہ ہمیں مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اور پھر دنیامیں جیسے اعمال کئے ہوں گے ویسی جَزا بھی ملے گی،لہٰذا عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ خود کو شریعت کی پابندیوں سے آزاد سمجھ کر زندگی نہ گزاری جائے بلکہ زندگی جینے کا جو طریقہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے دیا ہے اسی کے مطابق زندَگی بسر کی جائے کہ اسی میں دنیا اور آخِرت کی کامیابی ہے اور جو شخص شریعت کے احکامات سے آزاد ہو کر جینا چاہتا ہے وہ بڑا بیوقوف اور بہت نادان ہے کہ وہ تھوڑے سے مزے کی خاطر ہمیشہ کے لئے خود کو ذلّت و رُسوائی اور انتہائی دردناک عذاب میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔([4])

فکرِ آخِرت پر احادیثِ مبارکہ:

جس طرح قراٰنِ پاک میں فکرِ آخِرت کی ترغیب دلائی گئی ہے اسی طرح بہت سی اَحادیثِ مبارَکہ میں بھی فکرِ آخرت کی ترغیب دلائی گئی ہے چنانچہ حضرتِ عبداللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما  فرماتے ہیں : میں نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور میں وہاں موجود اَفراد میں سے دسواں تھا۔ اسی دوران ایک انصاری شخص آئے اور عرض کی:یارسولَ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! لوگوں میں سب سے زیادہ عقلمند اور محتاط کون ہے؟ نبیِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اِرشاد فرمایا: وہ لوگ جوموت آنے سے پہلے اسے زیادہ یاد کرتے اور اس کے لئے زیادہ تیاری کرتے ہیں وہی عقلمند ہیں،وہ دنیا کی شرافت اور آخرت کی بُز ُرگی لے گئے۔([5])

حضرتِ شدّاد بن اَوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور ِ اَقدس  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اِرشاد فرمایا: عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو اپنا تابعدار بنا لے اور موت کے بعد کے لئے عمل کرے اور عاجز وہ شخص ہے جو اپنی خواہشات پر چلتا ہو اور اللہ پاک کی رحمت کی امید بھی کرتا ہو۔([6])

آخرت کی فکر معاشرے کی بنیاد:

آخرت کی فکر دینِ اسلام کی ایسی روشن تعلیم ہے کہ جو محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو معاشرے کی تعمیر، اخلاق کی پاکیزگی، عدل و انصاف کے قیام، امن و سلامتی، خاندانی نظام کی مضبوطی اور معاشرتی فلاح و بہبود کی بنیاد ہے۔ یہ فکر انسان میں معاشرتی ذمّہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے کہ مجھے اپنی اصلاح کی کوشش کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اصلاح کی کوشش بھی کرنی ہے۔ اس سوچ کا حامل شخص جانتا ہے کہ اگر اس نے اپنی معاشرتی ذمّہ داری کو پورا نہ کیا تو بروزِ قِیامت اسے اس کا جواب دینا پڑے گا۔

آخرت کی فکر اور مالی ایمانداری:

جب معاشرے کے افراد کو آخِرت کی جوابدہی کا احساس ہو تو وہ مالی معاملات میں بھی ایماندار ہو جاتے ہیں۔ خریدو فروخت میں دھوکا دہی سے کام نہیں لیتے، سود اور رِشوت کا لین دین نہیں کرتے، کسی کا قرض نہیں دباتے، امانت میں خیانت نہیں کرتے، حرام کمائی سے بچتے اور رِ زقِ حلال کی جستجو کرتے ہیں۔

آخِرت کی فکر اور ذہنی پاکیزگی:

یوں ہی آخرت کی فکر ذہنی پاکیزگی کا بھی ذریعہ ہے کہ ایسی سوچ رکھنے والا اپنے آپ کو بدگمانیوں، بُری سوچوں اور گُناہوں بھرے خیالات سے بچانے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے بارے میں حُسنِ ظن سے کام لیتا ہے۔

آخِرت کی فکر اور حقوق اللہ کی ادائیگی :

آخرت کی فکر دینِ اسلام کی ایسی روشن تعلیم ہے کہ جس سےحقوق اللہ کی ادائیگی کا ذہن ملتا ہے۔فکرِ آخرت رکھنے والا ”حقوق اللہ “کی ادائیگی کا پورا پورا خیال رکھتا ہے۔ پابندی سے نمازیں پڑھتا ہے، رمضانُ المبارَک کے روزے رکھتا ہے، اپنے مال کی زکوٰۃ نکالتا ہے، فرض ہونے کی صورت میں حج کا فریضہ ادا کرتا ہے،الغرض وہ فرائض و واجِبات کی پابندی کرتا ہے اور حرام کاموں سے بچتا ہے۔

آخِرت کی فکر اور حقوقُ الْعباد کی ادائیگی:

اسی طرح آخِرت کی فکر سے ”حقوقُ اللہ “ کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق اَدا کرنے کا بھی ذہن بنتا ہے۔ فکرِ آخرت رکھنے والا رشتہ داروں کے ساتھ صلۂ رحمی سے پیش آتا ہے، ماں باپ کی اِطاعت و فرمانبرداری کرتا ہے،بیوی بچّوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے، اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچانے سے بچتا ہے الغرض فکرِ آخرت دین اسلام کی ایسی روشن تعلیم ہے کہ جو معاشرے کے بھی سدھار کا بہترین ذریعہ ہے اور اپنے کردار کو نکھارنے اور کِردار و گفتار کی ستھرائی کا بھی باعث ہے۔

اللہ پاک ہمیں اپنی آخِرت کو بہتر سے بہترین کرنے کا جذبہ نصیب فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم



([1])پ 18، المؤمنون: 115

([2])خزائن العرفان، پ18،المؤمنون، تحت الآیۃ:115

([3])پ 29، القیامہ: 36

([4])تفسیرصراط الجنان،پ29،القیامۃ،تحت الآیۃ:10،36/464

([5])معجم کبیر،12 /318، حدیث: 13536

([6])ترمذی، 4/207،حدیث:2467


Share

موت کے بعد کی فکر


موت کے بعد کی فکر

ایک مسلمان کے لیے جن چیزوں پر ایمان رکھنا ضَروری ہے اُن میں سے ایک ”مرنے کے بعد حساب و کتاب اور جَزا و سَزا کے لیے دوبارہ اُٹھایا جانا“ بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ دینِ اسلام کی روشن تعلیمات نے جہاں دیگر ضَروریاتِ دین کے بارے میں راہ نمائی فرمائی ہے وہاں فکرِ آخِرت کو بھی نہایت واضح طور پر بیان کیا ہے۔ قراٰنِ پاک کی بہت سی آیاتِ مبارَکہ میں فکرِ آخرت کی ترغیب دلائی گئی ہے۔

فکرِ آخِرت پر آیاتِ مبارکہ:

اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے:

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ(۱۱۵)

ترجَمۂ کنز العرفان: تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟([1])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیتِ کریمہ کے تحت صدرُالْاَ فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی  رحمۃُ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: ”اور (کیا تمہیں) آخِرت میں جزا کے لئے اُٹھنا نہیں؟ بلکہ تمہیں عبادت کے لئے پیدا کیا کہ تم پر عبادت لازم کریں اور آخِرت میں تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ تو تمہیں تمہارے اعمال کی جَزا دیں۔“([2])

اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے:

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ(۳۶)

ترجَمۂ کنز العرفان: کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ اسے آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔([3])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر صراطُ الجنان میں ہے: کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ اسے یوں آزاد چھوڑ دیا جائے گا کہ نہ اسے کسی چیز کا حکم دیا جائے اور نہ اسے کسی چیز سے منع کیا جائے، نہ وہ مرنے کے بعد اُٹھایا جائے، نہ اس سے اعمال کا حساب لیا جائے اور نہ اُسے آخِرت میں جزا دی جائے۔ ایسا نہیں ہو گا بلکہ اسے دنیا میں اَمر و نہی کا پابند کیا جائے گا، مرنے کے بعد اُٹھایا جائے گا،اس سے اعمال کا حساب لیا جائے گا اور آخِرت میں اسے اس کے اعمال کی جَزا بھی دی جائے گی۔

ہمیں آزاد نہیں چھوڑا گیا:

اس سے معلوم ہوا کہ ہمیں بِالکل آزاد نہیں چھوڑا گیا کہ جیسے چاہیں زندگی گزاریں،جیسے چاہیں اعمال کریں اور اپنی مرضی کے مطابق جس طرح اور جہاں چاہیں رہیں بلکہ ہمیں دنیا کی زندَگی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی طرف سے کچھ چیزوں کا پابند کیا گیاہے اور کچھ چیزوں سے منع کیاگیاہے اور زندگی گُزارنے کے لئے ہمیں ایک دائرۂ کار عطا کیا گیا ہے جس میں رہ کر ہمیں اپنی زندَگی کے اَیّام پورے کرنے ہیں اور ہمارے سامنے یہ بھی واضح کر دیاگیا ہے کہ ہمیں مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اور پھر دنیامیں جیسے اعمال کئے ہوں گے ویسی جَزا بھی ملے گی،لہٰذا عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ خود کو شریعت کی پابندیوں سے آزاد سمجھ کر زندگی نہ گزاری جائے بلکہ زندگی جینے کا جو طریقہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے دیا ہے اسی کے مطابق زندَگی بسر کی جائے کہ اسی میں دنیا اور آخِرت کی کامیابی ہے اور جو شخص شریعت کے احکامات سے آزاد ہو کر جینا چاہتا ہے وہ بڑا بیوقوف اور بہت نادان ہے کہ وہ تھوڑے سے مزے کی خاطر ہمیشہ کے لئے خود کو ذلّت و رُسوائی اور انتہائی دردناک عذاب میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔([4])

فکرِ آخِرت پر احادیثِ مبارکہ:

جس طرح قراٰنِ پاک میں فکرِ آخِرت کی ترغیب دلائی گئی ہے اسی طرح بہت سی اَحادیثِ مبارَکہ میں بھی فکرِ آخرت کی ترغیب دلائی گئی ہے چنانچہ حضرتِ عبداللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما  فرماتے ہیں : میں نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور میں وہاں موجود اَفراد میں سے دسواں تھا۔ اسی دوران ایک انصاری شخص آئے اور عرض کی:یارسولَ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! لوگوں میں سب سے زیادہ عقلمند اور محتاط کون ہے؟ نبیِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اِرشاد فرمایا: وہ لوگ جوموت آنے سے پہلے اسے زیادہ یاد کرتے اور اس کے لئے زیادہ تیاری کرتے ہیں وہی عقلمند ہیں،وہ دنیا کی شرافت اور آخرت کی بُز ُرگی لے گئے۔([5])

حضرتِ شدّاد بن اَوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور ِ اَقدس  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اِرشاد فرمایا: عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو اپنا تابعدار بنا لے اور موت کے بعد کے لئے عمل کرے اور عاجز وہ شخص ہے جو اپنی خواہشات پر چلتا ہو اور اللہ پاک کی رحمت کی امید بھی کرتا ہو۔([6])

آخرت کی فکر معاشرے کی بنیاد:

آخرت کی فکر دینِ اسلام کی ایسی روشن تعلیم ہے کہ جو محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو معاشرے کی تعمیر، اخلاق کی پاکیزگی، عدل و انصاف کے قیام، امن و سلامتی، خاندانی نظام کی مضبوطی اور معاشرتی فلاح و بہبود کی بنیاد ہے۔ یہ فکر انسان میں معاشرتی ذمّہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے کہ مجھے اپنی اصلاح کی کوشش کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اصلاح کی کوشش بھی کرنی ہے۔ اس سوچ کا حامل شخص جانتا ہے کہ اگر اس نے اپنی معاشرتی ذمّہ داری کو پورا نہ کیا تو بروزِ قِیامت اسے اس کا جواب دینا پڑے گا۔

آخرت کی فکر اور مالی ایمانداری:

جب معاشرے کے افراد کو آخِرت کی جوابدہی کا احساس ہو تو وہ مالی معاملات میں بھی ایماندار ہو جاتے ہیں۔ خریدو فروخت میں دھوکا دہی سے کام نہیں لیتے، سود اور رِشوت کا لین دین نہیں کرتے، کسی کا قرض نہیں دباتے، امانت میں خیانت نہیں کرتے، حرام کمائی سے بچتے اور رِ زقِ حلال کی جستجو کرتے ہیں۔

آخِرت کی فکر اور ذہنی پاکیزگی:

یوں ہی آخرت کی فکر ذہنی پاکیزگی کا بھی ذریعہ ہے کہ ایسی سوچ رکھنے والا اپنے آپ کو بدگمانیوں، بُری سوچوں اور گُناہوں بھرے خیالات سے بچانے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے بارے میں حُسنِ ظن سے کام لیتا ہے۔

آخِرت کی فکر اور حقوق اللہ کی ادائیگی :

آخرت کی فکر دینِ اسلام کی ایسی روشن تعلیم ہے کہ جس سےحقوق اللہ کی ادائیگی کا ذہن ملتا ہے۔فکرِ آخرت رکھنے والا ”حقوق اللہ “کی ادائیگی کا پورا پورا خیال رکھتا ہے۔ پابندی سے نمازیں پڑھتا ہے، رمضانُ المبارَک کے روزے رکھتا ہے، اپنے مال کی زکوٰۃ نکالتا ہے، فرض ہونے کی صورت میں حج کا فریضہ ادا کرتا ہے،الغرض وہ فرائض و واجِبات کی پابندی کرتا ہے اور حرام کاموں سے بچتا ہے۔

آخِرت کی فکر اور حقوقُ الْعباد کی ادائیگی:

اسی طرح آخِرت کی فکر سے ”حقوقُ اللہ “ کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق اَدا کرنے کا بھی ذہن بنتا ہے۔ فکرِ آخرت رکھنے والا رشتہ داروں کے ساتھ صلۂ رحمی سے پیش آتا ہے، ماں باپ کی اِطاعت و فرمانبرداری کرتا ہے،بیوی بچّوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے، اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچانے سے بچتا ہے الغرض فکرِ آخرت دین اسلام کی ایسی روشن تعلیم ہے کہ جو معاشرے کے بھی سدھار کا بہترین ذریعہ ہے اور اپنے کردار کو نکھارنے اور کِردار و گفتار کی ستھرائی کا بھی باعث ہے۔

اللہ پاک ہمیں اپنی آخِرت کو بہتر سے بہترین کرنے کا جذبہ نصیب فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم



([1])پ 18، المؤمنون: 115

([2])خزائن العرفان، پ18،المؤمنون، تحت الآیۃ:115

([3])پ 29، القیامہ: 36

([4])تفسیرصراط الجنان،پ29،القیامۃ،تحت الآیۃ:10،36/464

([5])معجم کبیر،12 /318، حدیث: 13536

([6])ترمذی، 4/207،حدیث:2467


Share