مجوسی کو اسلام کیسے ملا؟


مجوسی کو اسلام کیسے ملا؟


نعمان بھائی! میرے رجسٹر سے پیج نکالنے سے پہلے آپ کو مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا۔ اُسید رضا ہاتھ میں رجسٹر پکڑے کہہ رہے تھے۔

نعمان: یار ایک پیج ہی کی تو بات ہے، آپ تو ایسے رو رہے ہیں جیسے میں نے پورا رجسٹر لے لیا ہو۔

اُسید رضا جواب دینے ہی لگے تھے اوردونوں بچّوں کی تکرار پھر شاید مزید جاری رہتی کہ اتنے میں سر بلال دروازے کے قریب پہنچ  کر ٹھہر گئے، سب سے پہلے مُعاویہ کی نظر ان پر پڑی اور جلدی سے دونوں بچّوں کو سر کی طرف متوجّہ کرتے ہوئے رُک جانے کا کہا۔

سر بلال بآواز بلند سلام کرتے ہوئے اپنی کرسی کے پاس تشریف لا ئے اور دُرُود شریف پڑھنے کے بعد سبھی بچّوں کو اپنی اپنی جگہ بیٹھنے کا کہا اور پھر مُعاویہ سے کہنے لگے: کیا مچھلی بازار بنا رکھا تھا صبح صبح آپ لوگوں نے؟

مُعاویہ: نہیں سر! بس نعمان بھائی اور اُسید بھائی آپس میں جھگڑ رہے تھے۔

سر بلال: جی نعمان بیٹا! کیا وجہ بنی، آپ دونوں تو ہماری کلاس کے سمجھدار بچّوں میں سے ہیں۔

نعمان: سر آج میتھ کا ٹیسٹ ہے اور میں پیپر شیٹ لانا بھول گیا تھا، اسی لیے اُسید بھائی کے رجسٹر سے پیج نکال لیا تھا اور انہوں نے آتے ہی مجھ سے لڑنا شروع کر دیا، کنجوس نہ ہو تو! ایک پیج سے کیا ہوتا ہے میں انہیں پوری دس شیٹس لا دوں گا صبح۔

جی اُسید بیٹا! آپ کیا کہتے ہیں، سر بلال نے اُسید رضا سے پوچھا تو وہ کھڑے ہو کر بولے: سر! میں نے لڑنا نہیں شروع کیا تھا میں صرف اس لیے منع کر رہا تھا کہ رجسٹر سے یوں پیج نکالنے کی وجہ سے وہ لوز ہو جاتا ہےاور یہ مجھ سے پوچھتے تو سہی! میرے پاس ایکسٹرا شیٹس رکھی ہوئی تھیں میں نے ان  میں سے دے دینی تھی ۔

سر بلال نے خاموشی سے دونوں کی بات سنی تھی بغیر کسی قسم کی دخل اندازی کیے کیونکہ ان کے خیال میں یوں مسئلہ واضح ہو کر سامنے آ جاتا ہے اور اسے بہتر انداز میں حل کر سکتے ہیں لہٰذا اب انہوں نے اپنی بات شروع کی: نعمان بیٹا! مجھے لگتا ہے اسید درست کہہ رہے ہیں آپ کو واقعی ان سے پوچھ لینا چاہیے تھابِالفرض رجسٹر خراب ہونے والی بات نہ بھی ہوتی پھر بھی یوں بغیر پوچھے لینا تو بِالکل بھی درست طریقہ نہیں ہے اور پھر غلطی خود کرنے کے باوُجود انہیں کنجوس کہہ رہے ہیں یہ وہی بات ہو گئی ”ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری“ اس بات پر بچّے ہنسنے لگے۔

میں آپ کو چور نہیں کہہ رہا لیکن یاد رکھیں! کسی کی بھی چیز اس کی اجازت کے بنا تو بالکل بھی استِعمال نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ یہ بندوں کے حُقوق میں شامل ہے اور اللہ پاک بروزِ قِیامت اس حوالے سے سخت حساب لے گا۔ ہمارے بُزرگ بندوں کے حُقوق کے معاملے میں انتہائی حساس تھے آئیں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں:

ایک مشہور تابعی بُزرگ گُزرے ہیں آپ سبھی نے یقیناً ان کا نام سن رکھا ہوگا، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃُ اللہ علیہ ، تابعی تو آپ کو پتا ہے نا کن کو  کہتے ہیں؟

نعمان: جی جی سر !یاد ہے آپ نے ہی بتایا تھا کہ تابعی وہ ہوتے ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے کسی صحابی سے ملے ہوں اور پھر مسلمان ہی فوت ہوئے ہوں۔

سر بلال: شاباش بیٹا! اس کا مطلب ہے میری باتیں آپ یاد رکھتے ہیں، اچّھا تو امام ابوحنیفہ بہت بڑے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ بزنس مین بھی تھے اسی لیے لوگ آپ سے قرض یعنی اُدھار بھی لے جاتے، ایک بار آپ اپنے ایک مَقروض مَجوسی (یعنی آگ کی پوجا کرنے والے) کے یہاں قَرضہ وُصُول کرنے کیلئے تشریف لے گئے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اُس کے مکان کے قریب آپ کی جُوتی میں کیچڑ لگ گئی، کیچڑ چُھڑانے کے لیے آپ نے اپنی جوتی کو جھاڑا تو کچھ کیچڑ اُڑ کر مَجوسی کی دیوار سے لگ گئی، اب حضرت پریشان کھڑے ہیں کہ کروں تو کیا کروں، کیچڑ صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مِٹّی بھی اُکھڑے گی اور صاف نہیں کرتا تو دیوار خراب ہورہی ہے۔ اِسی ہچکچاہٹ بھری کیفیت میں مجوسی کے دروازے پر دستک دے دی۔ مَجُوسی نے باہَر نکل کر جب امام اعظم کو دیکھا تو بڑا پریشان ہوا  کہ قرضہ واپس کرنےکے پیسے نہیں ہیں لہٰذا معذرت کرنے لگا لیکن امامِ اعظم تو اپنی ہی پریشانی میں تھے، اس لیے اس بات کی طرف توجّہ دیے بغیر اسے دیوار پر کیچڑ لگ جانے کی بات بتاتے ہوئے معافی بھی مانگی اورکہا: مجھے یہ بتائیے کہ آپ کی دیوار کس طرح صاف کروں؟  خوفِ خدا اور اعلیٰ اخلاق دیکھ کر اس مجوسی نے اسلام قبول کر لیا گویا مجوسی کہہ رہا تھا کہ حضرت! دیوار کی کیچڑ صاف کرنے سے پہلے میرا دل کفر کی گندَگی سے پاک صاف کر دیں۔ (تفسیر کبیر،1/204)

سر کی بات ختم ہوئی تو نعمان جلدی سے کھڑے ہوئے اور ہاتھ جوڑ کر کہنے لگے: اُسید بھائی سوری! آئندہ آپ کی کوئی بھی چیز بلااجازت نہیں لوں گا اور میں نے آپ کو کنجوس بھی کہا پلیز مجھے دل سے مُعاف کر دیجیے گا۔

ارے نعمان بھائی! ہاتھ مت جوڑیئے میں نے آپ کو دل سے مُعاف کیا، اسید رضا نے نعمان کے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا اور سر بلال کے ساتھ ساتھ ساری کلاس مسکرا اُٹھی۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* مدرس جامعۃُ المدینہ، فیضان آن لائن اکیڈمی


Share