آخری نبی محمد عربی کے نیند سےبیدار ہو کر چندانداز
اللہ کریم کا ہم پر اِحسان ہے کہ اُس نے ہمیں نیند کی اُس نعمت سےنوازا جو ہمارےذہن کو سکون،روح کو تسکین،دل کو راحت اورجسم کو صحّت مند رکھنے میں مدد کرتی ہے اور کرمِ خُداوندی سے ہم نیند سے بیدار ہوکر کاموں کو مزید بہتر طور پر کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔
اللہ کےآخِری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کانیند سے بیدار ہونے کا اندازکیساتھا؟ایک اُمّتی ہونےکی حیثیت سےہمارےلیےیہ جاننا ضَروری ہے تاکہ ہم اندازِ مصطفےٰ اپنا کر پورے دن میں خیر وبھلائی پاسکیں۔
بیدار ہوکرصفائی کا اہتمام
اللہ کےآخِری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سوکر اُٹھنے کے بعد منہ کی صفائی کا اہتمام فرماتےچنانچہ حضرت سیدنا حُذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب رات میں تہجد کے لیے بیدار ہوتے تو اپنا منہ مسواک سے صاف فرماتے۔ ([1]) دراصل سوتے ہوئے معدے سے گیس منہ کی طرف آتی ہے جس کی وجہ سے منہ کا ذائقہ بدل جاتا ہے اوربدبو آتی ہے۔([2]) رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اُمّت کی تعلیم کے لیےسوکر اُٹھنے کے بعد مستقل مسواک کرنے کا انداز ہمیں دیا تاکہ ہم اِسے اپنا کرمنہ کی بد بو اور بدذائقے سے نَجات حاصل کرسکیں۔
بیدار ہوکر پڑھی جانے والی دعائیں
نیند سے بیدار ہوکر اپنے حقیقی خالِق ومالِک کا نام زبان پر آنے کی عادت بن جائے تو دن کس قدر خوب صورت گُزرے گا۔ یہ عادت بنانے کے لیے ہم اپنے پیارے کرم نواز آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا انداز مُلاحظہ کرتے ہیں چنانچہ
(1)رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نیند سے بیدار ہوکر یہ دُعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِيْ اَحْيَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُ یعنی تمام تعریفیں اﷲ پاک کے لیے جس نے ہمیں موت (نیند)کے بعد زندَگی دی اور (قِیامت کے دن)اسی کی طرف اُٹھنا ہے۔([3])
رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اِس اندازِ دُعا سے ہمیں یہ بات سیکھنی چاہیے کہ نیند سے بیدار ہوتے ہی ہمارا سب سے پہلا کام ”یادِ خدا“ ہونا چاہیے، فتاویٰ عالمگیری میں ہے: صبح ہونے سے پہلے ہی اُٹھ جانا چاہیے نیز خدا کو یاد کرتے ہوئے نیند سے بیدار ہو اور اس بات کا پکا ارادہ کرے کہ حرام کاموں سے بچے گا اور کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔([4])
(2)رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سو کر اُٹھنے کے بعد ہمیں یہ دُعاسکھائی ہے چنانچہ حضرت عُبادہ بن صامِت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے رات کے وقت نیند سے بیدار ہوکرکہا:” لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحٰنَ اللَّهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ اَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللَّهِ “(یعنی اللہ پاک کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلاہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتاہے۔تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں،وہ پاک ہے،اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ سب سے بڑا ہے،گُناہ سے بچنے کی تو فیق اور نیکی کی قوّت اللہ ہی کی طر ف سے ہے۔) پھر وہ یہ کہے:” اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ“یعنی اے اللہ! مجھے بخش دے، یا کوئی اور دُعا مانگے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی پھر اگر وہ وُضو کرے (اورنماز پڑھے) تواس کی نَماز بھی قبول کی جائے گی۔([5])
حدیث میں مذکور یہ کلمات”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ “اَنبیائے کِرام علیہمُ السّلام کی دعا ہے چنانچہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: عرفہ کے دن یہ سب سے بہتر دُعا ہے جومیں نے اور مجھ سے پہلے اَنبیا نے مانگی ہے۔([6])
بیدار ہوکر پڑھی جانے والی نَماز
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو سب سے زیادہ وہ عمل پسند تھا جو ہمیشہ ہو۔ آپ سے عرض کی گئی: حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کس وقت قِیام فرماتے تھے؟فرمایا: جب مرغ کی آواز سُنتے۔([7])
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رات کی نماز کے احوال کی خبر دی ہے کہ آپ رات کے اوّل حصّے میں آرام فرماتے اور پھر رات کے تیسرے حصّہ میں کہ جب مرغا بانگ دیتا اس وقت اُٹھ کر تہجد کی نماز ادا فرمایا کرتے تھے کہ اس وقت اللہ پاک کی رَحمت نازل ہوتی ہے اور یہ وقت کافی سکون والا ہوتا ہےجس میں بندہ شور نہ ہونے کے سبب سکون سے نماز ادا کرسکتا ہے۔ اپنےربّ کی عِبادت کرنے کے بعدحضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم رات کے آخِری اور چھٹے حصّہ میں یعنی سحری کے وقت فجر کی نماز پر چُستی حاصل کرنے اور جسم و جان کو آرام پہنچانے کے لیے سوجاتے یا لیٹ جاتے تھے۔([8])
روایات کے مضامین کاخُلاصہ:
بعض روایتوں میں یہ آیا ہے کہ رسول ِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نمازِ عشاء کے بعد کچھ دیر سوتے پھر کچھ دیر تک اُٹھ کر نماز پڑھتے پھر سو جاتے پھر اٹھ کر نماز پڑھتے۔ غرض صبح تک یہی حالت قائم رہتی۔ کبھی دو تہائی رات گُزر جانے کے بعد بیدار ہوتے اور صبح صادق تک نمازوں میں مشغول رہتے۔ کبھی نصف رات گُزر جانے کے بعد بسترسے اٹھ جاتے اور پھر ساری رات بستر پر پیٹھ نہیں لگاتے تھے اور لمبی لمبی سورَتیں نمازوں میں پڑھا کرتے، کبھی رُکوع و سجود طویل ہوتا کبھی قِیام طویل ہوتا۔ کبھی چھ رکعت، کبھی آٹھ رکعت،کبھی اس سے کم کبھی اس سے زیادہ۔ اَخیر عمر شریف میں کچھ رکعتیں کھڑے ہو کر، کچھ بیٹھ کر ادا فرماتے، نمازِ وِتْر نمازِ تہجد کے ساتھ ادا فرماتے، نمازوں کے ساتھ ساتھ کبھی کھڑے ہو کر، کبھی بیٹھ کر، کبھی سربسجود ہو کر نہایت آہ و زاری اور گریہ و بکا کے ساتھ گِڑگِڑا گِڑگِڑا کر راتوں میں دُعائیں بھی مانگا کرتے۔([9])
حضرت عبدُاللہ بن رَواحہ رضی اللہ عنہ نے اندازِ مصطفیٰ کوکتنے خوب صورت نعتیہ اشعار میں بیان فرمایا ہے:
|
وَفِينَا رَسُولُ اللهِ يَتْلُو كِتَابَهٗ |
اِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ |
|
اَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا |
بِهٖ مُوقِنَاتٌ اَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ |
|
يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهٖ |
اِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِينَ الْمَضَاجِعُ |
ترجمہ:(1) اور ہم میں اللہ کے رسول ہیں جو اُس کی کتاب کی تلاوت فرماتے ہیں جب روشنی پھٹتی اور سورج طلوع ہوتا ہے۔ (2)آپ نے ہمیں بھٹکنے کےبعد(راہِ) ہدایت دکھائی لہٰذاہمارے دل اُن پر ایمان رکھتے ہیں کہ آپ نے جو کہا وہ ہو کر رہا۔(3)آپ اس طرح رات گُزارتے ہیں کہ (نماز میں مصروف ہونے کی وجہ سے) آپ کے پہلو بستر سے جُدا رہتے ہیں جبکہ مشرکین پریہی بستربوجھ بن جاتے ہیں (یعنی شدید نیند کی وجہ سے وہ قِیام کی طاقت نہیں پاتے۔)([10])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ذمہ دار مرکز خدمۃ الحدیث وعلومہ Hadith Research Center
Comments