کرنسی نوٹ کے مسائل

دنیا میں آئے دن تبدیلیاں آتی رہتی ہیں اور انسان کے حالات بدلتے رہتے ہیں لہذا انسانی ضرورتیں اور تقاضے بھی بدل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی کا سفر نت نئے دنیوی اور دینی مسائل کو بھی جنم دیتا ہے، آج سے کئی سو سال پہلے چین میں کرنسی نوٹ ایجاد ہوئے، پھرجاپان، اس کے بعد یورپی ممالک اور بالآخر بڑھتے بڑھتے اسلامی ملکوں اور مسلمانوں تک پہنچے اور درہم و دینار کی جگہ لینے لگے اور ایک وقت آیا کہ سکے کم و محدود ہوگئے اور نوٹوں کا دور دورہ ہوگیا۔

نوٹ کی آمد کے ساتھ ہی بہت سے شرعی مسائل درپیش ہوئے کہ نوٹ مال ہے یا محض رسید؟ اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں؟ کیا اِسے حق مہر میں دینا درست ہے؟ کیا اس کے محفوظ جگہ سے چوری ہونے پر شرعی سزا دی جائے گی؟ کوئی اسے ضائع کردے تو عوض میں نوٹ ہی دینا ہوگا یا چاندی کے روپے بھی دیئے جاسکتے ہیں؟ کیا نوٹ کو چاندی کے روپوں یا سونے کی اشرفیوں سے بیچنا جائز ہے؟ کیا اِسے بطور قرض دے سکتے ہیں؟ کیا اسے مقررہ مدت کے لئے چاندی کے روپوں سےادھار بیچنا جائز ہے؟ اورکیا نوٹ کو اپنی مالیت سے کم یا زیادہ قیمت پر فروخت کرنا جائز ہے؟ وغیرہ وغیرہ

فقیہ اعظم امام احمد رضا خان حنفی علیہ رحمۃ اللہ القَوی 1323 ہجری میں جب حج کی سعادت پانے حرم پاک حاضرہوئے تو یہ سوالات آپ کے منتظر تھے، اُس وقت نوٹ وہاں ایک نئی چیز تھی، فقہائے حرمین شریفین اس کے احکام کے بارے میں حیران وپریشان تھے۔ حنفی امام شیخ عبداللہ میرداد بن احمد ابوالخیر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اعلیٰ حضرت کی خدمت میں نوٹ کے متعلق 12سوالات پیش کئے، آپ نے ایک دن اور کچھ گھنٹوں میں ان کے جوابات لکھے اورکتاب کا نام ”کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاہِم فِی اَحْکَامِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِم“ تجویز فرمایا، علمائے مکۂ مکرمہ زاد ہَااللہ شرفاً وَّ تعظیماً جیسے شیخ الائمہ احمد بن ابوالخیر، مفتی و قاضی صالح کمال، حافظ کتب حرم سید اسماعیل خلیل، مفتی عبداللہ صدیق اور شیخ جمال بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم نے کتاب دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا اور خوب سراہا۔ یہ کتاب مختلف اشاعتی اداروں نے متعدد بار شائع کی حتی کہ 2005ء میں بیروت لبنان سے بھی طبع ہوئی، اس وقت یہ کتاب کراچی یونیورسٹی کے ایم اے کے نصاب میں بھی شامل ہے۔ مجلس المدینۃ العلمیہ کے ”شعبہ کتبِ اعلیٰ حضرت“ نے بھی اِسے آسان ترجمہ وتسہیل کے ساتھ جدیداسلوب اور نئے تقاضوں کے مطابق شائع کیا اور اس کا نام ”کرنسی نوٹ کے مسائل“ رکھا جو دیگر اشاعتوں سے کئی لحاظ سے ممتاز ہے، بالخصوص پانچ شاندار کام کئے گئے ہیں: (1)کتاب میں موجود تمام فقہی اصطلاحات مع تعریفات یکجا کردی گئی ہیں (2)نوٹ کی فقہی ”حیثیت“ کو بیان کرتا شاندارتحقیقی مقدمہ (3)ابتدا میں تمام سوالات اور جوابات کا خلاصہ (4)عربی الفاظ اور فقہی اصطلاحات کا بریکٹس میں انگلش ترجمہ اور (5)حوالہ جات کی مقدور بھر تخریج کا اہتمام کیا گیا ہے۔

مفتیانِ عظام، علمائے کِرام، فقہی مزاج اور شوق رکھنے والے طلبہ اور جدید مسائل سے شغف رکھنے والوں کے لئے عظیمُ الشان تحفہ ہے، خود بھی پڑھئے اور دوسروں کو بھی مطالعہ کی ترغیب دلائیے، بالخصوص مفتیانِ اسلام اور علمائے کرام کی خدمتوں میں بطور تحفہ پیش کیجئے۔ یہ کتاب دعوت اسلامی کی ویب سائٹ www.dawateislami.net سے ڈاؤن لوڈ اور پرنٹ آؤٹ بھی کی جاسکتی ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…شعبہ تراجم ،المدینۃالعلمیہ ،باب المدینہ کراچی

Share

Comments


Security Code