نمازِ تہجد قربِ الہی کا سنہری زینہ


نمازِ تہجد: قربِ الٰہی کا سنہری زینہ

رات کی سیاہی جب دنیا کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور ہر طرف سکون چھا جاتا ہے، ایسے پرسکون لمحات میں ربِ کریم اپنے بندوں کو اپنی رحمتوں کی بارش میں بلاتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب دل کی دنیا جاگتی ہے، روح کو نئی تازگی ملتی ہے اور بندہ اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ نمازِ تہجد اسی قرب کے حصول کا ایک سنہری زینہ ہے۔ایک ایسا عمل جو نبی کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی محبوب عبادت بھی ہے اور اولیا و صالحین کا خاص معمول بھی۔

تہجد اللہ سے محبت، عاجزی اور اخلاص کا ایک عملی اظہار ہے۔ یہ وہ لمحے ہیں جب دنیا کی آوازیں خاموش اور دل کی آواز بلند ہو جاتی ہے۔ ان  خلوت کے لمحات میں دعائیں قبول ہوتی ہیں، گناہوں کی معافی کے دروازے کھلتے ہیں اور دل پر ایمان کی مٹھاس اترتی ہے۔ آج کے مضمون میں ہم آپ کے ساتھ نمازِ تہجد کے بارے میں کچھ اہم معلومات شیئر کریں گے۔ پڑھیے اور عمل کی نیت بھی کیجیے!

تہجد کا معنیٰ اور حکم

معنیٰ: تہجد عربی لفظ ”ہَجَدَ“سے ہے جس کے معنی ہے: رات میں نماز پڑھنا۔ اصطلاح میں ”رات کو سونے کے بعد اٹھ کر نوافل کی ادائیگی کوتہجد کہاجاتاہے۔ “ ([1])

حکم: شروعِ اسلام میں تہجد کی نماز تمام مسلمانوں پر فرض تھی، پھر امت سے فرضیت منسوخ ہوگئی لیکن   حضورِ اکرم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم    کے لیے تہجد کی نماز فرض ہی رہی، آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  روزانہ 6 فرض نمازیں ادا فرماتےتھے جن میں تہجد کی نماز  بھی شامل تھی۔ اُمّت کے لیے یہ نماز سنتِ مستحبہ ہے، اس کو ترک کرنے والا اگرچہ فضلِ کبیر و خیرِ کثیر سے محروم ہےمگر گنہگارنہیں۔  ([2])

تہجد کے فضائل

*نوافل میں سب سے افضل نماز” صلاۃ اللیل (نمازِ تہجد)“ ہے۔([3])رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  رات کو اتنازیادہ قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے۔ جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں جبکہ اللہ نے آپ کے سبب اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیے تو آپ نے فرمایا:  " کیا میں اللہ پاک کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟" ([4])اللہ  پاک نے خود اپنے حبیب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو تہجد کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ﳓ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا(۷۹)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمہارے لیے زیادہ ہے قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں۔([5])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

چند فرامینِ مصطفیٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم :* رات میں قیام کو اپنے اوپر لازم کر لو کہ یہ پچھلے نیک لوگوں کا طریقہ ہے اور تمہارے رب کی طرف قربت کا ذریعہ اور گناہوں کو مٹانے والا اور گناہ سے روکنے والا ہے۔([6])*قیامت کے دن لوگ ایک میدان میں  جمع کیے جائیں  گے، اس وقت منادی پکارے گا، کہاں  ہیں  وہ جن کی کروٹیں  خواب گاہوں  سے جدا ہوتی تھیں ؟ وہ لوگ کھڑے ہوں  گے اور تھوڑے ہوں  گے یہ جنت میں  بغیر حساب داخل ہوں  گے پھر اور لوگوں  کے لیے حساب کا حکم ہوگا۔([7])*جنت میں  ایک بالا خانہ ہے کہ باہر کا اندر سے دکھائی دیتا ہے اور اندر کا باہر سے۔ حضرت ابو مالک اشعری  رضی اللہ عنہ   نے عرض کی۔ یا رسول اللہ ! وہ کس کے لیے ہے؟ ارشاد فرمایااُس کے لیے جو اچھی بات کرے اور کھانا کھلائے اور رات میں  قیام کرے جب لوگ سوتے ہوں۔([8]) *جو شخص رات میں  بیدار ہواور اپنے اہلِ خانہ کو جگائے پھر دونوں  دو دو رکعت پڑھیں  تو کثرت سے یاد کرنے والوں  میں  لکھے جائیں  گے۔([9])

تہجد سے متعلق چند مسائل

(1)صَلَاۃُ اللَّیْل کی ایک قسم تہجد ہے کہ عشا کی نماز کے بعد رات میں  سو کر اُٹھیں اور نوافل پڑھیں ، سونے سے قبل جو کچھ پڑھیں  وہ تہجد نہیں ۔(2)تہجد نفل کا نام ہے اگر کوئی عشا کے بعد سو گیا پھر اٹھ کر قضا نماز پڑھی تو اُس کو تہجد نہ کہیں  گے۔(3)کم سے کم تہجد کی دو رکعتیں  ہیں  اور  حضورِ اقدس  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   سے آٹھ تک ثابت ہیں۔(4) جو شخص تہجد کا عادی ہو بلا عذر اُسے تہجد چھوڑنا مکروہ ہے کہ صحیح بخاری کی حدیث میں  ہے، حضور پُر نور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے حضرت عبداللہ بن عمرو  رضی اللہ عنہما سے ارشاد فرمایا: ’’اے عبداللہ! تو فلاں  کی طرح نہ ہونا کہ رات میں  اُٹھا کرتا تھا پھر چھوڑ دیا۔([10])

نمازِ تہجد اور امیرِ اہلِ سنت

بانی دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا محمد الیاس  عطار قادری  دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ   عاشقانِ رسول کو نمازِ تہجد کی ادائیگی اور نفلی روزے رکھنے پر خصوصی زور دیتے ہیں۔ خاص طور پر آپ ماہِ رجب، شعبان اور رمضان میں عاشقانِ رسول کو تہجد  اور نفلی روزوں کی ادائیگی کی ترغیب دینے کے لیے مختلف تحریکیں اور مہمات چلاتے ہیں تاکہ ہر مسلمان رات کے پرسکون لمحات میں اللہ کی یاد، دعاؤں اور استغفار کے ذریعے اپنی زندگی کو منور کر سکے۔

آپ نے اپنی اولاد کو بھی شروع سے تہجد کی ترغیب دلائی۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے شروع کی بات ہے کہ ایک مرتبہ امیرِ اہلِ سنت  دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ  دینی کاموں میں مصروفیت کی بناء پر رات دیر گئے کچھ اسلامی بھائیوں کے ہمراہ اپنی لائبریری میں پہنچے تو وہاں آپ کے بڑے شہزادے حاجی عبید رضا عطاری سوئے ہوئے تھے جو اس وقت بہت کم سن تھے ۔ آپ نے فرمایا:”اِسے تہجد پڑھوانی چاہيے “  اور انہیں بیدار کرنا چاہا لیکن اُن پر نیند کا بے حد غلبہ تھا لہٰذا پوری طرح بیدار نہ ہوپائے۔ امیر اہل سنّت انفرادی کوشش فرماتے ہوئے انہیں  گود میں اُٹھا کرکھلے آسمان تلے لے گئے اور انہیں چاند دکھا کر پوچھا، ”یہ کیا ہے ؟“ انہوں نے جواب دیا: ”چاند“ پھر آپ نے پوچھا، ”یہ کیا کررہا ہے ؟“ انہوں نے جواب دیا:”گنبد ِ خضریٰ کو چوم رہا ہے۔“ اس گفتگو کے دوران وہ پوری طرح بیدار ہو چکے تھےچنانچہ آپ نے اُنہیں وضو کرکے تہجد پڑھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی۔([11])

تہجد اور نفلی روزوں کی کارکردگی: آفس شعبہ اصلاحِ اعمال کی جانب سے ملنے والی کارکردگی کے مطابق امیرِ اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری  دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی ترغیب پر رجب شریف 1446ھ/ جنوری 2025ء میں دعوتِ اسلامی کے تحت 23ہزار 118 تہجد اجتماعات منعقد ہوئے جن میں 2لاکھ 68ہزار529 اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ذمہ دار شعبہ دعوتِ اسلامی کے شب وروزکراچی



([1])حَلْبَۃُ المُجَلِّی، 2/566

([2])دیکھیے: فتاوی رضویہ، 7/400

([3])مسلم، ص591، حدیث: 1163

([4])مسلم ،ص 1169،حدیث: 7124

([5])پ15،بنٓی اسرآءیل: 79

([6])ترمذی، 5 / 323، حدیث: 3560

([7])شعب الایمان، 3 / 169، حدیث: 3244

([8])مستدرک، 1 / 631، حدیث: 1240

([9])مستدرک، 1/ 624، حدیث: 1230

([10])بخاری،1 / 390، حدیث: 1152

([11])تربیتِ اولاد، ص143


Share