مرکزی مجلسِ شوریٰ

نَحْمَدُہ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْم

سگِ مدینہ محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی عُفِیَ عَنْہُ کی جانب سے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اراکین، ذمّہ دارانِ دعوتِ اسلامی!

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہ

اَلْحَمْدُللّٰہ 1439سنِ ہجری میں اللّٰہ کریم نے مجھے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران حاجی محمد عمران اور دیگر اسلامی بھائیوں کے ساتھ حج کی سعادت اور مدینے پاک کی حاضری کا شرف عطا فرمایا۔

میرے میٹھے میٹھے مدنی بیٹو اور مدنی بیٹیو!جو مدنی کاموں کی دھومیں مچاتے ہیں، میں اپنے اندر اُن کے لئے بہت اچھے جذبات پاتا ہوں، یااللّٰہ!جو مدنی بیٹے12مَدَنی کاموں اور مَدَنی بیٹیاں 8مدنی کاموں کے لئے کوشاں رہتے ہیں، مدنی انعامات کے مطابق زندگی گزارنے کی کوششیں کرتے ہیں ان سب کو بے حساب مغفرت سے مشرَّف فرمادے اور اے اللّٰہ!ان کو بار بار حج کی سعادت نصیب کردے، اِلٰہَ الْعَالَمِین!دعوتِ اسلامی کے اس باغ کو پھلتا پھولتا مدینے کے سدا بہار پھولوں کے صدقے سدا بہار کردے اور یہ دعوتِ اسلامی جب تک مسلمان باقی رہیں مدنی کاموں کی دھوم مچاتی رہے۔ مدینۂ منوَّرہ زاد ہَااللہ شرفاً وَّ تعظیماًسے اب رخصت کی گھڑیاں آ رہی ہیں، اللّٰہ پاک ہم سب کو بار بار حج نصیب کرے، بار بار میٹھا میٹھا مدینہ دکھائے آپ سب کو اور مجھے بے حساب بخشے، اللّٰہ کریم میرے اور تمام حاجیوں کے حج کو مبرور فرمائے، مدینۂ پاک کی حاضری کو مقبول فرمائے، اٰمین۔ مہربانی کرکے دعوتِ اسلامی کا خوب مدنی کام کرتے رہیں، مَدَنی انعامات کے مطابق زندگی گزاریں، اِنْ شَآءَ اللہ نیک متقی پرہیزگار بنیں گے۔

جامعاتُ المدینہ للبنین، مدارسُ المدینہ للبنین کے اَساتِذۂ کرام، طلبائے کرام، ناظمین، جامعاتُ المدینہ للبنات، مدارسُ المدینہ للبنات کی مُدَرِّسات، ناظِمات، طالِبات، دارُالافتاء اہلِ سنّت کے مفتیانِ کرام اور تمام مجالس کے جو بھی ذمہ داران ہیں، وابستگان ہیں، اللّٰہ پاک سب پر رحمت کا نزول فرمائے،آپ سب دعوتِ اسلامی کو لے کر چلتے رہیں اور آگے سے آگے بڑھاتے رہیں، دین کی خدمتوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، جن جن سے بَن پڑے مدنی مذاکرہ ضَرور سُنا کریں۔

ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی پابندی بہت ضَروری ہے کہ یہ دعوتِ اسلامی کے اوَّلین کاموں میں سے ہے بلکہ اسے سب سے پہلا مدنی کام کہا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، یوں سمجھئے کہ ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کے ذریعے ہی دنیا بھر میں مدنی کام آہستہ آہستہ عام ہوا۔ مدنی قافلہ تو ظاہر ہے مدنی کاموں کی ریڑھ کی ہڈی ہے،ا س کے بغیر بھی گزارا نہیں لہٰذا سب مدنی قافلوں میں سفر کرتے رہیں اور دعائے عطّارؔ کے حق دار بنتے رہیں۔ جو جتنا مدنی کام زیادہ کرتا ہے بس یوں سمجھو کہ میری اس کے ساتھ محبت زیادہ ہے، مدنی کام میں گویاہماری حیات ہے ورنہ سمجھو کہ ہماری موت ہے، اگر ہم مدنی کام چھوڑ کر اَربوں کھربوں پتی بن جائیں تو ہماری زندگی بالکل بے کار ہے جب کہ دین کی خدمت اس میں شامل نہ رہے، اللّٰہ کریم آخری سانس تک ہم سے دین کی خدمت لیتا رہے، اللّٰہ پاک آپ سب کو جنّتُ الْفِردَوس میں اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا پڑوس نصیب فرمائے ،یہ ساری دعائیں آپ سب کے صدقے مجھ گنہگاروں کے سردار اور میری آل کے حق میں بھی قبول کرے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمِ

میں وصیت کرتا ہوں کہ دعوتِ اسلامی کی’’ مرکزی مجلسِ شوریٰ‘‘ جب تک شریعت کے خلاف حکم نہ دے اس کی اطاعت کرتے رہیں، اطاعت کرتے رہیں، اطاعت کرتے رہیں اور بس ان کے ماتحت رہ کر مدنی کاموں کی دھوم مچاتے رہیں، دونوں جہاں میں بیڑا پار ہوگا۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد


Share

مرکزی مجلسِ شوریٰ

مولانا حافظ ظہور احمد سعیدی صاحب کی عیادت

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْم

سگِ مدینہ محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی عُفِیَ عَنْہُ کی جانب سے حضرت علّامہ مولانا حافظ ظہور احمد سعیدی صاحب! (خطیب و امام جامع مسجد احباب، ناظم آباد، باب المدینہ کراچی)

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ!

دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی محمد امین کے ذریعے آپ کی علالت کی اطلاع ملی اور یہ بتایا گیا کہ آپ جناح اسپتال میں ایڈمٹ ہیں اور انجیوگرافی (Angiography) ہونی ہے۔ اللہ کریم آپ کو شفائے کاملہ، عاجلہ، نافعہ عطا فرمائے۔ صحتوں، راحتوں، عافیتوں، دینی خدمتوں بھری طویل زندگی عطا فرمائے، مَا شَآءَ اللّٰہ 30سال سے آپ امامت و خطابت کے فرائض مسجدِ احباب میں سَر انجام دے رہے ہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو برکتیں اور برکتیں اور برکتیں عطا فرمائے، دونوں جہاں کی بھلائیاں آپ کا مقدر کرے۔ حضورِ والا! میری بےحساب مغفرت کی دعا فرمائیے گا۔ اللہ ربُّ العزت آپ کو خوش رکھے، ہمت رکھئے گا، لَابَاْسَ طَہُوْرٌ اِنْ شَآءَ اللہ، لَابَاْسَ طَہُوْرٌ اِنْ شَآءَ اللہ، لَابَاْسَ طَہُوْرٌ اِنْ شَآءَ اللہ۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

قَبْر کی پُکار

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْم

سگِ مدینہ محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی عُفِیَ عَنْہُ کی جانب سے منیب عطاری، حبیب عطاری!

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ!

خبر ملی کہ آپ کے والدِ محترم قمر زمان عطاری کا فالج اور برین ہیمرج کے بعد 9ذی القعدۃ الحرام 1439ہجری کو بعمر 50سال انتقال ہوگیا، اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ ۔میں تمام سوگواروں سے تعزیت کرتا ہوں، سب صَبْر کریں، ہمت رکھیں، مرحوم کے ایصالِ ثواب کیلئے حبیب بھائی اور منیب بھائی مدنی قافلے میں سفر کریں اور اس کا ثواب مرحوم کو ایصال کریں اور ہوسکے تو 2500 روپے کے مدنی رسائل مکتبۃُ المدینہ سے خرید کر تقسیم فرمائیں۔(اس کے بعد امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دُعا فرمائی اور مرحوم کے ایصالِ ثواب کیلئے، رسالہ ”نصیحتوں کے مدنی پھول“ سے یہ حدیثِ قدسی پڑھ کر سنائی:) اے ابنِ آدم! قبر ہر روز تجھ سے مخاطب ہوکر کہتی ہے: اے آدمی! (آج تو) تُو میرے اوپر (اکڑ اکڑ کر) چل رہا ہے لیکن (کل) تجھے میرے اندر غم سہنا ہوگا۔ میرے اوپر تو خواہشات تیری خوراک ہے لیکن میرے اندر تُو کیڑوں کی خوراک بنے گا، اے ابنِ آدم! میں وحشت کا گھر ہوں، میں آزمائش کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں اندھیرے کا گھر ہوں، میں سانپ اور بچھوؤں کا گھر ہوں لہٰذا مجھے آباد کر برباد نہ کر۔(نصیحتوں کے مدنی پھول، ص11،10)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حادِثے میں فوت ہونے والوں کے لئے دعائے عطّاؔر

پچھلے دنوں زَم زم نگر حیدرآباد سے بابُ المدینہ کراچی آنے والی ایک گاڑی کا ٹرک سے تصادم ہوگیا۔ جس میں میمن گوٹھ (اطراف ملیر بابُ المدینہ کراچی) کے ایک ہی خاندان کے کچھ افراد سمیت آٹھ افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوئے۔ شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے زخمی کے لئے دُعائے صحت اور مرحومین کیلئے دعائے مغفرت فرمائی اور لواحقین سے تعزیت بھی کی۔

تعزیت و عیادت کے مختلف پیغامات

شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے صُوری پیغامات (Video Messages) کے ذریعے٭مدنی چینل کے ڈائریکٹر شہزاد گھانچی سے ان کے10یا11ماہ کے مدنی منّے شیبان رضا (بلدیہ ٹاؤن بابُ المدینہ کراچی) اور ٭کامران و رضوان عطاری سے ان کے والدِ محترم کے انتقال کی خبر ملنے پر تعزیت فرمائی اور مسجد بنانے،تقسیمِ رسائل اور مدنی قافلے میں سفر کی ترغیب دلائی۔ جبکہ بذریعہ صَوتی پیغامات (Audio Message) ٭محمد یاسر عطاری سے ان کے والدِمحترم کی علالت اور ٭حاجی کریم رضا عطاری (بابُ المدینہ کراچی) سے ان کے بائیک ایکسیڈنٹ میں پاؤں کے فریکچر اور دیگر چوٹیں لگنے کی خبر ملنے پر ان سے عیادت فرمائی اور صبرو ہمت کی تلقین فرماتے ہوئے ان کی ڈھارس بندھائی اور خوب دعاؤں سے نوازا۔


Share

مرکزی مجلسِ شوریٰ

شیخِ طریقت  امیرِ اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارقادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بڑی بہن فاطمہ بنتِ حاجی عبدالرحمن(عرف فوئی ماں) طویل علالت کے بعد جمعۃ المبارک 26 ذوالحجۃ الحرام 1439ھ مطابق 7ستمبر 2018ء کو تقریباً 80برس کی عمر میں وصال فرماگئیں، اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ ۔شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی بہن کے بارے میں جن جذبات کا اظہار فرمایا ان کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے:

حالاتِ ہمشیرۂ عطار بزبانِ عطار میری عمر ڈیڑھ دو سال تھی جب والد صاحب حاجی عبدالرحمن قادری کا سایہ عاطفت اُٹھ گیا، تھوڑا جوان ہوا تو بڑے بھائی محترم عبدالغنی صاحب بھی ایک ٹرین حادثے میں انتقال فرماگئے۔میری ماں صالحہ اور پرہیزگار خاتون تھیں انہوں نے سخت ترین معاشی آزمائشوں کے باوجود ہماری تربیت اسلامی خطوط پر کی لیکن بڑے بھائی کی وفات کے تھوڑے عرصے بعد ہی مادرِ مشفقہ نے بھی سفرِ آخرت اختیار کرلیا۔اس غمناک موقع پر میں نے بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ایک استغاثہ لکھا:

میں ننھا تھا چلا والد، جوانی میں گیا بھائی

بہاریں بھی نہ دیکھی تھی چلی ماں یا رسول اللہ

ایسے اعصاب شِکن حالات میں بڑ ی بہن مرحومہ فاطمہ بنتِ حاجی عبدالرحمٰن جو مجھ سے سات سے دس سال بڑی تھیں بچپن میں بھی انہوں نے ہمیں سنبھالا، کھلایا پلایا،اٹھایا جوانی میں بھی سہارا بنی رہیں۔نہایت عقلمند خاتون تھیں۔ کسی بیماری کے باعث ان کا دَھڑ آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ گیا تھاجس کے سبب چلنے، پھرنے اور اُٹھنے سے معذور ہوگئیں لیکن اس کے باوجود گھر میں سب سے زیادہ فعّال (Active) یہی تھیں۔ حتیٰ کہ علالت سے قبل تک کھانا یہی پکاتی تھیں۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے ان کی بیماری میں اضافہ ہوتا چلاگیا۔ آخری ایام میں بیماری کا اس قدر غلبہ رہا کہ میں اُن سے ملنے جاتا تو پہچان نہ پاتیں اور جب بتانے پر پہچان لیتیں تو رونے لگتیں، آخری بار بھی جب ان سے ملنے گیا تو مجھے پہچان نہ پائیں، میں نے بھی اپنا تعارف نہ کروایا کیونکہ پتا چلنے پر رونے لگتیں جس سے مجھے صدمہ ہوتا۔سچی بات تو یہ ہے کہ ان کے بیمار ہونے کے بعد سے ہمارا گھر ویران سا ہوگیا۔ ان کے انتقال کے بعد میری بہو نے مجھے تحریری پیغام دیا کہ ’’بیماری کے باوجود وہ مجھ(یعنی میری بہو) پر بڑی شفقت کرتی تھیں، ان کے انتقال پر تو ہمارا گھر سونا سونا ہوگیا۔‘‘ چونکہ میں بھی ضعیف العمرہوں،میری ایک اور بڑی بہن ہیں وہ بھی ضعیف العمر اور میرے بچوں کی امی بھی ضعیف العمر ہی ہیں لہٰذا دیکھ بھال کے لئے مرحومہ بہن بیماری سے وصال تک حاجی عبید رضا کے گھر پر رہیں جہاں حاجی عبید رضا اور میری بہو نے جانی، مالی، علاج معالجہ اور ہر طرح سے ان کی خوب خدمت کی، تجہیز و تکفین کے آخری تمام مراحل بھی حاجی عبید رضا کے گھر پر ہوئے۔ جتنی خدمت میرے بیٹے عبید رضا نے کی ہے میں سمجھتا ہوں اس نے صلہ رحمی کا حق ادا کردیا۔ حاجی عبیدرضا کا بیان ہے: ”جب پھوپھی جان اسپتال میں تھی تو میں انہیں بارہااپنی پہچان کرواتا مگر وہ جواب نہ دیتیں لیکن جب ان کے سامنے یا سلامُ یا درودِ پاک پڑھتا تو ان کی طبیعت میں کچھ سکون محسوس کرتا۔“ ان کا مزید کہنا ہے کہ طبیعت بگڑنے پرجب اسپتال لے جانے لگے تو درود پاک پڑھا اور بے ہوش ہوگئیں اس کے بعد سے ان کی طبیعت سنبھل نہ پائی۔ بالآخر بروز جمعہ26 ذوالحجۃ الحرام 1439ھ مطابق 7 ستمبر 2018ء کو اسپتال ہی میں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئیں۔ بعدِ غسل ان کا چہرہ نہایت روشن، چمکدار اور پُر رونق ہوگیا تھا۔ (ماخوذ از مدنی مکالمہ،7 ستمبر 2018ء بعد نمازِ جنازہ ، مدنی مذاکرہ 9 ستمبر 2018ء) نمازِ جنازہ و تدفین مرحومہ کی نمازِ جنازہ 7 ستمبر 2018ء مطابق 27 ذوالحجۃ الحرام 1439ھ بروز جمعہ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی امامت میں ادا کی گئی جس میں بشمول اراکینِ شوریٰ، ہزاروں عاشقانِ رسول نے شرکت کی اور مرحومہ کو صحرائے مدینہ ٹول پلازہ باب المدینہ کراچی میں سپردِخاک کیا گیا۔ اجتماعاتِ ذکر و نعت بسلسلہ سوئم اور ایصالِ ثواب 9ستمبر بروز اتوار بعد نمازِ عشاء عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں اجتماعِ ذکر و نعت برائے سوئم کا سلسلہ ہوا جس میں قراٰن و نعت خوانی اور نگرانِ شوریٰ مولانا محمد عمران عطاری مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی کا سنّتوں بھرا بیان ہوا،شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے بھی مدنی پھول ارشاد فرمائے۔ ملک اور بیرونِ ملک مدارس و جامعات المدینہ،مدنی مراکز، اہلِ سنّت کی کئی دینی درس گاہوں اور مساجد میں مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لئے قراٰن وفاتحہ خوانی اورسنّتوں بھرے اجتماعات کا اہتمام کیا گیا جن میں عاشقانِ رسول کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ملک و بیرونِ ملک سے موصول ہونے والےایصالِ ثواب کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیے:٭قراٰنِ پاک:92لاکھ19ہزار700 ٭مختلف پارے:96 ہزار 6 سو 77 ٭درود شریف: 79ارب 10 کروڑ 36 لاکھ 58 ہزار 610 ٭حج و عمرہ کا ثواب:66 ٭طواف کا ثواب:28 ٭استغفار:3 کروڑ 15 لاکھ 44 ہزار 370 ٭آیتِ کریمہ:28 لاکھ 13 ہزار 523 ٭تسبیح فاطمہ:5 لاکھ 5 ہزار 657 ٭ذکر اللہ: 37 لاکھ 26 ہزار 264 ٭کلمہ طیبہ:1 کروڑ 77 لاکھ 82 ہزار 423 ٭آیۃ الکرسی:11 لاکھ 46 ہزار 802 ٭بسم اللہ شریف:2 لاکھ 75 ہزار 404 ٭سورۂ بقرہ:1 ہزار 167 ٭سورۂ یٰسین:4 لاکھ 1 ہزار 524 ٭سورۂ ملک:11 لاکھ 20 ہزار 929 ٭سورۂ رحمٰن:5 لاکھ 13 ہزار 676 ٭سورۂ واقعہ: 71 ہزار 120٭سورۂ مزمل:4 لاکھ 81 ہزار 76 ٭سورۂ اخلاص:12 لاکھ 11 ہزار 765 ٭سورۂ دخان: 1 ہزار 61 ٭سورۂ مدثر:1 لاکھ 9 ہزار 118٭چاروں قل شریف:29 لاکھ 8 ہزار 373 ٭سورۂ فاتحہ:93 لاکھ 49 ہزار 953 ٭دیگر سورتیں:7 لاکھ 86 ہزار 728 ٭متفرق رکوع:6 ہزار 107 ٭عمر بھر کی نیکیوں کا ثواب ایصال کرنے والے:1 لاکھ 13 ہزار 792 ٭مدنی قافلے کا ثواب:1 ہزار 151٭نفل روزوں کا ثواب: 22 ہزار 254 ٭نوافل:35 ہزار 811٭درود تاج: 9 ہزار 719نیز ٭10ستمبر 2018ء کو ہند اور نیپال کے مختلف جامعات المدینہ میں 1 ہزار 198 طلبہ، اساتذہ اور ناظمینِ کرام نے سنتِ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر عمل کرتے ہوئے پیر شریف کا روزہ رکھنے کی سعادت پائی اور اس کا ثواب ہمشیرۂ امیرِ اہلِ سنّت کو ایصال کیا۔علما و شخصیات کی جانب سے تعزیت ملک و بیرونِ ملک کے کثیر علماو مشائخ و شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات موصول ہوئے۔چند کے نام یہ ہیں: پاکستان: ٭جگر گوشہ غزالی زماں،سیّد مظہر سعید کاظمی شاہ صاحب (امیر جماعت اہل سنت پاکستان مدینۃالاولیاء ملتان) ٭ مفتی منیب الرحمٰن صاحب(چیئرمین رویت ہلال کمیٹی پاکستان) ٭ استاذ العلماء مفتی محمد ابراہیم قادری صاحب ( مہتمم جامعہ غوثیہ سکھر، باب الاسلام سندھ) ٭شیخ الحدیث مولانا مفتی فضل سبحان قادری صاحب (جامعہ قادریہ، مردان) ٭پیرزادہ حضرت مولانا رضا ثاقب مصطفائی صاحب(بانی ادارۃ المصطفیٰ انٹرنیشنل، گوجرانوالہ) ٭مولانا شاہ عبدالحق قادری صاحب (باب المدینہ) ٭مولانا سیّد مظفر حسین شاہ صاحب (خطیب جامع مسجد حبیبیہ مدنی (دھوراجی کالونی) باب المدینہ کراچی) ٭مصنف کُتُبِ کثیرہ مفتی رضاء المصطفیٰ ظَرِیفُ القادری صاحب (جامعہ قادریہ، گوجرانوالہ)٭مفتی محمد غفران سیالوی صاحب (راولپنڈی) ٭مولانا محمد عبدالحمید چشتی گولڑوی (خطیب اعظم ضیاء کوٹ) ٭استاذالعلماءمفتی گُل احمد عتیقی صاحب(شیخ الحدیث جامعہ رسولیہ شیرازیہ مرکزالاولیاء لاہور) ٭شیخ الحدیث حافظ عبدالستارسعیدی(جامعہ نظامیہ رضویہ مرکزالاولیاء لاہور)٭شہزادہ خلیلِ ملت مفتی احمدمیاں برکاتی(دارالعلوم احسن البرکات زم زم نگرحیدرآباد) ٭شیخ الحدیث مفتی محمداسماعیل ضیائی (دارالعلوم امجدیہ باب المدینہ کراچی) ٭علامہ مفتی ڈاکٹرمحمدظفراقبال جلالی (جامعہ اسلام آباد) ٭مفسرقرآن باباجی پیرابونصرمنظوراحمدشاہ (جامعہ فریدیہ ساہیوال) ٭صاحبزادہ ڈاکٹرمحمدمظہرفریدشاہ٭ حضرت صاحبزادہ پیر سلطان فیاض الحسن سروری قادری(زیب سجادہ حضرت سلطان باہوجھنگ) ٭مفتی رفیق الحسنی صاحب (مہتمم جامعہ اسلامیہ مدینۃ العلم باب المدینہ) ٭ مولانا مفتی محمدجان نعیمی صاحب (دارالعلوم مجددیہ نعیمیہ باب المدینہ) ٭مفتی رفیق عباسی صاحب ( مدرس دارالعلوم امجدیہ، باب المدینہ) ٭شیخ الحدیث حافظ محمد نذیر احمد گوندل صاحب(بانی و مہتمم الجامعہ اسلامیہ منڈی بہاؤالدین) ٭مفتی محمد عمر خلجی قادری صاحب(شیخ الحدیث جامعہ رکن الاسلام، زم زم نگر) ٭مفتی محمد چمن زمان نجم القادری صاحب (رئیس الجامعۃ العین، سکھر) ٭ مولانا صوفی رضا محمد عباسی صاحب (خطیب و امام جامع مصری شاہ مسجد،زم زم نگر) ٭شیخ الحدیث مولانا رضائے مصطفیٰ نقشبندی صاحب (پرنسپل جامعہ رسولیہ شیرازیہ رضویہ،مرکزالاولیاء لاہور) ٭مولانا مفتی محمد وسیم رضا صاحب ( چیئرمین علماء کونسل کشمیر) ٭مولانا حافظ نذر علی القادری صاحب(سبی بلوچستان) ٭مولانا علی عباس قادری صاحب (ناظم اعلی جامعہ عربیہ غوثیہ گجرات، پاکستان) ٭مولانا محمد اعظم قادری صاحب (مدرس جامعہ رضویہ مظہرالاسلام گلستان محدث اعظم پاکستان فیصل آباد) ہند: ٭استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی نظام الدین مصباحی صاحب (رئیس الافتاء جامعۃالاشرفیہ، مبارکپور) ٭حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب (مدرس جامعۃالاشرفیہ، مبارکپور) ٭حضرت مفتی نسیم مصباحی صاحب (جامعۃالاشرفیہ اعظم گڑھ، مبارکپور) ٭سرپرست دعوت اسلامی ہندحضرت مولانا مفتی عبد الحلیم رضوی اشرفی صاحب (بانی ادارہ جامعہ ضیائیہ فیض الرضا، بہار) ٭حضرت مولانا مفتی شمس الہُدٰی مصباحی صاحب (خلیفہ حضور تاج الشریعہ و خلیفہ حضور برہان ملت) ٭حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مکرم نقشبندی مجددی دہلوی صاحب (خطیب و امام شاہی فتحپوری مسجد، دہلی)٭مولانا محمد فاروق تیغی صاحب ( ناظم اعلیٰ مدرسہ اہل سنت فیض الرسول، کلکتہ) ٭حضرت علامہ مولانا محمد عبد الوکیل مصباحی صاحب ( صدر مدرس مدرسہ فیضان سرکار کلاں بیکانیر، راجستھان) ٭مفتی محمد صلاح الدین رضوی صاحب( صدر افتا مرکزی دارالعلوم عمادیہ پٹنہ سٹی، بہار) ٭مولانا مفتی انوارالحق رضوی صاحب (مہتمم مدرسہ غوثیہ برکاتیہ تعلیم النساء، بریلی شریف) ٭مولانا آصف مصباحی صاحب (مدرس الجامعۃ الرضویہ گلشن رسول، بریلی شریف)٭ مولانا حافظ محمد غلام جیلانی اشرفی صاحب ( خطیب و امام غریب نواز جامع مسجد لکچھمی نگر، دہلی) ٭مولاناسید اکرام الحق مصباحی صاحب (صدر مدرس دارالعلوم محبوب سبحانی، بمبئی) ٭حضرت مولانا مفتی منظر صاحب ( گھاتکپور، بمبئی) ٭علامہ سید محمد نذیر الدین میاں ہاشمی صاحب(قاضی داہود، گجرات) ٭مولانا محمد ابرار عالم مصباحی صاحب (خطیب و امام رجب علی گھاٹ سارنگ مسجد، کلکتہ) ٭علامہ حافظ سعید اشرفی صاحب(بانی و مہتمم مدرسہ فیضان اشرف باسنی ناگور، راجستھان) ٭مولانا محمد ممتاز احمد نعیمی صاحب ( خطیب و امام رضا جامع مسجد بیکانیر، راجستھان) ٭مولانا محمد رضوان مصباحی صاحب (خطیب و امام مدینہ مسجد کمر ہٹی، کلکتہ ہند)٭مفتی محمد منظر حسن اشرفی صاحب ( مہتمم دارالعلوم حجازیہ چشتیہ گھاٹ کوپر ویسٹ، ممبئی ہند) ٭ علامہ مولانا مفتی محمد جمیل رضوی صاحب (مہتمم مدرسہ جامع رضا پٹنہ، بہار)دیگر ممالک: ٭مفتی محمد عباس رضوی صاحب (دبئی) ٭مولانا سید اسد علی شاہ گیلانی ( مذہبی اسکالر، برطانیہ)۔


Share

Articles

Comments


Security Code