حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی فراست اور معاملہ فہمی (دوسری اور آخری قسط)


صدیقِ اکبر  رضی اللہ عنہ  کی فراست اور معاملہ فہمی: ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ (دوسری اور آخری قسط)


(7)فتحِ مکّہ کی تیاری کا راز اور معاملہ فہمی

رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فتحِ مکّہ کی تیاری کو انتہائی خفیہ رکھا تاکہ قریش کو غفلت میں ہی رکھا جائے اور خونریزی سے بچا جاسکے۔ اس دوران نبیِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہ ا کو سفر کے  کھانے وغیرہ  کا سامان تیار کرنے کا حکم دیا۔

ایک دن حضرت ابوبکر صدّیق  رضی اللہ عنہ  رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ آپ کی بیٹی اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا   گیہوں چھان کر کھانے کا سامان تیار کر رہی ہیں۔ آپ نے پوچھا: ”اے میری بیٹی! تم یہ کھانے کا سامان کیوں تیار کر رہی ہو؟“ حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہ ا نے نبیِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے راز کو راز رکھا اور کوئی جواب نہ دیا۔ حضرت ابوبکر نے پھر دریافت کیا: ”کیا رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کسی غزوے کا اِرادہ رکھتے ہیں؟“ اس سُوال پر بھی حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہ ا خاموش رہیں۔ حضرت ابوبکر  رضی اللہ عنہ  نے کئی سُوالات پوچھے، لیکن حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہ ا خاموش رہیں۔حضرت ابوبکر  رضی اللہ عنہ  نے اپنی بیٹی کی مسلسل خاموشی دیکھی تو سمجھ گئے کہ وہ نبیِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے راز کو ظاہر نہیں کریں گی۔ یہ آپ کی اعلیٰ فراست اور تربیَت کا نتیجہ تھا کہ آپ نے اپنی بیٹی پر مزید زور دینے کے بجائے ان کی خاموشی میں چھپے راز کو سمجھ لیا۔ اتنے میں رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  خود تشریف لے آئے تو آپ نے رسولِ کریم سے خود معلومات حاصل کرلیں۔  ([1])یہ واقِعہ بھی آپ کی بَصیرت اور معاملہ فہمی کا ایک بہترین نمونہ ہے کہ آپ حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا  کی غیرمعمولی مصروفیات اور سوالات پر سکوت  سے صورتِ حال  سمجھ گئے اور رسول اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے راز کو افشاں کرنے پر بھی مُصِر نہ ہوئے۔

(8)فتنۂ اِرتِداد اور معاملہ فہمی کی مثال

رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے وصال کے بعد، دینِ اسلام کو  ایک ایسے نازک ترین موڑ کا سامنا کرنا پڑا جس کی حساسیت کا اندازہ لگانا ناممکن تھا۔بعض قبائل نے زکوٰۃ کی فرضیّت سے انکار کر دیا، اور جھوٹے مدعیانِ نبوّت نے سر اُٹھا لیے، ان حالات میں اِرتِداد کا فتنہ  پھیلنے کا شدید اندیشہ تھا۔ اس صورتِ حال میں جہاں ایک طرف بڑے بڑے صحابہ اس صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وقتی طور پر نرمی برتنے کی رائے دے رہے تھے، وہیں حضرت ابوبکر  رضی اللہ عنہ  کا ایمان اور ان کی معاملہ فہمی اپنے عُروج پر تھی۔

حضرت عمر فاروق  رضی اللہ عنہ  نے اس وقت حضرت ابوبکر  رضی اللہ عنہ  سے  عرض کیا: ابھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسلام سے مرتد ہو گئی ہے،( جبکہ آپ نے لشکرِ اسامہ کو بھی روانہ کر دیا ہے) ایسے میں آپ زکوٰۃ نہ دینے والوں سے جنگ کا اِرادہ رکھتے ہیں؟ کیا آپ ان کے کلمہ پڑھنے کے باوجود بھی ان سے جنگ کریں گے؟یہ ایک ایسا سُوال تھا جو اس وقت کی ہنگامی صورتحال اور اُمّت کے انتشار کے اندیشے کو ظاہر کرتا تھا۔لیکن حضرت ابوبکر صدّیق  رضی اللہ عنہ  نے جو جواب دیا، وہ ان کی ایمانی فراست اور کمالِ معاملہ فہمی کا ایک ایسا شاہکار ہے جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جو لوگ نَماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کریں گے، میں ان سے ضَرور جہاد کروں گا۔ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اگر یہ لوگ رسی کا ایک بھی ٹکڑا جو رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے زمانے میں دیا کرتے تھے، ادا کرنے سے انکار کریں گے تو میں اس کے بدلے میں بھی ان سے جہاد کروں گا۔

حضرت عمر فاروق  رضی اللہ عنہ  بعد میں اس واقعے کو یاد کر کے فرمایا کرتے تھے کہ ”خدا کی قسم! جب میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر کا سینہ جہاد کے لیے کھول دیا ہے تو میں سمجھ گیا کہ ابوبکر کا فیصلہ درست اور حق پر تھا۔“([2])حضرت عمر کا یہ اعتِراف اس بات کی گواہی ہے کہ حضرت ابوبکر  رضی اللہ عنہ  کی بَصیرت عام لوگوں کی سوچ سے کہیں بلند تھی۔ ان کے اس جرأت مندانہ اِقدام نے اسلام کو انتشار اور زوال کے گڑھے میں گرنے سے بچا لیا اور اس کی بنیادوں کو  مضبوط کیا۔

(9)ہجرت کی رات کی بے مِثال عقیدت اور فراست

حضرت سیدنا ابوسعید خدری  رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  (حجۃ الوداع سے واپس تشریف لائے) منبرپر جلوہ افروز ہو ئے اور فرمایا: ’’ایک بندہ ہے جسے اللہ نے اختیار دیا کہ چاہے تو ہمیشہ دنیا میں رہے اورا س کی بہاریں لوٹتا رہے اور چاہے تواس کے ہاں تیار کردہ نعمتوں کو اختیار کرلے۔تو اس بندے نے جو اس کے رب کےپاس نعمتیں ہیں انہیں اختیار کرلیا۔‘‘سرکار  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی اس بات کو کوئی نہ سمجھ سکا کہ کیا معاملہ ہے؟ لیکن حضرت ابوبکر صدیق   رضی اللہ عنہ اللہ پاک کی عطاکردہ فہم و فراست سے فورا ًسمجھ گئےاور جان گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جس بندے کو اختیار دیا ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ خود آپ کے محبوب نبی، سرکارِ دو عالَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ہیں اور  اس حدیث کے ذریعے آپ اپنی وفات کا اشارہ فرما رہے تھے۔ حضرت ابوسعید خُدری  رضی اللہ عنہ  نے اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:پس وہ (بندہ)جس کو اختیار دیا گیا تھا خود تاجدارِ کائنات  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  تھے اور ابوبکر صدّیق  رضی اللہ عنہ  ہم سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے۔([3]) یہ آپ کی ایمانی فراست اور نبیِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے مزاج شناس ہونے کا بین ثبوت تھا۔

(10)خلافت کے لیے حضرت عمر کا انتخاب

حضرت عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  فرماتے تھے کہ میری معلومات میں تین ہستیاں ایسی گُزری ہیں جو فراست کے بُلند ترین مقام پر تھیں، جن میں سے ایک حضرت ابوبکر صدّیق  رضی اللہ عنہ  ہیں۔ ان کی فراست کی ایک واضح مثال حضرت عمر فاروق  رضی اللہ عنہ  کو اپنے بعد خلافت کے لیے منتخب کرنا ہے۔

جب حضرت ابوبکر صدّیق  رضی اللہ عنہ  کا وصال قریب آیا تو انہوں نے امت کے مستقبل کی فکر کرتے ہوئے حضرت عمر فاروق  رضی اللہ عنہ  کو اپنا جانشین بنانے کا فیصلہ کیا۔ بعض صحابہ ٔ کرام نے حضرت عمر کی جلالی طبیعت کا ذکرکیا، لیکن حضرت ابوبکر صدّیق  رضی اللہ عنہ کی فراست  پر قربان ،   آپ جانتے تھے کہ اُمّت کو اس نازک دور میں ایک ایسے مضبوط اور جَری قائد کی ضَرورت ہے جو اپنے فیصلوں میں ثابت قدم ہو اور اُمّت کے داخلی و خارجی فتنوں کا مقابلہ کر سکے۔ آپ نے فرمایا کہ میں عمر کو خلیفہ بنا رہا ہوں۔([4]) بعد میں پوری دنیا کے مؤرخین اور دانشوروں نے اس فیصلے کو بہترین قرار دیا۔ یہ آپ کی معاملہ فہمی اور دور اندیشی کی انتہا تھی۔

ان تمام واقِعات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ حضرت ابوبکر صدّیق  رضی اللہ عنہ   ایمان اور تقویٰ  کے ساتھ ساتھ  معاملہ فہمی، حکمت اور فراست  میں  بھی بُلند ترین مقام پر تھے۔ آپ کی زندگی کا ہر پہلو آنے والے قائدین اور عام مسلمانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے کہ کس طرح حالات کی گہرائی میں اُتر کر درست فیصلے کیے جاتے ہیں، اور کس طرح مشکل ترین حالات میں بھی اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر کامل یقین کے ساتھ عمل کرنا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ہیڈآف ڈیپارٹ ما ہنامہ فیضان مدینہ کراچی



([1])البدایۃ والنھایۃ،3/475

([2])السنن الکبری للبیہقی، 4/191ملتقطاً

([3])بخاری، 2/591، حدیث: 3905

([4])ازالۃ الخفاء ،3/121مفہوماً


Share