عورت جمعہ والے دن بھی نمازِ ظہر ہی ادا کرئے گی؟


(1) شوہر حق مہر کی معافی  قبول نہ کرے تو وہ بدستور لازم رہتا ہے؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بیوی اپنے شوہر کو حق مہر میں ادا کی جانے والی رقم معاف کردے، مگر شوہر انکار کردے اور کہے کہ جب رقم آئے گی تو میں حق مہر ضرور ادا کروں گا؟ تو کیا اس صورت میں شرعاً شوہر پر حق مہر کا ادا کرنا لازم رہے گا؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

عورت اپنی رضا مندی و خوشی سے اپنا حق مہر معاف کردے تو وہ معاف ہوجاتا ہے بشرطیکہ شوہر نے انکار نہ کیاہو، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں شوہرچونکہ حق مہر کی معافی سے انکار کررہا ہے، تو اس صورت میں حق مہر معاف نہیں ہوگا بلکہ شوہر کے ذمے اُس کی ادائیگی لازم رہے گی۔(ردالمحتار مع الدرالمختار،4/240 ملتقطاً-البحر الرائق شرح كنزالدقائق،3/161-بہارِ شریعت،2/68)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(2) عورت جمعہ والے دن بھی نمازِ ظہر ہی ادا کرے گی؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورت جمعہ کے دن ظہر پڑھے گی یا جمعہ کی نماز ادا کرے گی؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

عورت جمعہ والے دن بھی نمازِ ظہر ہی ادا کرے گی کہ جمعہ فرض ہونے کی چندشرائط ہیں انہی میں سے ایک شرط مرد ہونا بھی ہے، لہٰذا عورت پر جمعہ فرض نہیں ۔ البتہ یہ مسئلہ ذہن نشین رہے کہ اگر کسی عورت نے جمعہ ادا کرلیا تو اُس پر سے نمازِ ظہر ساقط ہوجائے گی۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،3/30-32 ملتقطاً-بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع، 1/285ملتقطاً-نورالایضاح وشرحہ مراقی الفلاح،ص269-بہارِ شریعت،1/770، 771ملتقطاً)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(3) مدتِ رضاعت میں عورت کا دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے

سوال: کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ڈیڑھ سالہ بچہ اپنی چچی کی بیٹی کا فیڈر پی لے، جس میں چچی نے اپنا دودھ نکال کر ڈالا ہو اُس میں کوئی اور دودھ مکس نہ ہو، تو کیا یہ دودھ پی لینے سے یہ دونوں بچے آپس میں رضاعی بھائی بہن بن جائیں گے؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جی ہاں! پوچھی گئی صورت میں یہ دونوں بچے رضاعی بھائی بہن کہلائیں گے کہ مدتِ رضاعت میں عورت کا دودھ خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ کسی بھی طریقے سے بچے کے پیٹ تک پہنچ جائے تو حرمتِ رضاعت ثابت ہوجاتی ہے، وہ عورت بچے کی رضاعی ماں کہلاتی ہے اور اُس عورت کی جتنی اولاد ہے وہ دودھ پینے والے کے بھائی بہن ہیں۔

یہاں تک تو پوچھے گئے سوال کا جواب تھا البتہ یہ مسئلہ ذہن نشین رہے کہ اگر کسی نے فیڈر میں عام دودھ کے ساتھ عورت کا دودھ ملادیاتو اب اگرعورت کا دودھ زیادہ ہویا دونوں دودھ برابر ہوں تو حرمتِ رضاعت ثابت ہو جائےگی، اوراگر عورت کا دودھ کم ہواورعام دودھ زیادہ ہو تو حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔

(تحفۃ الفقہاء،2/282-البحر الرائق شرح كنز الدقائق، 3/246-بہارِ شریعت،2/39)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* محقق اہل سنت، دارالافتاء اہل سنت نورالعرفان، کھارادر کراچی


Share