سامان گروی رکھ کر قرض لینا کیسا؟


(1)سامان گروی رکھ کر قرض لینا کیسا؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون  سے جب کوئی قرض کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ اس قرض کے بدلے میں مقروض کی کوئی قیمتی چیز مثلاً سونا وغیرہ بطورِ ضمانت رکھتی ہے اس کے بعد ہی قرض دیتی ہیں۔ البتہ قرض پر نہ تو وہ کوئی اضافی رقم وصول کرتی ہیں اور نہ ہی مقروض کی رکھی ہوئی چیز کو اپنے استعمال میں لاتی ہیں۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس طرح قیمتی چیز رکھوا کر قرض لینا  شرعاً جائز ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: قرض خواہ کا قرض کے بدلے مقروض کی کوئی چیز بطورِ ضمانت اپنے پاس رکھنا شرعی اصطلاح  میں”رہن“  کہلاتا ہے۔ رہن رکھوانا قرآن و حدیث  سے ثابت ہے۔ مزید یہ کہ رہن رکھوانے میں فریقین کو فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں وہ اس طرح کہ قرض خواہ کو اپنے قرض کی وصولی کا اطمینان ہوجاتا ہے اور مقروض کو اپنا مطلوبہ قرض بآسانی حاصل ہوجاتا ہے۔ واضح ہوا کہ  پوچھی گئی صورت میں اپنی قیمتی چیز رکھوا کر قرض وصول کرنا شرعاً جائز ہے۔

البتہ یہ مسئلہ ضرور ذہن نشین رہے کہ قرض خواہ کا رہن  رکھی ہوئی چیز سے کسی بھی قسم کا مشروط نفع حاصل کرنا خالصتاً سودی معاملہ ہے اس سے بچنا لازم و ضروری ہے۔

قرض لے کر اپنا مال رہن رکھوانا قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ چنانچہ  اللہ تبارک و تعالیٰ  ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ

 ترجَمۂ کنزُالایمان: اور اگر تم سفر میں ہو اورلکھنے والا نہ پاؤ  تو  گِرو ہو قبضہ دیا ہوا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

(پ3،البقرۃ:283)

اس آیتِ مبارکہ کے تحت صدرالافاضل حضرت علامہ مولانا مفتی  سید محمد نعیم الدین مراد آبادی  علیہ الرَّحمہ  لکھتے ہیں:  ’’یعنی کوئی چیز دائن کے قبضہ میں گروِی کے طور پر دے دو۔  مسئلہ: یہ مستحب ہے اور حالتِ سفر میں رہن آیت سے ثابت ہوا اور غیر سفر کی حالت میں حدیث سے ثابت ہے چنانچہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے مدینہ طیبہ میں اپنی زرہ مبارک یہودی کے پاس گروی رکھ کر بیس صاع جَو لئے۔  مسئلہ: اس آیت سے رہن کا جواز اور قبضہ کا شرط ہونا ثابت ہوتا ہے۔‘‘ (خزائن العرفان ، ص 100)

رہن سے مشروط نفع اٹھانا خالصتاً سودی معاملہ ہے۔ جیسا کہ امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ الرَّحمہ  ارشاد فرماتے  ہیں: ’’رہن میں کسی طرح کے نفع کی شرط بلاشبہہ حرام اور خالص سودہے بلکہ ان دیارمیں مرتہن کا مرہون سے انتفاع بلاشرط بھی حقیقۃً بحکم عرف انتفاع بالشرط ربائے محض ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ،25/57)

وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(2)گروی رکھی ہوئی چیز پر زکوٰۃ نہیں

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون کے پاس سونے کا سیٹ تھا جو انہوں نے ضرورت پڑنے پر کسی کے پاس گروی رکھوا کر قرضہ لیا، ابھی تک قرضہ ادا نہیں ہوسکا۔ کیا اس زیور کی زکوٰۃ خاتون کو نکالنا ہوگی؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: پوچھی گئی صورت میں جب تک سونے کا سیٹ گروی (رہن) رہے گا، اس عرصے کی سونے کے سیٹ پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی۔

فتاویٰ رضویہ میں ہے:”دوسری صورت (راہن کا زیور رہن رکھوانے والی صورت) میں وُہ زیور اُسی کا ہے مگر اس کی زکوٰۃ اس پر واجب نہیں جب تک وُہ قبضہ مرتہن میں رہے۔“ (فتاویٰ رضویہ ،10/134)

بہارِ شریعت میں ہے:”شے مرہُون کی زکاۃ نہ مرتہن پر ہے، نہ راہن پر، مرتہن تو مالک ہی نہیں اور راہن کی ملک تام نہیں کہ اس کے قبضہ میں نہیں اور بعد رہن چھڑانے کے بھی ان برسوں کی زکاۃ واجب نہیں۔“(بہارشریعت،1/877)

وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(3)99 روپے والی چیز کے 100 روپے وصول  کرنا کیسا؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس  مسئلہ کے بارے میں کہ ہم بہت سی چیزوں کی قیمت 99 یا 999 یا اسی انداز سے رکھتے ہیں اور خریدار ہمیں 99 کی بجائے 100 اور 999 کی بجائے  1000 دے دیتا ہے۔  کیا اضافی پیسے ہم واپس کریں گے یا راؤنڈ فیگر میں رقم کاٹنے کی ہمیں اجازت ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: عام طور سے 99 کا فیگر  اس مقصد کے لئے لکھا جاتا ہے کہ ایک روپیہ کم کر کے یا تھوڑی رقم  کم کر کے  اگلے بڑے فیگر کی طرف گاہک کا ذہن جانے سے روکا جا سکے مثلاً 999 لکھا ہے تو گاہک  کا ذہن یہ ہوگا کہ  یہ چیز ہزار سے کم کی ہے یہ دھوکہ تو نہیں ہے ایک قسم کی مارکیٹنگ پریکٹس ہے جس کو اپنانے  میں حرج نہیں۔ البتہ  جس نے 99 یا 999 لکھے ہیں وہ کھلے  پیسے  رکھنے کا اہتمام بھی کرے یہ اس کے لئے ضروری ہے کیونکہ جب اس  نے خود قیمت 99 یا 999 روپےبیان کی ہے تو سودا ہوجانے کی صورت میں بیچنے والا بیان کردہ قیمت ہی خریدار سے وصول کرنے کا حقدار ہے۔ خریدار اگر طے شدہ قیمت سے زیادہ پیسے دے تو زیادہ دیے جانے والے پیسےبیچنے والے کے لیے اس وقت حلال ہوں گےجب خریدار کی واقعی رضا مندی پائی جائے۔

اگر خریدار طے شدہ قیمت سے زیادہ رقم دینے پر راضی نہ ہو یا زیادہ دی جانے والی رقم کا مطالبہ کرتا ہے تو اب خریدار کی اجازت یا رضامندی کے بغیرطے شدہ قیمت سے زیادہ پیسے کاٹنا بیچنے والے کےلیےحلال نہیں ہے  اس پر یہی لازم ہے کہ یہ رقم خریدار کو واپس کرے۔

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”جتنے میں چیز خریدی، بائع کو اس سے کچھ زیادہ دیا تو جب تک یہ نہ کہہ دے کہ یہ زیادتی تمہارے لیے حلال ہے یا یہ کہ میں نے تمہیں مالک کردیا، اس زیادتی کو لینا جائز نہیں۔“ (بہارِ شریعت،3/480)

وَاللہ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* محقق اہل سنت، دارالافتاء اہل سنت نورالعرفان، کھارادر کراچی


Share