حضرت شرحبیل بن حسنہ رضیَ اللہ عنہما
عظیم جرنیل اور مشہور صحابیِ رسول حضرت شُرَحْبِیل بن حَسَنَہ رضیَ اللہ عنہما کا پورا نام شُرَحْبِیل بن عبدُاللہ ہے جبکہ صحابیہ بی بی ”حسنہ“ آپ کی والدہ کا نام تھا، ([1])آپ تاریخِ اسلام کی ان عظیم شخصیات میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنے کردار، بہادری اور تقویٰ سے اسلام کی ابتدائی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔
فضائل:
حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ کا شمار رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے معزّز صحابہ اور کاتبینِ وحی میں ہوتا ہے۔([2]) آپ نے اپنی والدہ، بھائی اور دو بھتیجوں کے ساتھ حبشہ کی جانب ہجرت کی پھر سن 7 ہجری میں حضرت جعفر اور دیگر مہاجرین رضیَ اللہ عنہ م حبشہ سے مدینے پہنچے تو آپ بھی ان میں شامل تھے۔([3])آپ رضی اللہ عنہ ان عظیم سپہ سالاروں میں سے ایک ہیں جن کو خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر صدّیق رضیَ اللہ عنہ نے شام کی فتح کے لیے روانہ کیا([4])ملکِ اردن کے تمام شہر اور قلعوں کو فتح کرنے کا اِعزاز حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ کے حصّے میں آتا ہے۔([5])
زہد وتقویٰ اور سادگی:
آپ کی زندَگی زہد وتقویٰ کا بہترین نمونہ تھی سادگی کا عالَم یہ تھا کہ ایک مرتبہ حضرت شِفاء رضی اللہ عنہا آپ کے گھر تشریف لائیں تو نَماز کا وقت ہو چکا تھا اور آپ گھر پر ہی موجود تھے۔ انہوں نے آپ کو ملامت کی کہ نَماز کا وقت ہے اور آپ یہیں بیٹھے ہیں۔ آپ نے نرمی سے جواب دیا: اے پھوپھی! مجھے ملامت نہ کیجیے، ہمارے پاس دو کپڑے تھے جن میں سے ایک کپڑا نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ادھار لے لیا۔ حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دوسرا کپڑا ایک(پرانی) قمیص تھی جس پر پیوند لگا رکھے تھے۔([6])
فتحِ دمشق اور جنگِ یرموک میں شرکت:
حضرت شرحبیل بن حسنہ رضیَ اللہ عنہما ایک بےمثال اور نڈر سپہ سالار بھی تھے۔ فتحِ دمشق میں رومی لشکر مسلمانوں پر حملہ آور ہوا تو آپ نے بُلند آواز میں پکارا: اے مسلمانو! اپنی زندَگیوں کی فکر نہ کرو اور اپنے رب کی جنّت کے طلب گار بنو، اپنے عمل سے اپنے خالق کو راضی کرو کیونکہ اللہ تم سے فرار کو پسند نہیں کرتا،ان پر حملہ کرو، اللہ تم پر بَرَکت نازل فرمائے۔ یہ سن کر مسلمانوں نے ایک شدید حملہ کیا اور گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔([7]) 15 ہجری جنگِ یرموک میں آپ کا سامنا رومی کمانڈر سے ہوا دونوں کے درمیان شدید لڑائی شروع ہوگئی۔ دورانِ مقابلہ آپ نے ایک جنگی چال چلی اور پیچھے ہٹے کمانڈرنے آپ کا پیچھا کیا تو آپ نے اچانک پلٹ کر نیزے سے حملہ کیا، لیکن کمانڈر بچ نکلا دونوں کے درمیان پھر شدید لڑائی ہوئی یہاں تک کہ دونوں کی تلواریں ٹوٹ گئیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے سے پکڑ لیا۔ کمانڈر جسمانی طور پر بہت بھاری بھرکم اور طاقتور تھا جبکہ آپ دبلے پتلے جسم کے مالک تھے۔ کمانڈر نے آپ کو اتنی زور سے دبایا کہ آپ کو شدید تکلیف ہوئی وہ آپ کو قتل کرنے ہی والا تھاکہ حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ نے خود سے کہا: اے ضرار! تجھ پر افسوس ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے کاتبِ وحی شہید ہو جا ئیں اور تو دیکھتا رہے؟ چنانچہ تیزی سے بھاگ کر آئے اور پیچھے سے اس رومی کمانڈر کو خنجر مار کر ہلاک کر دیا۔([8])
ایک معجزاتی مدد:
جنگِ قیساریہ میں رومیوں کی تعداد 80 ہزار تھی جبکہ مسلمان صرف 5 ہزار تھے اس موقع پر شدید سردی تھی اور آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ اور رومی کمانڈرقیدمون کے درمیان لڑائی جاری تھی کہ اچانک مشکوں کے دہانوں کی طرح تیز بارش شروع ہوگئی۔ اس پر دونوں اپنے گھوڑوں سے اُتر آئے اور کیچڑ میں گتھم گتھا ہوگئے۔ اسی دوران قیدمون نےآپ پرحملہ کیا اور آپ کو اُٹھا کر پشت کے بل زمین پر پٹخ دیا پھر سینے پرچڑھ کر آپ کو ذبح کرنا چاہا۔ اس لمحے آپ نے پکارا: یَا غِیَاثَ الْمُسْتَغِیْثِیْن یعنی اے مدد مانگنے والوں کے مددگار! اسی وقت رومی لشکر سے سنہری زرہ پہنے اعلیٰ نسل کے گھوڑے پر سوار ایک جنگجو نکلا اور سیدھا اسی جانب آیا۔ قیدمون نے سمجھا کہ وہ اسے اپنا گھوڑا دینے اور اس کی مدد کرنے آیا ہے۔ لیکن شہسوار قریب آتے ہی گھوڑے سے اُترا اور قیدمون کو لات مار کر گرادیا اور آپ سے کہا: اے اللہ کے بندے! مدد مانگنے والوں کے مددگار کی طرف سے تیرے لیے مدد آ پہنچی ہے۔ آپ فوراً کھڑے ہوئے اور حیرت کرتے ہوئے اس شہسوار کو دیکھنے لگے، شہسوار کے چہرے پر نقاب تھا۔ پھر اس نے اپنی تلوار نکالی اور ایک ہی وار میں قیدمون کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ حضرت شرحبیل نے اس سے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے تم سے زیادہ عجیب معاملہ نہیں دیکھا، تم تو رومیوں کے لشکر کی جانب سے آئے تھے۔ شہسوار کہنےلگا: میں وہ بدبخت اور دھتکارا ہوا شخص طُلَیْحَہ بن خُوَیْلِد ہوں جس نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔حضرت شرحبیل نے فرمایا: اے میرے بھائی! اللہ کی رَحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور جو شخص توبہ کرلیتا ہے اور اللہ کی طرف لوٹ آتا ہے تو اللہ اس کی توبہ کو قبول کرلیتا ہے اور اس کے پچھلے گُناہوں کو معاف کردیتا ہے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد ہے: توبہ پچھلے گُناہوں کو مٹا دیتی ہے، طلیحہ نے کہا: میرے پاس کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں اسلام کی طرف لوٹ آؤں، پھر واپس جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے اسے روک لیا اور فرمایا:میں تمہیں یوں جانے نہیں دوں گا بلکہ تم میرے ساتھ اسلامی لشکر میں چلو، طلیحہ نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ حضرت خالد بن ولید مجھے قتل کردیں گے، آپ نے فرمایا: حضرت خالد رضی اللہ عنہ لشکر میں نہیں ہیں سپہ سالار حضرت عَمْرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہیں، پھر آپ طلیحہ کو اپنے ساتھ اسلامی لشکر میں لے آئے امیرِ لشکر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ طلیحہ کو دیکھ کر خوشی سے کِھل اٹھے اور خوش آمدید کہا (اس طرح حضرت طلیحہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے اور بہت اچّھے مسلمان ثابت ہوئے)۔ ([9])
طاعونِ عَمَواس پر ایمانی تاثرات:
سن 18 ہجری میں جب شام میں طاعون کی وَبا پھیلی تو اس وقت کے امیرِ شام نے لوگوں سے کہا کہ یہ ایک عذاب ہے، لہٰذا اس سے بچنے کے لیے پہاڑوں اور وادیوں میں پھیل جاؤ۔جب یہ بات حضرت شرحبیل بن حسنہ رضیَ اللہ عنہما تک پہنچی تو وہ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا:خدا کی قسم! میں نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صحبت پائی ہے یہ (طاعون) تمہارے رب کی رَحمت اور تم سے پہلے صالحین کی وفات کا ذریعہ ہے۔ ([10])
خلافتِ فاروقی اور معزولی:
جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو حضرت شرحبیل کو معزول کر دیا۔ آپ نے پوچھا: اے امیر المومنین! کیا میں نے کوئی خیانت کی ہے یا میں اس کام کے لیے نااہل ہوگیا ہوں؟ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نےفرمایا: نہ آپ نے خیانت کی اور نہ آپ نااہل ہیں۔ عرض کی: پھر مجھے کیوں معزول کیا؟ فرمایا: جب مجھے زیادہ باصلاحیّت شخص مل گیا ہے تو آپ کو قائد بنانے میں مجھے ہچکچاہٹ ہورہی ہے، عرض کی: یہ بات لوگوں کے سامنے بھی بیان کردیں کہ میں نے نہ کوئی خیانت کی ہے اور نہ میں نااہل ہوں، پھر حضرت عمر فاروق نے اس بات کو لوگوں کے سامنے بیان کردیا۔([11])
وفات:
حضرت شرحبیل بن حسنہ رضیَ اللہ عنہما سن 18 ہجری میں طاعونِ عَمَواس کی وبا میں مبتلا ہو کر 67 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔([12]) آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندَگی اسلام کی خدمت، جہاد فی سبیل اللہ اور زُہد و عِبادت میں گُزاری اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مِثال قائم کی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* سینیئر استاذ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی
Comments