مدنی مذاکرے کے سوال جواب
(1)پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےجاگتی حالت میں اللہ پاک کو دیکھا
سوال: کیا ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے شب معراج میں اللہ پاک کو دیکھا تھا؟
جواب: بےشک پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جاگتی حالت میں معراج کی رات اللہ پاک کو دیکھا ہے،یہ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا خاصہ (یعنی خصوصیت) ہے۔(دیکھئے: بہار شریعت، 1/67، 68) آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علاوہ کسی نے نہیں دیکھا اور قیامت تک کوئی بھی نہیں دیکھ سکے گا۔ ہاں! جنت میں جنتیوں کو اللہ پاک کا دیدار ہوگا،(دیکھئے: بہار شریعت، 1/162) ہم بھی جنت میں پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پیچھے پیچھے اللہ پاک کا دیدار کریں گے، اِن شآءَ اللہ الکریم!(مدنی مذاکرہ، 27رجب شریف1444ھ)
تَبَارَکَ اللہ شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تووہ جوشِ لَنْ تَرَانِی کہیں تقاضے وِصال کےتھے
(حدائقِ بخشش،ص234)
(2)دجّال سے حِفاظت کا نسخہ
سُوال: سُنا ہے کہ ”جس وقت دجّال آئے گا اُس وقت جسے سُورۂ کہف کی آخری آیت یاد ہوگی وہی بچ سکے گا۔“ اس میں کہاں تک حقیقت ہے؟
جواب: صحیح مسلم شریف میں ہے: حضرتِ سَیِّدُنا ابو دَرداء رضی اللہ عنہ سے رِوایت ہے کہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو سُورۂ کہف کی پہلی 10 آیتیں یاد کرے گا، دجّال سے محفوظ رہے گا۔(مسلم، ص315، حدیث:1883) ایک رِوایت میں ہے: جو سُورۂ کہف کی آخری 10 آیتیں یاد کرے گا دجّال سے محفوظ رہے گا۔(مسلم، ص315، حدیث:1884-مدنی مذاکرہ، 24محرم الحرام 1442ھ)
(3)نَماز میں آگے یا پیچھے سے کپڑا اُٹھانا کیسا؟
سُوال: بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ نَماز کے دوران رُکوع یا سجدے سے اُٹھتے ہوئے قمیص کو پیچھے سے ہٹاتے اور دُرُست کرتے ہیں۔ اِس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
جواب: بہارِ شرىعت مىں نماز کے دوران کپڑا آگے ىا پىچھے سے اُٹھا نا مکروہِ تحرىمى لکھا ہے۔(دیکھئے: بہار شریعت، 1/624) البتہ اگر کوئی وجہ ہو جیسے بعض کپڑے ایسے ہوتے ہیں جو چپک جاتے ہیں تو ضرورتاً کپڑا چُھڑانے میں حَرج نہیں ہے۔(مختصر فتاویٰ اہل سنّت قسط1، ص43) بعض لوگ اَلتَّحِیّات یا دو سجدوں کے درمیان بیٹھتے وقت بھی قمیص کا ایک کونا ہاتھ سے ٹھیک کرتے ہیں، حالانکہ اِس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نَماز میں ایسی غیر ضروری حَرکتیں نہ کی جائیں۔ اگر ایسی حَرکتوں کی عادت ہے تو یہ ایک بار سُننے سے نہیں جائے گی، بلکہ اِسے Serious (یعنی سنجیدگی سے) لینا پڑے گا اور کسی اِسلامی بھائی کی ڈِیوٹی لگانی پڑے گی کہ ”کبھی نَماز میں میری کوئی ایسی حَرکت دیکھو تو مجھے بتانا“۔ ایسا کرنے سے اِنْ شَآءَ اللہ الکریم عادت ختم ہوجائے گی۔(مدنی مذاکرہ، 24محرم الحرام 1442ھ)
(4)دورانِ تلاوت اسمِ محّمد پر درودشریف پڑھنااور انگوٹھے چومنا کیسا؟
سُوال: تِلاوت سننے کے دوران اگر نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نامِ مُبارَک آجائے تو کیا دُرُودِ پاک پڑھنا ہوگا؟
جواب: قراٰنى آىت مىں جب اِسمِ محمّد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم آئے تو اُس وقت انگوٹھے بھى نہ چُومے اور دُرُودِ پاک بھى نہ پڑھے،([1]) کیونکہ جو قراٰن کریم سُننے کے لئے حاضر ہُوا ہو اُس کے لئے قراٰن کریم سُننا فرض ہے۔(دیکھیے: فتاویٰ رضویہ، 22/316-مدنی مذاکرہ، 2صفر المظفر 1442ھ)
(5)اَمیر و غریب کو اَلگ اَلگ ریٹ بتانا کیسا؟
سُوال:کیا دُکاندار کا اَمیر و غریب Customer (یعنی گاہک) کو چیز کا اَلگ اَلگ ریٹ بتانا صحیح ہے؟
جواب: اَلگ اَلگ ریٹ بتانے میں حرج نہیں ہے۔ البتہ دھوکا نہ دیا جائے (اور جُھوٹ نہ بولا جائے)۔
(مدنی مذاکرہ، 2صفر المظفر 1442ھ)
(6)اَولاد مَرد کے نصیب سےاور رِزق عَورت کے نصیب سے!!
سُوال: کىا ىہ بات سچ ہے کہ ”اَولاد مَرد کے نصىب سے ہوتی ہے اور رِزق عَورَت کے نصىب سے ملتا ہے؟“
جواب: اللہ پاک بہتر جانتا ہے۔ ہر شخص کا اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے۔ اللہ پاک نے جسے پیدا فرمایا ہے اُسے رِزق دینا اپنے ذِمّۂ کَرَم پر لیا ہے۔ اگر ہم نصیبوں کی تقسیم کریں گے تو بےاَولاد شخص کا کیا ہوگا! یوں ہی جو کنوارا ہے یا جس کی بیوی مَرگئی ہے اُس بےچارے کے رِزق کا کیا بنے گا! اِس طرح تو مُعامَلہ لٹک جائے گا، اِس لئے یاد رکھئے کہ ہر شخص کو اپنے نصیب کا ملتا ہے۔ اللہ پاک ہی چیونٹی کو ”کَن“ (یعنی ذرّہ) اور ہاتھی کو ”مَن“ عطا فرماتا ہے۔(مدنی مذاکرہ، 2صفر المظفر 1442ھ)
(7)شادی کارڈ پر اللہ رسول کا نام
سُوال: اکثر لوگ شادی کارڈ پر اللہ پاک اور محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نام لکھتے ہیں،لیکن جن کے گھروں میں کارڈ جاتا ہے وہ اس کا اَدب نہیں کرتے، اِس بارے میں راہ نُمائی فرما دیجئے۔
جواب: مختلف کتابوں، اخباروں اور خطوط latters وغیرہ میں عموماً اللہ پاک اور رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نام لکھا ہوتا ہے۔ ہر مُسلمان جانتا ہے کہ ان مبارک ناموں کا ادب کس طرح کرنا چاہیے۔ اگر کوئی شادی کارڈ پر اللہ پاک اور رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نام مبارک لکھتا ہے اور جن کے گھر وہ کارڈ جاتا ہے وہ اس کا اَدب نہیں کرتےتو اس میں لکھنے والا گُنہگار نہیں ہے۔(دیکھئے: مدنی مذاکرہ، 30صفر المظفر 1442ھ)
(8)شىطان کے مَرنے کى دُعا کرنا کیسا؟
سوال:کىا شىطان کے مَرنے کى دُعا کر سکتے ہىں؟
جواب: شىطان کو موت تو آئے گی لیکن ہماری دُعا اور بَددُعا سے اس کا مَرنا ممکن نہیں ہے۔ قراٰنِ پاک میں ہے:
قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ(۳۶)
ترجَمۂ کنز الایمان: بولا اے میرے رَب تو مجھے مہلت دے اُس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
(پ14، الحجر:36)
اسے قیامت تک کے لیے مہلت ہے۔ جس وقت صور پھونکا جائے گا یہ لعین اس وقت مَرے گا۔عام جنّات کو بھی شیطان کہا جاتا ہے اور وہ مَرتے رہتے ہیں۔(مدنی مذاکرہ، یکم ذوالحجۃ الحرام 1441ھ)
Comments