امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی علمی جلالت و عظمت


امام اعظم ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  کی علمی جلالت و عظمت

کروڑوں حنفیوں کے عظیم پیشوا، فقیہِ افخم، مجتہدِ مطلق حضرت امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت  رحمۃ اللہ علیہ  کی ذاتِ گرامی دنیائے علم و فضل میں غیر معمولی مقام رکھتی ہے۔ آپ 80ھ میں عراق کے مشہور شہر کوفہ میں پیدا ہوئے اور 70 سال کی عمر مبارَک میں 2شعبانُ المعظم150ھ کو وصال فرمایا۔([1]) آپ کی ولادت ایسے مبارَک دَور میں ہوئی جب کوفہ علم و عرفان کا عظیم مرکز تھا اور ستّر اصحابِ بدر اور بیعتِ رضوان میں شریک تین سو صحابۂ کرام نے اس شہر کو شرفِ قیام بخشا تھا۔([2]) اسی اہمیّت کے پیش نظر اسے کنزُ الایمان (ایمان کا خزانہ) اور قبۃُ الاسلام (اسلام کی نشانی) جیسے عظیمُ الشّان القابات سے نوازا گیا۔([3])

آپ کی شخصیت محدّث و فقیہ، علم و عمل کے جامع، زُہد و تقویٰ کے پیکر، امانت و دیانت میں بے مثال، حسنِ اخلاق و حسنِ سلوک میں بےنظیر، زبردست ہمدرد و خیرخواہ اور انتہا درجے کی ذہانت و عقل مندی جیسے کئی اوصاف کی حامل تھی۔

امامِ اعظم ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  کی ذاتِ گرامی علم و عمل، تقویٰ و طہارت، حلم و بُردباری، سخاوت و فیاضی، ذہانت و فراست، اور تمام اخلاقی کمالات کا بحرِ بیکراں تھی۔ آپ کی زندَگی کا ہر پہلو اُمتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ نے علمِ دین کو منظّم کیا، فقہ کو مدوّن فرمایا، اجتہاد کے اُصول وَضع کیے اور قِیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے راہنمائی کا ایک عظیم سرمایہ چھوڑا۔ امام ابنِ حجر عسقلانی شافعی  رحمۃ اللہ علیہ  (وفات: 852ھ) فرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ کے فضائل بہت زیادہ ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور جنتُ الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔([4])

اللہ پاک نے آپ کو بے پناہ فراست و ذَکاوت سے نوازا تھا، بلاشبہ آپ علمِ نبوّت کے وارث تھے۔

علمی جلالت اور کثرتِ اساتذہ و تلامذہ

آپ نے ابتدا میں قراٰنِ پاک حفظ کیا پھر علما و محدّثینِ کِرام سے علم حاصل کرتے کرتے ایسے جلیلُ القدر فقیہ و محدِّث بن گئے کہ ہر طرف آپ  رحمۃ اللہ علیہ  کے چرچے ہو گئے۔ آپ کا علمی مقام اس قدر بلند ہے کہ آپ نے بلاواسطہ صحابۂ کرام علیہم الرضوان سے بھی علم پایا اور صحابہ کرام سے علم کے خزانے پانے والے کثیر کِبار تابعین سے بھی اکتسابِ فیض کیا۔

عظیم محدّث و فقیہ حضرت خلف بن ایوب  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: اللہ ربُّ العزّت کی بارگاہ سے ”علم“ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  تک پہنچا، حضور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے صحابہ کو ملا، صحابۂ کرام سے تابعین کو اور تابعین سے علم امامِ اعظم ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  کو ملا، پس جو چاہے (اللہ کی اس تقسیم پر) راضی رہے اور جو چاہے بگڑتا پھرے۔([5]) امامِ اعظم ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  کے اساتذہ و تلامذہ کی تعداد دیگر ائمّہ سے کئی گُنا زیادہ ہے۔آپ نے 4000 سے زائد علما و محدّثینِ کرام  رحمۃ اللہ علیہم سے علمِ دین حاصل کیا جبکہ آپ کے تلامذہ آٹھ سو کے آس پاس ہیں۔([6]) سارے محدّثین و فقہاء بِالواسطہ یا بِلاواسطہ امامِ اعظم کے شاگرد ہیں۔([7])

حضرت یزید بن ہارون  رحمۃ اللہ علیہ  خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں: میں نے ایک ہزار اساتذہ سے پڑھا اور علم حاصل کیا مگر امامِ اعظم ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  کو ان سب سے زیادہ متّقی، ان سب سے زیادہ مضبوط حافظے والا اور ان سب سے زیادہ عقل مند و ذہین پایا۔([8])

حضرت علی بن عاصم  رحمۃ اللہ علیہ  (وفات: 700ھ) کہتے ہیں کہ اگر امام ابو حنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  کے علم کا ان کے اہلِ زمانہ کے علم سے موازنہ کیا جائے، آپ کا علم ان کے علم پر غالب ہوگا۔([9])

فقہ کی تدوین اور انقلابی کارنامے

امامِ اعظم ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  زمانۂ صحابہ کے بعد اسلام کے سب سے پہلے مجتہدِ اعظم ہیں، سب سے پہلے علمِ فقہ کو آپ نے مرتّب کیا، آپ سے پہلے فقہ کی ابواب بندی کا اہتمام کسی نے نہیں کیا تھا، اس لیے آپ فقہ کے مدوّنِ اوّل (یعنی سب سے پہلے علمِ فقہ کو مرتب کرنے والے) قرار پائے۔ الخیرات الحسان میں ہے: امام ابوحنیفہ نے سب سے پہلے علمِ فقہ مدوّن کیا اور اسے ابواب اور کتب کی ترتیب پر مرتّب کیا۔ امام مالک نے اپنی کتاب موطأ میں امامِ اعظم کی اسی ترتیب کا لحاظ رکھا ہے۔([10])

مؤطّا میں امام مالک  رحمۃ اللہ علیہ  نے آپ کے طرز کی پیروی کی اور فقہ کے ابواب پر اپنی مؤطّا کو مرتب کیا۔ آپ نے مسلمانوں کو پیش آمدہ اور ممکنہ مسائل کے حل کے لیے ایک مجلس قائم فرمائی جس کے ارکان کی تعداد ایک روایت کے مطابق ایک ہزار علماء پر مشتمل تھی جن میں 40 افراد مرتبۂ اجتہاد پر فائز تھے۔([11]) آپ اپنی رائے سے کوئی بھی مسئلہ نہیں لکھواتے تھے، نہ ہی کسی کو اپنی انفرادی رائے کا پابند کرتے بلکہ خوب غور و فکر اور بحث و مباحثہ کے بعد جب آخِری رائے قائم ہوجاتی تو اسے درج کرواتے۔([12]) یہ ایک انقلابی اقدام تھا جس نے فقہی استنباط کو ایک منظّم اور اجتماعی شکل دی۔ آپ نے سب سے پہلے دلائلِ اربعہ کا تعیّن کیا اور زمانۂ تابعین میں اجتہاد و فتویٰ دینا شروع کر دیا۔([13]) آپ نے کتاب الفرائض اور کتابُ الشّروط کو وضع فرمایا۔([14]) آپ نے علمِ احکام مستنبط فرمایا اور اجتہاد کے اُصول و ضوابط کی بنیاد رکھی۔([15])

 فقاہت میں امتیازی مقام

حضرت سفیان ثوری  رحمۃ اللہ علیہ  (وفات: 161ھ) کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  اپنے زمانے میں روئے زمین کے سب سے بڑے فقیہ (یعنی علمِ فقہ جاننے والے) تھے۔([16]) حضرت حَفص بن غیاث  رحمۃ اللہ علیہ  (وفات: 191ھ) کہتے ہیں کہ فقہ کے معاملے میں امامِ اعظم ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  کا کلام، شعر سے زیادہ باریکی لیے ہوئے ہے۔ ان کی عیب جوئی کوئی نرا جاہل ہی کرسکتا ہے۔([17])امام ابونعیم اصفہانی  رحمۃ اللہ علیہ  (وفات:430ھ) کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  مسائل کی خوب تہ تک پہنچنے والے تھے۔([18]) سبھی فقہا استدلال و استنباط کی دشوار راہ میں آپ ہی کے محتاج اور نقشِ قدم پر چلنے والے ہیں۔ اس حوالے سے امام شافعی  رحمۃ اللہ علیہ  کا فرمان مشہور ہے: مَنْ اَرَادَ اَنْ يَتَبَحَّرَ فِي الْفِقْهِ فَهُوَ عِيَالٌ عَلَى اَبِي حَنِيفَةَ یعنی جو علمِ فقہ میں کمال چاہتا ہے وہ ابوحنیفہ کا محتاج ہے۔([19])

حدیث میں مہارت اور علمی خدمات

امامِ اعظم ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  کی حدیث میں مہارت اور خدمات بھی بے مثال ہیں۔ امام یحییٰ بن معین  رحمۃ اللہ علیہ  (وفات: 233ھ) فرماتے ہیں: ابوحنیفہ ثقہ تھے، وہی حدیث بیان فرماتے جو انہیں حفظ ہوتی، جو یاد نہ ہوتی اسے بیان نہ کرتے تھے۔([20]) اپنے وقت کے عظیم محدِّث امام اعمش سلیمان بن مہران رحمۃ اللہ علیہ (وفات:148 ھ) کا شمار امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ایک بار جب حضرت امام اعمش رحمۃ اللہ علیہ نے آپ سے کچھ سوالات کئے تو امامِ اعظم  رحمۃ اللہ علیہ  نے ایسے جوابات ارشاد فرمائے کہ استادِ محترم حیران رہ گئے حضرت امام اَعمش رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اس لائق شاگرد سے پوچھا:آپ نے یہ جوابات کہاں سے سیکھے اور سمجھے؟ امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: آپ نے جو ہمیں فلاں فلاں روایات بیان کی تھیں ان ہی کی بنیاد پر میں نے یہ جوابات دئیے ہیں۔ حضرت امام اَعمش رحمۃ اللہ علیہ پکار اُٹھے: آپ تو طبیب ہیں اور ہم آپ کی تجویز کردہ دواؤں کو فروخت کرنے والے (یعنی آپ حدیث سے شرعی مسائل نکالنے والے ہیں اور ہم لوگوں کو بیان کرنے والے)۔ ([21]) امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے امام ابو حنیفہ سے بڑھ کر حدیث کی شرح جاننے والا نہیں پایا۔([22])

اکابرینِ اُمّت کی توثیق و تعریف

امامِ اعظم ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  کی علمی جلالت و شان کے پیشِ نظر وقت کے جلیلُ القدر فقہا و محدثین اور اصحابِ جَرح و تعدیل نے آپ کی ثِقاہت، فَقاہت، علمی جلالت کو بیان کیا اور آپ کو منفرد و یکتا اور بے مثال قرار دیا ہے۔ حضرت سفیان ثوری  رحمۃ اللہ علیہ  کے بھائی کے انتقال پر جب امامِ اعظم ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  ان کے گھر تعزیَت کے لیے تشریف لائے تو سفیان ثوری آپ کی تعظیم میں کھڑے ہوگئے، آپ کو گلے لگایا پھر اپنی جگہ بٹھایا اور خود ان کے سامنے بیٹھ گئے۔ ایک شخص نے آپ کے اس فعل پر اعتِراض کیا تو حضرت سفیان ثوری  رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا: اس شخص کا ایک عظیم علمی مقام ہے، پس اگر میں ان کے علم کی وجہ سے نہ کھڑا ہوتا تو ان کی عمر کی وجہ سے کھڑا ہوتا، اور اگر ان کی عمر کی وجہ سے کھڑا نہ ہوتا تو ان کی فَقاہت کی تعظیم میں کھڑا ہوتا اور اگر ان کی فقاہت کے لیے نہ کھڑا ہوتا تو ان کے تقویٰ و پرہیز گاری کے باعث کھڑا ہوتا۔([23])

کسی نے امام مالک  رحمۃ اللہ علیہ  سے پوچھا کہ کیا آپ نے امام ابو حنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  کو دیکھا ہے؟ فرمایا: بالکل۔ میں نے ایسے شخص کو دیکھا ہے کہ اگر وہ تجھ سے یہ کہہ دیتے کہ اس سُتون کو سونے کا بنایا گیا ہے تو ضَرور اس پر اپنی دلیل قائم کرتے۔([24]) امام بُخاری کے استاذ شیخ مکی بن ابراہیم  رحمۃ اللہ علیہ  (وفات: 211ھ) کا قول ہے کہ امام ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  روئے زمین پر سب سے بڑے عالم تھے۔([25])امام یحییٰ بن سعید القطان  رحمۃ اللہ علیہ  (وفات: 198ھ) فرماتے ہیں: ہم خدا سے جھوٹ نہیں بولتے، ہم نے امام ابوحنیفہ کی رائے سے اچّھی کوئی رائے نہیں سنی اور ہم نے ان کے اکثر قول کو لے لیا ہے۔([26])

علم و فراست كا یہ آفتاب 70سال کی عمر میں 2شَعبانُ الْمُعظَّم 150ہجری میں غروب ہوگیا۔([27]) آپ کا مزارِ فائض الانوار آج بھی بغداد شریف میں مرجعِ خلائق ہے۔([28])

اللہ پاک ہمیں بھی امامِ اعظم  رحمۃ اللہ علیہ  کے فیضِ گوہر بار سے حصّہ عطا فرمائے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایم فل علوم اسلامیہ ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])تاریخ ِ بغداد، 13/331-نزھۃ القاری، 1/169، 219-اخبارابی حنیفۃ،ص17

([2])طبقات ابن سعد، 6/89

([3])طبقات ابن سعد، 6/86

([4])تہذيب التہذيب،8/518

([5])فتاویٰ شامی، 1/59

([6])تہذیب الاسماء، 2/501- المناقب للکردری، 1/37 تا 53- عقود الجمان، ص187- الخیرات الحسان،ص68

([7])مراٰۃ المناجیح، مقدمہ، 1/15

([8])الخیرات الحسان، ص58

([9])سير اعلام النبلاء، 6/537

([10])الخیرات الحسان، ص 43-تبییض الصحیفۃ،ص 138-مراٰۃ المناجیح، مقدمہ، 1/15

([11])جامع المسانید للخوارزمی، 1/33

([12])تاریخ بغداد، 12/308

([13])جامع المسانید للخوارزمی، 1/27

([14])ایضاً، ص34

([15])ایضاً، ص35

([16])البدایۃ والنہایۃ،7/87

([17])سير اعلام النبلاء، 6/537

([18])تہذيب التہذيب،8/517

([19])رد المحتار، مقدمہ،1/151

([20])سير اعلام النبلاء،6/532،تہذيب الكمال،7/339

([21])الثقات لابن حبان، 5/334

([22])الانتقاء فی فضائل الثلاثۃ الائمۃ،ص139

([23])تاریخ بغداد، 15/459

([24])سير اعلام النبلاء،6/534

([25])البدایۃ والنہایۃ،7/87

([26])سير اعلام النبلاء،6/537

([27])نزہۃ القاری، 1/169،219

([28])سیراعلام النبلاء، 6/537،اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ، ص94، الخیرات الحسان، ص94


Share