اسلامی معاشرہ ہی مثالی معاشرہ ہے
اللہ کریم نے انسانوں کو پیدا فرمایا،اس دنیا میں بسایا،انبیاء و مُرسلین کو بھیج کر ان کے ذریعے انسانوں کو ایمان بخشا،زندَگی گُزارنے کو قراٰنِ پاک کی صورت میں لازَوال و بے مِثال دستورِ حَیات سے نوازا۔ عبادت و ریاضت کا مکمل نِظام عطا فرمایا۔ اسلامی تعلیمات کو اللہ کریم نے وہ حُسن بخشا ہے کہ جو فرد یا معاشرہ انہیں اپنا لیتا ہے وہ فرد کامل اور وہ معاشرہ ضرب المثل بن جاتا ہے۔خوب یاد رہے کہ اسلامی تعلیمات محض رُکوع و سُجود پر ہی مُنحصر نہیں ہیں بلکہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں کے مصداق اگر رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارَک تعلیمات اور اللہ پاک کے احکامات کو دیکھا جائے توایسا لگتا ہے کہ اللہ و رسول کی چاہت یہ ہے کہ انسان دنیا میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو رکوع و سجود، صوم و صلوٰۃ،حج اور زکوٰۃ کا پابند بھی بنائے اور ساتھ ساتھ ان نیکیوں کو بھی اپنی زندَگی کا اَٹوٹ اَنگ (جدا نہ ہو سکنے والا حصہ، جزو لازم) بنائے کہ جو معاشرے میں اَمن، سلامتی، اَخوّت،بھائی چارہ،رَحم دلی،خیر خواہی، خدمتِ خلق، احساس، رَواداری، برداشت، عِلم، حِلم، تحمل، صفائی ستھرائی، حُقوق کی پاسداری، مسکین و یتیم کی مدد، بیمار کی دیکھ بھال اور محتاج کی امداد جیسے اعلیٰ اوصاف کو نہ صرف قائم کرے بلکہ ان میں ترقّی و فروغ کا ذریعہ و سبب بھی بنے۔
اسلامی تعلیمات کی برکتیں:
یاد رکھیے! اسلام معاشرے کو مشکل اور گھٹن والا نہیں بناتا بلکہ اس کی اعلیٰ تعلیمات کو اگر کسی ایک گھر میں نافذ کر دیا جائے تو وہ گھر کائنات کا قابلِ رشک گھر بن جائے اگر کسی ایک محلّے،گلی یا ٹاؤن، شہر الغرض کسی پورے کے پورے ملک میں اسلام کو عملی طور پر رائج کیا جائے تو وہ گلی محلّہ ٹاؤن اور ملک و شہر تمام دنیا کے لوگوں کے لیے قابلِ رشک اور قابلِ تقلید بن جائےگا۔یہ محض دعویٰ ہی نہیں ہے بلکہ آئیے آپ کو اس بے مثال معاشرے کی ایک ہلکی سی جھلک دکھا دیتے ہیں۔اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:
لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓىٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَۚ-وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِۙ-وَ السَّآىٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِۚ-وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَۚ-وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْاۚ-وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۱۷۷)
ترجمۂ کنزالعرفان: اَصْل نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرلوبلکہ اصلی نیک وہ ہے جو اللہ اور قِیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پرایمان لائے اور اللہ کی محبت میں عزیز مال رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اورمسافروں اور سائلوں کو اور (غلام لونڈیوں کی) گردنیں آزاد کرانے میں خرچ کرے اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے اوروہ لوگ جو عہد کرکے اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں اور مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت صبرکرنے والے ہیں یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔ ([1])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس ایک آیت میں ایمان کے بعد چھ جگہ مال خرچ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے: (1)رشتہ داروں پر خرچ کرنا (2)یتیموں پر خرچ کرنا۔ (3)مسکینوں پر خرچ کرنا۔ (4)مسافروں پر خرچ کرنا۔ (5)سائلوں کو دینا۔ (6)گردنیں چھڑانے میں خرچ کرنا۔ مسلمانوں کے جس خطّے میں عملی طور پراس آیت کا نفاذ ہو جائے غور کیجیے وہ معاشرہ اَمن و سلامتی اور بھائی چارے کا کیسا شاندار عملی نمونہ بن جائے گا۔
اسلام تیرے قربان:
اس جیسی کئی آیاتِ کریمہ اور بے شمار احادیث پر غور کیا جائے تو ایک بات بہت واضِح ہو کر سامنے آتی ہے کہ بعض اعمال ایسے ہیں کہ جن میں بَظاہر نہ تو رُکوع و سُجود ہے اور نہ ہی تسبیح و تہلیل اور نہ ہی کوئی ایسا عمل ہے کہ جسے عبادتِ الٰہی قرار دیاجا سکے لیکن اس کام میں اللہ پاک کی رضا بھی ہے اور اس کے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خوشنودی بھی۔آخر کیوں ؟
یہ نیکی اس لیے ہے کہ:
دراصل کئی اعمال ایسے ہیں کہ جو معاشرے کو سدھارنے،اس میں اَمن و سلامتی لانے اور خیرخواہی و ہمدردی پیدا کرنے میں معاون و مددگار ہیں۔جن کے کرنے سے اللہ پاک کی مخلوق کا بھلا ہوتا ہے،مخلوقِ خدا کو راحت پہنچتی ہے،انہیں آرام ملتا ہے، ان کی داد رسی ہوتی ہےیوں معاشرے میں سکون قائم ہوتا ہے اور لوگوں کو قلبی قرار نصیب ہوتا ہے اور جن کاموں میں اس طرح کے اوصاف پائے جائیں وہ اللہ کریم کو پیارے لگتے ہیں اس لیے کہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اَلْخَلْقُ عِیَالُ اللّٰہِ، فَاَحَبُّ النَّاسِ اِلَی اللہ مَنْ اَحْسَنَ اِلٰی عِیَالِہ یعنی مخلوق اللہ کریم کی عیال ہے، تو لوگوں میں اللہ کریم کو سب سے پیارا وہ آدمی ہے جو اس کے عیال کے ساتھ اچّھا برتاؤ کرے۔([2])چونکہ اللہ کریم سب کا رازِق ہے، مخلوق اس کی مَرزُوق ہے، لہٰذا اس کی عیال ہے یعنی پَروَردَہ۔ تم اس آدمی سے بہت خوش ہوتے ہو جو تمہارے غلاموں، لونڈیوں،بال بچّوں سے اچّھا سلوک کرے کیونکہ وہ تمہارے پَروردہ ہیں ایسے ہی جو کوئی اللہ پاک کی مخلوق سے بھلائی کرے اللہ کریم اُس سے خوش ہوتا ہے۔([3])
وہ سب سے بہترین ہے:
ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: خَيْرُ النَّاسِ اَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ یعنی لوگوں میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔([4]) یہ حدیثِ پاک عام ہے چاہے مسلمان کسی کو دینی فائدہ پہنچائے جیسے کسی کو کلمہ پڑھا کردامنِ اسلام سے وابستہ کرنا، کسی کو شرعی مسائل سکھا دینا، کسی کو قراٰنِ کریم پڑھنا سکھا دینا، کسی پر اِنفرادی کوشش کرکے اسے گُناہوں سے توبہ کروا دینا وغیرہ یا دنیوی فائدہ پہنچائے اس میں بھی ایسی وُسعت ہے کہ کسی ایک فرد کو فائدہ پہنچائے جیسے راستہ بھولنے والے کو راستہ بتا دیا، سڑک پر پڑے کسی زخمی کو اسپتال پہنچادیا، مظلوم کی مدد کر دی، کسی بوڑھے آدمی کو سہارا دے کر اس کی منزل تک پہنچادیا، نابینا کو سٹرک پار کروا دی، ضَرورت مند کی حاجت پوری کردی، اپنا ہنر دوسرے کو سکھا کر فائدہ پہنچایا، جائز کام میں کسی کی سفارش کردی، پریشان مسلمان کی پریشانی دور کردی یا اجتماعی طور پر معاشرے کو فائدہ پہنچائے جیسے گاؤں گوٹھ یا شہر میں پانی کا انتظام کر دینا، پانی کی سبیل لگانا، رات کے وقت گلی میں بلب روشن رکھنا تاکہ راہ چلنے والوں کو سہولت رہے، غریبوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنا، راستہ سے تکلیف دینے والی چیز یں کیل، پتّھر، ہڈّی وغیرہ کو ہٹادینا وہ کام ہیں جن سے کئی مسلمانوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ معاشرے کو مثالی معاشرہ بنانے والے چند اعمال اور ان کا اَجر و ثواب ملاحظہ فرمائیے اور انہیں اپنانے کا عزمِ مصمّم فرما کر دوسروں کو ترغیب دیجیے:
(1) راستے سے تکلیف دَہ چیز دُور کرنا:
حدیث شریف میں ہے ایک آدمی جس نے کبھی کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا،راستے سے کانٹے دار شاخ کو ہٹادیا اللہ پاک کو اس کا یہ عمل پسند آیا اور اس کی مغفرت فرمادی۔([5])اللہ اکبر! ذرا سے عمل پر اتنا بڑا فضل! کس لیے؟ اس لیے کہ اس کام سے معاشرہ سُدھرتا ہے، مخلوقِ خدا کو آرام و چین ملتا ہے،اس لیے اس عمل کے کرنے والے کو بخش دیا گیا۔
(2)قرض دینا:
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ہر قرض صدقہ ہے۔([6])بلکہ ایک روایت میں تو قرض دینے کا ثواب صدقے کرنے سے بھی زیادہ بتا یا گیا ہے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے:رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: میں نے شبِ معراج جنّت کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا کہ صدقہ کا ثواب دس گُنا اور قرض دینے کا ثواب اٹّھارہ گُنا ہے۔ میں نے جبرائیل سے اس بارے میں پوچھا کہ صدقہ سے قرض کے افضل ہونے کی کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے بتایاکہ (صدقہ تو) وہ بھی مانگ لیتا ہے جو محتاج نہ ہو مگر قرض مانگنے والا حاجَت و ضَرورت کے بغیر قرض نہیں مانگتا۔([7])
(3)اِقالہ کرنے کا ثواب:
ایک آدمی نے کسی سے کچھ خریدا اب اسے احساس ہوا کہ مجھے اس کی ضَرورت نہیں یا کسی اور وجہ سے وہ چاہتا ہے کہ میں مال واپس کر دوں اور میری رقم مجھے مل جائے،جس سے مال خریدا ہے وہ اس کی بات مان کر بیع ختم کر دیتا ہے،رقم لوٹا دیتا ہے اس پر پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کیسی پیاری بشارت عطافرمائی حدیث پاک میں ہے: جس نے اپنے بھائی کے ساتھ اِقالہ کیا (یعنی اس نے جو چیز خرید ی تھی واپس کرنے پر اس سے لے لی) تو اللہ پاک قِیامت کے دن اس کی پریشانی دُورفرمائے گا۔([8])ایک اور روایت میں ہے: رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مسلمان سے اِقالہ کیا قِیامت کے دن اللہ کریم اس کی لغزشیں معاف فرما دے گا۔([9])
معاشرے کی فلاح و بہبود اور کامیابی و کامرانی سے متعلّق تعلیماتِ اسلام کے بے کنار سمندرسے یہ چند موتی ہیں جن سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کا پیغام سراپا رَحمت، خیر اور انسانیت نوازی کا پیغام ہے۔ یہ دین اللہ کریم کی بندگی کے ساتھ ساتھ بندوں کی خدمت کو بھی عبادت کا درجہ عطا کرتا ہے۔ مسلمان کا ہر قول و فعل اُس وقت حقیقی معنیٰ میں قابلِ قبول بنتا ہے جب اس کے دل میں خالِق کی محبّت اور مخلوق کی خیرخواہی جمع ہو جاتی ہے۔آج اُمّتِ مسلمہ کو جن فکری اور عملی بحرانوں کا سامنا ہے، ان کا حقیقی علاج یہی ہے کہ ہم پھر سے دین کی طرف لوٹ آئیں اور قراٰن و سنّت کے نظامِ حیات کو اپنالیں۔ عبادت کے ساتھ خدمت، ذکر کے ساتھ فکر، اور ایمان کے ساتھ عملِ صالح کو لازم پکڑیں۔ جب ایمان دار بندے اپنے کردار سے امن، محبّت، عدل اور اَخوّت کے علمبردار بنیں گے تو یقیناً زمین پر وہی سکون و رَحمت کی فضا قائم ہوگی جو مدینۂ طیبہ کے اولین معاشرے میں دیکھی گئی۔ آئیے! ہم عہد کریں کہ اپنی زندَگیوں کو اللہ و رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعلیمات کا آئینہ بنائیں، اپنے قول و عمل سے مخلوقِ خدا کے لیے آسانی پیدا کریں اور اسلام کی خوبصورت تعلیمات کو اپنے کردار سے دنیا کے سامنے زندہ مثال بنا دیں۔اللہ کریم ہمیں سچّائی، نرمی، خیر خواہی اور خدمتِ خلق کی دولت سے مالا مال فرمائے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا محمد عمران عطّاری
Comments