نزولِ قراٰن کے مقاصد اور حکمتیں (قسط:01)


نزولِ قراٰن کے مقاصد اور حکمتیں(قسط:01)

قراٰنِ کریم اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب ہے جو رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  پر نازل کی گئی۔ یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات، ہدایت کا سرچشمہ اور رحمت کا پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قراٰنِ پاک میں متعدد مقامات پر اس کتابِ عظیم کے نزول کی حکمتوں، مقاصد اور اسباب کو بیان فرمایا ہے۔ کہیں ”نزّل“ اور ”اَنزل“ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں تو کہیں ”آتینا“ اور دیگر الفاظِ عطا کے ساتھ یہ مقاصد واضح کیے گئے ہیں۔ یہ مقاصد اتنے جامع اور ہمہ گیر ہیں کہ انسانی زندگی کے ہر پہلو کو محیط ہیں۔ ذیل میں ہم قر اٰنِ کریم کی روشنی میں ان مقاصد اور حکمتوں کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہیں:

ہدایت اور راہِ راست کی طرف رہنمائی

نزولِ قراٰن کا سب سے بنیادی اور اہم مقصد قراٰنِ کریم میں  یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرۃ میں فرمایا:

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ﶈ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۲)

ترجَمۂ کنزُالایمان: وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو۔ ([1])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اسی طرح سورۃ البقرۃ  میں ماہِ رمضان کے تذکرے کے ساتھ فرمایا:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِۚ

ترجَمۂ کنزُالایمان: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں۔([2])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

مزید سورۂ یونس میں ارشاد ہے:

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۵۷)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے۔([3])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ آیاتِ کریمہ واضح کرتی ہیں کہ قراٰن کا بنیادی مقصد انسانیت کو گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لانا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے سچائی کا طالب ہے لیکن شیطانی وساوس، نفسانی خواہشات اور ماحول کے منفی اثرات اسے راہِ راست سے بھٹکا دیتے ہیں۔ قراٰن وہ نورِ ہدایت ہے جو ہر دور میں، ہر معاشرے میں اور ہر فرد کے لیے راہِ نجات متعین کرتا ہے۔ قراٰنِ کریم انسان کو اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ معاشرے میں جب لوگ قراٰن کی ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں تو انتشار، بے راہ روی اور اخلاقی زوال جنم لیتا ہے، لیکن جب قراٰن کی تعلیمات پر عمل ہوتا ہے تو معاشرہ امن، سکون اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوجاتا ہے۔

حق و باطل میں فرق اور فیصلہ

نزولِ قراٰن کا ایک اہم مقصد قراٰنِ کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب حق اور باطل میں فرق کرنے والی اور فیصلہ کن ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفرقان میں فرمایا:

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرً اۙ (۱)

ترجَمۂ کنزُالایمان: بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اُتارا قرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کو ڈر سُنانے والا ہو۔([4])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

قراٰنِ کریم کو ”الفرقان“ کا نام اس لیے دیا گیا کہ یہ ہر معاملے میں حق اور باطل کے درمیان واضح خط کھینچتا ہے۔ یہ صرف عقائد میں ہی نہیں بلکہ اخلاقیات، معاشرتی معاملات، معاشی نظام، سیاسی امور اور زندگی کے ہر شعبے میں صحیح اور غلط کا معیار متعین کرتا ہے۔ آج کی دنیا میں جہاں نسبیت پسندی (Relativism) کا غلبہ ہے، وہاں قراٰن واضح اور قطعی معیارات فراہم کرتا ہے۔ یہ انسان کو تاریکی میں بھٹکنے سے بچاتا ہے اور اسے یقین کی راہ دکھاتا ہے۔ قراٰن کی تعلیمات پر عمل کرکے معاشرہ ایک واضح اخلاقی ڈھانچے کا حامل بن جاتا ہے۔

مومنوں کے لیے بشارت اور خوشخبری

نزولِ قراٰن کا ایک مقصد قراٰنِ کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب ایمان لانے والوں کے لیے بشارت اور خوشخبری ہے۔

سورۂ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ(۹)

ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے اور خوشی سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے کام کریں کہ ان کے لیے بڑا ثواب ہے۔([5])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۃ النحل میں بھی اسی مضمون کو بیان کیا گیا:

وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠(۸۹)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو۔([6])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ آیات بتاتی ہیں کہ قراٰن صرف   ڈر سنانے کے لیے نہیں بلکہ ایمان والوں کو امید دلانے اور ان کے دلوں میں اطمینان پیدا کرنے کے لیے بھی نازل ہوا۔ مومن جب قراٰن کی تلاوت کرتا ہے اور اس کے احکام پر عمل کرتا ہے تو اسے اللہ کی رضا، جنت کی نعمتوں اور ابدی کامیابی کی خوشخبری ملتی ہے۔ یہ بشارتیں انسان کے دل میں امید اور عزم پیدا کرتی ہیں۔ دنیا کی مشکلات اور آزمائشوں میں جب انسان تھک جاتا ہے تو قراٰن کی یہ خوشخبریاں اسے تازہ دم کرتی ہیں۔ معاشرے میں جب مایوسی اور نا امیدی پھیلتی ہے تو قراٰن کی یہ بشارتیں مومنوں کو مثبت سوچ اور عمل کی طرف راغب کرتی ہیں۔

کافروں کے لیے انتباہ اور تنبیہ

نزولِ قراٰن کا ایک مقصد قراٰنِ کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب منکرین اور کافروں کو خبردار کرنے اور انہیں عذاب سے ڈرانے کے لیے نازل کی گئی۔

سورۂ طٰہٰ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ(۲) اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ(۳)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اے محبوب ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اُتارا کہ تم مشقت میں پڑوہاں اس کو نصیحت جو ڈر رکھتا ہو۔([7])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۃ حٰمٓ السجدۃ میں فرمایا:

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ(۱۳)

ترجَمۂ کنزُالایمان: پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرماؤ کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں ایک کڑک سے جیسی کڑک عاد اور ثمود پر آئی تھی۔([8])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۃ الفرقان میں بھی یہ مضمون ہے:

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَ ﰳاۙ (۱)

ترجَمۂ کنزُالایمان: بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اُتارا قرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کو ڈر سُنانے والا ہو۔([9])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

قراٰن کا یہ انذاری پہلو انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ انسان کو اس کے انجام سے آگاہ کرتا ہے۔ جو لوگ اللہ کے احکام سے روگردانی کرتے ہیں، اس کی نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں اور ظلم و فساد میں مبتلا رہتے ہیں، قراٰن انہیں دنیا اور آخرت کے عذاب سے خبردار کرتا ہے۔ یہ تنبیہ رحمت ہی کا حصہ ہے کیونکہ اس سے انسان کو توبہ اور اصلاح کا موقع ملتا ہے۔ گزشتہ قوموں کے واقعات اور ان پر نازل ہونے والے عذاب کا تذکرہ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ موجودہ نسل عبرت حاصل کرے۔ معاشرے میں جب برائیاں عام ہوجاتی ہیں اور لوگ اخلاقی حدود کو پامال کرنے لگتے ہیں تو قراٰن کی یہ تنبیہات انہیں احتساب کی طرف بلاتی ہیں۔ یہ ڈرانا محض خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ انسان کو تباہی سے بچانے کی کوشش ہے۔

دلوں کی تسکین اور اطمینان

نزولِ قراٰن کا ایک مقصد قراٰنِ کریم میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب مومنوں کے دلوں کو سکون اور اطمینان فراہم کرتی ہے۔

سورۃ الرعد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِؕ-اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸)

ترجَمۂ کنزُالایمان: وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔([10])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۂ یونس میں فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۵۷)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے۔([11])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ قراٰن  دلوں کی دوا اور روحوں کی غذا ہے۔ جب انسان قراٰن کی تلاوت کرتا ہے، اس کے معانی پر غور کرتا ہے اور اس کے احکام پر عمل کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک خاص قسم کا سکون اور اطمینان پیدا ہوتا ہے جو دنیا کی کسی دوسری چیز سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ آج کی دنیا میں جہاں ذہنی بیماریاں، ڈپریشن، بے چینی اور اضطراب عام ہیں، وہاں قراٰن کا یہ روحانی علاج انتہائی مؤثر ہے۔ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"اِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مَأْدُبَةُ اللَّهِ فَتَعَلَّمُوا مِنْ مَأْدُبَتِهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ "

بیشک یہ قراٰن اللہ کا دستر خوان ہے، پس اس کے دستر خوان سے جتنا سیکھ سکو سیکھو۔“([12])

معاشرے میں جب لوگ قراٰن سے تعلق مضبوط کرتے ہیں تو ان میں صبر، شکر، توکل اور رضا جیسی صفات پیدا ہوتی ہیں جو زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے میں معاون ہوتی ہیں۔(جاری ہے)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایم فل علوم اسلامیہ ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])پ1،البقرۃ:2

([2])پ2،البقرۃ:185

([3])پ11،یونس:57

([4])پ18،الفرقان:1

([5])پ15،بنیٓ اسرآءیل:9

([6])پ14،النحل:89

([7])پ16،طٰہٰ:2، 3

([8])پ24، حٰمٓ السجدۃ:13

([9])پ18،الفرقان:1

([10])پ13،الرعد:28

([11])پ11،یونس:57

([12])معجم کبیر، 9/130، رقم:8646


Share