صبر کا قراٰنی بیان



صبر کا قراٰنی بیان


اسلام ایک متوازن نظامِ اخلاق کا علمبردار ہے، حیاتِ انسانی کا اَمن اخلاقِ حسنہ کے ساتھ وابستہ ہے، اچّھی معاشرت، کامیاب معیشت اور اعلیٰ و شاندار عائلی زندَگی اخلاق پر ہی منحصر ہے، اخلاقِ حسنہ میں سے ایک خُلق (یعنی صفت) صبر بھی ہے جو اللہ اور رسول کی رضا، حصولِ جنّت، کامیاب زندَگی اور دنیا و آخِرت میں فلاح و کامرانی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

حضرت علی مرتضیٰ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والوں کے علاوہ ہر نیکی کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا کیونکہ صبر کرنے والوں کوبے اندازہ اور بے حساب دیا جائے گا۔( خازن،الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4/51)

صبر کی تعریف:

نفس کو اس چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کرے صبر کہلاتا ہے ۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،ص44)

قراٰنِ پاک میں متعدّد مقامات پر صبر کے فضائل و انعامات کو بیان کیا گیا ہے آئیے ہم بھی صبر کا قراٰنی بیان پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:

بشارتِ الٰہی:

 آزمائش اور تکالیف پر صبر کرنے والوں کے لیے اللہ پاک کی طرف سے خاص بشارت ہے جیسا کہ اللہ پاک قراٰنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)

 ترجمۂ کنز الایمان: اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔

‏‏( پ 2، البقرۃ: 155)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اللہ پاک کی معیّت:

 صبر اللہ پاک کی معیّت اور جوارِ رَحمت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے جیسا کہ قراٰنِ کریم میں آتا ہے:

وَ اصْبِرُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶)

 ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر کرو بے شک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔

( پ10، الانفال: 46)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اللہ کا محبوب:

مصائب و تکالیف پر صبر و استقامت اختیار کرنے سے انسان اللہ پاک کا محبوب اور مقرب بن جاتا ہے جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶)

ترجمۂ کنز العرفان: اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

(پ 4، اٰل عمرٰن: 146)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

بخشش کا ذریعہ:

 مصیبت پر صبر اور نعمت پر اللہ پاک کا شکر اَدا کرنا ایسے اوصاف ہیں جو بخشش اور بڑا ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں جیسا کہ قراٰنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچّھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔

(پ12، ھود: 11)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

جنّت میں داخلہ:

اللہ پاک اپنے نیک بندوں کو اِطاعت اور صبر کے بدلے جنّت میں داخل فرمائے گا جس میں ہر طرح کی آسائشیں اور نعمتیں ہوں گی جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے صبر پر انہیں جنّت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے۔

(پ29، الدھر:12)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی مرض سے، کبھی جان و مال کی کمی سے، کبھی دشمن کے ڈر، خوف سے، کبھی کسی نقصان سے، کبھی آفات و بَلیات سے اور کبھی نت نئے فتنوں و آزمائشوں اور تکالیف سے آزماتا ہے کہ آیا میرا بندہ صبر کا دامن اختیار کر کے میری رضا و اجرِ عظیم حاصل کرتا ہے یا جَزع و فَزع ( رونا پیٹنا) اور ناشکری کر کے اپنے اَجر کو ضائع کرتا ہے، ہمیں بھی چاہیے کہ جب کوئی مصیبت یا تکلیف آئے تو صبر و استقلال سے کام لیں اور جَزع و فَزع ‏‏ کرکے آتے ہوئے ثواب کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور اللہ پاک کی رَحمت اور جنّت کے اُمیدوار بن جائیں۔

اللہ پاک کی بارگاہ میں دُعا ہے کہ وہ ہمیں ہر حالت میں صبر و شکر اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


Share