اپنے بچوں کو شکر گزار بنائیے


اپنے بچوں کو شکر گزار بنائیے

شُکر گُزاری مسلمان کا نہایت اَہم اور بنیادی وَصف ہے۔ یہ وہ خوبی ہے جو انسان کے دل میں اطمینان، سکون اور خوشی پیدا کرتی ہے۔ شکر گُزار انسان ہمیشہ مثبت سوچ رکھتا ہے اور حسد، حرص اور مایوسی سے محفوظ رہتا ہے۔ اسی لیے والدین کی یہ اَہم ذمّہ داری ہے کہ وہ اپنے بچّوں کو بچپن ہی سے شکر گُزاری کی عادت سکھائیں تاکہ وہ معاشرے کا بہترین فرد  بن سکیں۔ بچّوں کو شکر گزاری کا عادی بنانے کے لیے شکر گزاری کی اہمیّت اور فوائد بتائیے۔

شکرگزاری کی اہمیّت  و فوائد

قراٰنِ کریم میں شکر گُزاری کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ پاک  فرماتا ہے:

لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ(۷)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گا اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے۔ ([1])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر گزاری نعمتوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

یہ آیت بچّوں کے ذہن میں یہ بات بٹھانے کے لیے انتہائی اہم ہے کہ شکرگُزاری نعمتوں میں اضافے کا سبب ہے اور ناشکری رب کو انتہائی ناپسند ہے۔

بچّوں کو شکر گزار بنانے کے طریقے

*اپنی اولاد کو شکر گزاری کا عادی بنانے کے لیے ان کا ذہن بنائیے کہ جب بھی کوئی نِعمت ملے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہيے۔ حضرت سیِّدُنا ابوبکرہ  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حضور نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کوکوئی خوشی حاصل ہوتی تو آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سجدۂ شکر اَدا کرتے۔([2])

*بچّوں کو سکھائیں کہ جب کچھ کھائیں یا پئیں تو اللہ پاک کا شکر اَدا کریں اس سے اللہ پاک خوش ہوتا ہے۔ صحابیِ رسول حضرت انس  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ نبیِ پاک  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ بندہ ہرنوالے اور ہر گھونٹ پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔([3])

*ایسے چھوٹے بچّے جن کو والدین اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتے ہیں ان کو شکر کی عادت ڈالنے کے لیے ایک لقمہ کھلانے کے بعد ”اَلحمدُللہ“ کہنے کی ترغیب دیں،  جب وہ یہ کہہ لے تو دوسرا نوالہ کھلائیں۔ان شآء اللہ کچھ ہی دنوں میں بچّہ ہرلقمے پرشکر  کرنے  کا عادی بن جائے گا ۔

*جب بچّےکھانا کھا چکیں تو انہیں ”الحمد للہ“ اور ”دُعا“ پڑھنے کی ترغیب دیں۔حضرت سیِّدُنا ابو ایوب انصاری  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  جب کھاناتناول فرما لیتے تویہ دُعا پڑھتے تھے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ ترجمہ: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جس نے ہمیں کھلایا،پلایا اورہمیں مسلمان بنایا۔([4])

*بچّے اپنے آس پاس رہنے والے مختلف لوگوں کی خوشنما زندَگیوں کو دیکھ کر ان سے اپنا موازنہ کرنے لگتے ہیں جس سے ان کو اپنی زندگی میں موجود نعمتیں کم تر لگنے لگتی ہیں  یہ چیز آگے چل کر حسد، مایوسی اور ڈپریشن کے ساتھ ساتھ ناشکری کا باعث بنتی ہے۔والدین کو چاہیے کہ بچوں کو سمجھائیں نعمتوں کا موازنہ کرتے وقت اپنے سے کم نعمتوں والے کو دیکھیں۔ حدیثِ پاک میں ہے: حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں: نبیِ پاک  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا:جب تم میں سے کوئی اللہ پاک کی نعمتوں کی قدرجاننا چاہے تو اپنے سے کم نعمت والوں کو دیکھے، زیادہ والوں کو نہ دیکھے۔([5])

*بچّوں کا ذہن بنائیں کہ ہر رات سونے سے پہلے اللہ کی نعمتوں کو یاد کرکے اللہ کا شکر اَدا کریں۔

*بچّوں کو نعمتوں کی پہچان کرائیں۔بچّوں کو روزانہ یہ احساس دلائیں کہ ان کے پاس جو صحّت، گھر، والدین، تعلیم اور اَمن کی نعمتیں ہیں، وہ کتنی قیمتی ہیں۔انہیں یہ بتائیں کہ دنیا میں بہت سے لوگ ان نعمتوں سے محروم ہیں۔

*شکر گزاری کا عادی بنانے کے لیے یہ بھی اَہم ہے کہ بچّوں کو ناشکری کے نقصانات بتائیں۔

 ناشکری کے نقصاناتs

ناشکری انسان کے اندر حسد پیدا کرتی ہے اور حسد نیکیوں کو ختم کر دیتا ہے۔نبیِ کریم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔([6])

اسی طرح ناشکری اللہ کی نعمتوں کو زائل کر دیتی ہے اور انسان کو ہمیشہ مایوسی اور بے اطمینانی میں مبتلا رکھتی ہے جبکہ شکر سے نعمت محفوظ ہوجاتی ہے۔حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: اللہ پاک کی نعمتوں کو شکر کے ذریعے محفوظ کرلو۔([7])

حضرت سیِّدُنا امام حَسَن بصری  رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایاکہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جب اللہ پاک کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر کا مطالبہ فرماتا ہے۔اگر وہ اس کا شکر کریں تو  اللہ  انہیں زیادہ دینے پر قادر ہے اور اگر ناشکری کریں تو انہیں عذاب دینے پر بھی قادر ہے۔وہ اپنی نعمت کو ان پر عذاب سے بدل دیتاہے۔([8])

اے اللہ !ہمیں اور ہمارے بچوں کو شکر کا عادی  بنادے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])پ13،ابراہیم: 7

([2])ابن ماجہ، 2/163،حدیث :1394

([3])مسلم،ص1122،حدیث:6932

([4])ترمذی،5/284،حدیث:3468

([5])الزھد لابن مبارک، ص502،حدیث :1433

([6])ابن ماجہ،4/361،حدیث:4903

([7])حلیۃ الاولیاء5/374،رقم:323

([8])شعب الایمان،4/127،حدیث :4536


Share