تربیت و اخلاق اور رسائل امیرِ اہلِ سنّت(قسط:01)
دَورِ حاضِر میں جب اسلامی اقدار کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ محمد الیاس عطّار قادری رضوی نے بیانات، انفرادی کوشش، مدنی مذاکرے اور دیگر تبلیغی اَسالیب کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کے ذریعے بھی اُمّت کی اصلاح اور تربیَت کا کام انجام دیا ہے۔ آپ کی تصنیفات کی خصوصیّت یہ ہے کہ ا ن میں عملی زندَگی کے مسائل، روزمرّہ کے آداب، سنّتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ترغیب اور اخلاقی تربیَت کے موضوعات شامل ہوتے ہیں۔ آپ کی ہر کتاب قرآنی آیات، احادیثِ نبویہ، اقوالِ بُزرگان، شرعی احکام اور عملی نمونوں کا خزانہ ہے۔ آپ نے اصلاح و تربیَت کے ہر موضوع کو آسان اور قابلِ فہم زبان میں لکھا ہے تاکہ عام مسلمان اپنی روزمرّہ زندگی میں اسلامی طریقوں کو آسانی سے اپنا سکیں اور سنّتِ رسول کی پیروی میں دنیا و آخِرت کی کامیابی حاصل کر سکیں۔ آئیے ذیل میں ان تصانیف میں شامل چند اہم رسائل کا تعارفی جائزہ ملاحظہ کیجیے:
550سنتیں اور آداب(صفحات:100)
حضور نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا طریقہ اور بُزرگانِ دین کی سیرت دنیا وآخِرت میں سلامتی وکامیابی کی ضمانت ہے۔سنّتوں پر چلنے والے اور اسلاف کی سیرت کو اپنانے والے کی زندگی خوشگوار و پُرسکون بن جاتی ہے۔اس کتاب میں 6قرآنی آیات، 108نبوی ارشادات، 219شرعی وفقہی احکام، 31اقوالِ بُزرگانِ دین، 42 وَظائف، 216مدنی پھول، 9طبّی مدنی پھول اور 14 واقِعات وحِکایات کی روشنی میں30 عنوانات کے تحت 550 سنتیں اور آداب بیان ہوئے ہیں اور یہ 86کتابوں سے ماخوذ ہیں ۔اس کا مطالعہ نہ صرف سنّتوں اور آداب کے علم کا ذریعہ بنے گا بلکہ اس سے اِن شآءَ اللہ عمل کا جذبہ بھی بیدار ہوگا۔ کتاب کے شروع اور آخر میں مبلغین کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنے بیانات کے آخر میں اس کتاب سے کچھ نہ کچھ سنتیں اور آداب ضَرور بیان کریں۔
احترامِ مسلم(صفحات:35)
اسلام نے ایک مسلمان کو بڑی عزت وعظمت سے نوازا ہے،اس کا احترام لازم کیا اور اَذیّت وتکلیف دینے کی ممانعت فرمائی ہے۔ 4 قرآنی آیات، 35 نبوی اِرشادات، 15شرعی وفقہی اَحکام اور2 واقِعات پر مشتمل اس رسالے میں بڑے بھائی اور دیگررشتے داروں کے احترام، اُن سے صلۂ رحمی کا حکم اور قطعِ رحمی کی ممانعت، ناراض رشتے داروں سے صلح، یتیم سے حُسنِ سلوک، شوہر اوربیوی کے باہمی احترام وحقوق، پڑوسیوں اور ماتحتوں کے ساتھ اچّھے تعلّق اوردیگر مسلمانوں کے احترام کا درس دیا گیا ہے۔نیز اخلاقِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی 55جھلکیاں اور صلہ ٔرحمی کے 13مدنی پھول بھی رسالے کا حصّہ ہیں۔
زخمی سانپ(صفحات:20)
خواتین کے لیے پردے کی اہمیّت تسلیم شدہ ہے،پردہ عورت کو تحفّظ فراہم کرتا اور اُس کی عزّت میں اضافے کا باعث ہے۔اس رسالے میں3آیاتِ مبارَکہ، 6احادیْثِ طیبہ،31اقوال و شرعی احکام اور6 حکایات تحریر ہیں جن میں پردے کی ضَرورت،پردہ نہ کرنے پر محارم کی اسلامی غیرت،بےپردگی کی سزائیں،بےپردگی کرنے والی بعض عورتوں کے عبرتناک انجام اور عذابِ قبر کی حکایات کا بیان ہے اور آخِر میں مردکے عورت کا جسم چھونے کی جوازی صورت اور عورت کے اپنے مَحرموں اور نامحرموں سے پردے کی تفصیلات وغیرہ پر مشتمل 31مدنی پھولوں کا گلدستہ موجود ہے۔
باحَیانوجوان(صفحات:64)
شرم وحَیا انسان کی شرافت و بُزرگی کی دلیل ہے،حیامؤمن کا زیور اور ساری کی ساری خیر ہے۔ یہ رسالہ حیا کی تعریف ومفہوم،اس کی اقسام،اس کے شرعی احکام،فطری وشرعی حَیا کی تفصیل،حیا کے فضائل وفوائد،اس کی برکات،حیا والوں کی حکایات،بیٹیوں کی شرم وحیا سے بھرپور تربیت،دورِحاضر میں بےحیائی وبے غیرتی کی مثالوں، دَیُّوث کی تعریف،عورتوں کی اصلاح کے طریقے، مختلف اعضائے انسانی جیسے زبان،آنکھوں اور کانوں کی حیا اور لباس وحیا کی تفصیلات پر مشتمل ہے۔ الغرض 4آیاتِ مبارَکہ، 31 احادیْثِ طیبہ،15اقوال، 20 شرعی احکام اور 6واقعات پرمشتمل اس رسالے میں شرم وحیا اپنانے کی زبردست ترغیب دلائی گئی ہے۔
میٹھے بول(صفحات:48)
زبان کا درست استعمال جنّت میں اور غَلَط استعمال جہنم میں پہنچا سکتا ہے،زبان کے میٹھے بول کسی کی اصلاح کا سبب ہوسکتے ہیں اور اس کے اچّھے استعمال سے خوب نیکیاں جمع کی جاسکتی ہیں۔یہ رسالہ امیرِاہلِ سنّت مُدَّ ظِلُّہُ العالی کے ایک بیان کا تحریری گلدستہ ہے جس میں 20 احادیْثِ مبارَکہ، 29 فرامین، 27 مسائل واحکام اور 8 حکایات کی روشنی میں ذِکرواَذکاراور اچّھی باتیں کرنے کے فضائل،غلط وناجائز باتوں کی مذمّت اور فضول گفتگو کے نقصانات، ذِکْرُاللہ اور بِسْمِ اللہ شریف کے بعض شرعی احکام،حاجت روائی اور عیادت کا ثواب اوراپنی گفتگو کاجائزہ درج ہے اورآخر میں مختلف مواقع پر بولے جانے والے فضول اور جھوٹ پر اُبھارنے والے جملوں کی 70 مثالیں اور گھرمیں آنے جانے کے12 مدنی پھول شامل ہیں۔
کھانے کا اسلامی طریقہ(صفحات:32)
کھانا ہرجاندار کی ضَرورت ہے،کھانا انسان بھی کھاتاہے اور حیوان بھی،کافر اور مسلمان بھی مگر اسلام کا تقاضا ہے کہ ایک مسلمان کا طریقہ سب سے مہذّب ہونا چاہیے۔ 2قرآنی آیات،11نبوی ارشادات، 36 شرعی وفقہی احکام،10اقوالِ بزرگانِ دین اورایک واقعہ،19 وظائف واوراد، 59 مدنی پھولوں اور 16 طبّی مدنی پھولوں پر مشتمل اس رسالے میں کھانا کھانے کے 91 شرعی مسائل، سنتیں اور آداب بیان ہوئے ہیں مثلاً کھانے کی نیّت،کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا، دعاپڑھنا،روٹی کا اَدب،بیٹھ کر کھانا،کھانے کو عیب لگانے کی ممانعت، کھانے میں ایثار ، کھاتے وقت اچّھی باتیں،کھانے میں پھونکنے کی ممانعت،برتن کی صفائی،کھانے کے بعد کی دُعائیں اور حرام چیزوں وغیرہ کا بیان ہے ۔

Comments