سفرنامہ
شیخ عبداللہ دحلان کی تربت پر حاضری کی روداد (تیسری اور آخری قسط)
*مولانا حاجی غلام یاسین عطاری مدنی یمنی
ماہنامہ فیضانِ مدینہ جنوری 2026ء
قبل طلوع فجرمسکراہٹ سے جگا دیا:
پورے دن کے سفر اور سخت تھکن کے باعث ہم نڈھال ہو چکے تھے تقریباً رات بارہ یا ساڑھے بارہ بجے آرام کے لیے لیٹے۔ تہجّد کے لیے اُٹھنے کا ارادہ تو تھا لیکن تھکاوٹ کی وجہ سے ہمّت ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ حیرت انگیز طور پر ٹھیک چار بجے، جب مَیں اسی کروٹ پر سو رہا تھا جس طرف دروازہ تھا، استاذ سیف اللہ صاحب نے آہستگی سے دروازہ کھولا۔ نہ کوئی آواز آئی، نہ کوئی لفظ سنے، صرف دروازہ کھلا اور وہ مسکرا کر میری طرف دیکھنے لگے۔اسی لمحے میری آنکھیں کھل گئیں۔ یوں لگا جیسے ان کی مسکراہٹ کہہ رہی ہو: تہجد کا وقت ہو چکا ہے، اور ذِکْرو اَذکارکے جدول کا بھی، وہ زبان سے کچھ نہ بولے مگر ان کی خاموش مسکراہٹ نے ہمیں جگا دیا۔میں فوراً کھڑا ہو گیا، خود حیران تھا کہ بغیر آواز، بغیر لمس، صرف روحانی تاثیر سے نیند ٹوٹ گئی، دل گواہی دے رہا تھا کہ یہ کوئی اللہ والے ہیں، جنہوں نے واقعی اعلیٰ حضرت اور امیرِ اہلِ سنت کے فیض سے خاص حصّہ پایا ہے، کس ذریعہ سے پایا؟ یہ اللہ پاک ہی جانتا ہے۔پھر میں نے دیگر اسلامی بھائیوں کو بھی جگایا، ہم سب نے وُضو اور دیگر حاجات سے فراغت کے بعد فجر کی نماز کے لیے مسجد کا رخ کیا۔جب ہم مسجد کے قریب پہنچے تو اس پر جلی حروف میں لکھا تھا :مسجدِ شیخ عبدالقادر جیلانی ( رحمۃُ اللہ علیہ )۔نام پڑھ کر دل جھوم اُٹھا۔نَماز سے پہلے اِقامت کہی گئی تو انہوں نے ہم سے کہا: آپ نماز پڑھائیے۔ ہم نے عرض کیا: نہیں، آپ ہی پڑھائیے۔ انہوں نے نمازمیں خوبصورت آواز اور تجویدکے قواعدکے مطابق تلاوت کی تو دلی مَسرّت ہوئی اور نماز و ذِکر و اَذکار سے فراغت کے بعد بے ساختہ میری زبان پر یہ کلمات جاری ہوگئے:آپ کی تلاوت بہت عمدہ ہے، اور قراءَت و تجوید بھی بہترین ہے۔نماز کے بعد حسبِ معمول مقامی عاشقانِ رسول نے ذکر و اذکار کا سلسلہ شروع کیا، جو انڈونیشیا میں ایک عام معمول ہے۔ تقریباً 10سے15 منٹ تک مسلسل ذکر ہوتا رہا۔ استاذ سیف اللہ صاحب نے اس موقع پر ایک بار پھر حیران کر دیا جب انہوں نے فجر کے بعد ذکر واذکار کا سلسلہ شروع کیا، وہ تمام اذکار اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی تصنیف ”الوظیفۃ الکریمۃ“ میں موجود تھے، اور ان میں سے بیشتر اَذکار شجرہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں بھی شامل ہیں۔ہم نے بھی ان کے ساتھ ذکر میں شرکت کی، دُعا ہوئی، اور اس کے بعد کچھ دیر کے لیے دوبارہ آرام کی ترکیب بنی۔
استاد سیف اللہ کے ہمراہ ایک یادگار دن:
تھوڑی دیر بعد ان کا پیغام آیا کہ ناشتہ تیار ہے، تشریف لائیں۔جب ہم ناشتہ کرنے بیٹھے تو دیکھا کہ وہ معمولی ناشتہ نہیں بلکہ ایک مکمل کھانے کی صورت میں تھا۔ ہم جس بات سے پہلے ڈر رہے تھےکہ کون قِیام کی جگہ دے گا، کون کھانے کا بندوبست کرے گا۔ وہ سب اللہ پاک نے حبیب فہمی المنوراور استاذ سیف اللہ کے ذریعے فرما دیا۔ ناشتےکے بعد جب ہم دوبارہ بیٹھے تو اعلیٰ حضرت اور امیرِ اہلِ سنت سے متعلّق ان کی محبّت اور علم کی پیاس مزید عیاں ہوئی۔ انہوں نے فرمایا: مَیں نے سنا ہے کہ ا میرِاہلِ سنت کی کتاب ”نیکی کی دعوت“ کی عربی ٹرانسلیشن الدعوۃ الی الخیر اور شجرۃ الطریقۃ القادریۃ العطاریۃ مع المنظومۃ العطریۃ والاوراد والاذکار بیروت سے شائع ہوئی ہیں کیاوہ مجھے مل سکتی ہیں؟ میں یہ کتابیں حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ یہ اتّفاق تھا کہ ہم حال ہی میں مکتبۃ المدینہ العربیہ پاکستان سے کچھ کتابیں لے کر انڈونیشیا آئے تھے۔ ہم نے فوراً اسلامی بھائیوں کو فون کر کے کہہ دیا کہ یہ کتابیں استاذ سیف اللہ کے ایڈریس پر روانہ کر دی جائیں۔ اَلحمدُ لِلّٰہ! وہ کتابیں روانہ کر دی گئیں۔استاذ سیف اللہ کی ایک اور خصوصیّت جو ہمیں بہت نمایاں لگی وہ ان کا عقائدِ اہلِ سنت میں پختگی کا برملا اظہار تھا۔ یقیناً! یہ سب اعلیٰ حضرت کا فیضان تھا جو استاذ سیف اللہ جیسے باصفا دلوں پر جاری ہو چکا ہے۔
علّامہ ابن دَحلان مکّی کی تُربت پر دوبارہ حاضری:
ناشتہ کرنے کے بعد ہم نے شیخ سیّد عبدُاللہ بن صدقہ دَحلان رحمۃُ اللہ علیہ کی تربت پر دوبارہ حاضری کا ارادہ کیا اور تانگا بک کروایا، جبکہ استاذ سیف اللہ، حبیب فہمی المنور اور ان کےخادم دو موٹر سائیکلوں پر روانہ ہوئے۔ راستہ پہاڑی تھا مگر گھوڑے تو ان راہوں کے جیسے عادی ہو چکے تھے۔ بالآخر ہم ان کی تربت مبارک پر پہنچ گئے۔اس بار استاذ سیف اللہ صاحب نے خصوصی انداز میں ذکر و اذکار، دعائیں اور احادیثِ ثواب کی تلاوت کی، جو تقریباً 35تا 45 منٹ جاری رہی، وہ لمحے واقعی روحانیت سے بھرپور تھے۔ اس حاضری کے بعد ہم نے رکنِ شوریٰ حاجی ابو ماجدشاہد عطاری مدنی صاحب کے لیے علّامہ سیدعبداللہ دَحلان مکّی رحمۃُ اللہ علیہ کی تربت کی ویڈیو اور امیرِ اہلِ سنت کے مدنی مذاکرے کے لیے ایک سوال ریکارڈ کروایامزید یہ کہ استاذ سیف اللہ صاحب کے تأَثّرات بھی محفوظ کئے،بعد اَزاں ہم قیام گاہ واپس آ گئے۔
سفرسے واپسی:
استاذ سیف اللہ کے گھر سے حبیب فہمی المنور کے فرمانے پر ہم ان کے گھرآئے،انہوں نے قہوہ، بسکٹ اور کیک وغیرہ پیش کیے، ان کے ساتھ گفتگوکا سلسلہ جاری رہا۔ وہاں سے فراغت کے بعد ہم دوبارہ استاذ سیف اللہ صاحب کے گھر پہنچے، جہاں سے ہم نے اپنے بیگ وغیرہ تیار کیے، کیونکہ یہ سفر کا دوسرا دن یعنی 14جنوری 2023ء تھا لہٰذا ہم نے واپسی کا اِرادہ کیا، ہم نے استاذسیف اللہ کی بے لوث مہمان نوازی اور روحانی تعاون کے شکر گزار ہوتے ہوئے انہیں ہدیہ و تحفہ پیش کیا۔ انہوں نے ازراہِ کرم ہمارے لیے گاروت شہر میں اسٹیشن تک لے جانے والی گاڑی کا بندوبست بھی کیا۔اسٹیشن پہنچ کر ہم نے نماز ظہر ادا کی اور باہر جا کر ریسٹورنٹ سے کھانے کا انتظام کیا۔ وہاں ایک اور شخص ملا جس سے گفتگو کی اور سنتوں کا پرچار کرنے والی عالمگیر دینی تنظیم دعوتِ اسلامی کے بارے میں بتایا تو وہ بہت متأَثّر ہوا۔ نمازِ عصر، مغرب اورعشاء وہیں اَداکیں اورپھر وقت آیا ٹرین میں سوار ہونے کا۔ رات دس بجے ہم ٹرین میں بیٹھ گئے اور یہ ٹرین رات چار بجے ہمیں جکارتہ، جو کہ انڈونیشیا کا دارالحکومت ہے، بخیر و عافیت پہنچا چکی تھی۔ وہاں سے ہم نے ایک گاڑی بک کی جس نے صرف پانچ سے دس منٹ میں ہمیں جکارتہ کی بین الاقوامی شہرت یافتہ مرکزی جامع مسجد استقلال پہنچا دیا۔ رات کا آخری پہر تھا،کچھ دیرآرام کیا، بیدار ہو کر نمازِ فجر ادا کی، ناشتہ وغیرہ سے فارغ ہوئے تو دن دس بجے مسجد استقلال میں مغربی جاوا(سندانگ ضلع چیرِبون)کے مشہور و معروف عالمِ دین، اسلامی اسکالر،پی ایچ ڈی ڈاکٹر،بانیِ ادارہ البہجہ (Al-Bahjah) داعی وخطیب شیخ بویا یحییٰ زین المعارف (Buya Yahya Zainul Ma'arif) کا پروگرام شروع ہوگیا،ہم اس میں شرکت کرنے کے لیے داخل ہوئے تو انہوں نے ہمیں عزّت دی اوراسٹیج کے قریب بٹھایا،تقریب کے اختتام پرہم سب نےان سے ملاقات کی۔ اس کے بعد ہم واپس شہر تانگ رانگ (Tangerang) کے علاقے کَتاپانگ (Ketapang) میں واقع اپنی قیام گاہ دار السنہ پر شاداں وفرحاں لوٹے، یوں 15جنوری 2023ء کو ہمارا یہ سفرِ سعادت بخیر مکمل ہوا۔ اللہ پاک اپنے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے ہمارایہ سفرقبول فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* نگران انڈونیشیا مشاورت
Comments