ایڑی کی ٹھوکر سے چشمہ جاری ہوگیا
رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ مقدّسہ میں اللہ پاک کی قدرت کے جلوے نظر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے بےشُمار معجزات عطا فرمائے جنہوں نے نہ صرف آپ کی نبوّت کی سچائی کو ظاہر کیا بلکہ انسانی ہمدردی اور دائمی ایمان افروزی کا سامان بھی بنے۔آئیے آج ایسے ہی ایک معجزہ کے بارے میں سنتے ہیں:
ابو طالب کہتے ہیں کہ میں اپنے بھتیجے یعنی حضورِ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ ذُو الْمَجاز میں تھا، (یہ عَرَفہ سے ایک فَرْسخ (تقریباً تین میل)کے فاصلے پر ایک جگہ ہےجہاں جاہلیت کے دَور میں بازار لگا کرتا تھا)اچانک مجھے پیاس لگی، میں نے ان سے کہا: بھتیجے! مجھے بہت پیاس لگ رہی ہے۔ میں یہ بات صرف پیاس کی بیتابی و بےچینی کی وجہ سے کہہ بیٹھا تھا نہ کہ اس لیے کہ مجھے ان کے پاس پانی نظر آ رہا تھا۔
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی سُواری سے اُتر کر کہا: چچا! کیا واقعی تمہیں پیاس لگی ہے؟ میں نے جواب دیا: ہاں۔ پھر آپ نے اپنی ایڑی زمین یا کسی پتھر پر مار کر کچھ پڑھا، اسی لمحے میں پانی کے ایک چشمے پر کھڑا تھا (یعنی وہاں ایک چشمہ جاری ہو گیا) میں نے ایسا پانی پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کہا: ”پئیں“ میں نے اتنا پیا کہ میری پیاس بجھ گئی۔ پھر آپ نے ایڑی مار کر پتّھر کو ویسا ہی بنا دیا جیسا پہلے تھا۔ (سیرتِ حلبیہ، 1 / 170)
سبحٰن اللہ! ایڑی کو زمین یا پتّھر پر مار کر اس سے پانی کا چشمہ جاری کر دینا اللہ پاک کے آخِری نبی، محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا عظیم معجزہ ہے ۔ اس واقعہ سے ہمیں چند باتیں سیکھنے کا ملتی ہیں:
*دوسروں کی پریشانی کا خیال کرتے ہوئے اپنی طاقت و قُدرت کے مطابِق اسے دُور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
*اللہ پاک کے فضل سے اللہ والوں کی بارگاہ سے ایسے کام بن جاتے ہیں جو عام انسانوں کے بس سے باہر ہوتے ہیں۔
*کبھی کبھی مشکل وقت میں ایسی مدد ملتی ہے جس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا، یہ اللہ کی خاص رَحمت ہوتی ہے۔
*اللہ پاک جسے چاہے عزّت اور قُدرت دے، وہ کسی ظاہری سبب کے بغیر بھی بڑا کام کر سکتا ہے۔
*بعض چیزیں دیکھ کر انسان کا یقین اور پختہ ہو جاتا ہے کہ اللہ سب کچھ کر سکتا ہے، اور نیک لوگ اس کے خاص بندے ہوتے ہیں۔
*اللہ والے دوسروں کی مدد اس طرح کرتے ہیں کہ سامنے والے کو شرمندگی بھی نہ ہو اور کام بھی آسانی سے ہو جائے۔
*ایسا برتاؤ جو دل کو خوش کر دے، وہ ہمیشہ یاد رہتا ہے اور دل میں جگہ بنا لیتا ہے۔
*اچّھے انسان کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو۔
*پانی یا کسی بھی قابلِ استعمال چیز کو ضائع نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی بے مصرف چھوڑنا چاہیے۔
*مشکلوں سے نَجات کے لیے وِرد وظیفے اور دُعا کا سہارا لینا فائدہ مند ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments